ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار کے مطابق امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے
بعد ایران جنگ میں پھر سے آنے والی ممکنہ شدت کو روکنے کی خاطر بھرپور سفارتی کوششوں کے باوجود ایران اور امریکہ کسی
امن ڈیل تک پہنچنے سے تاحال بہت دور ہیں۔ متحدہ
عرب امارات میں دبئی سے منگل تین نومبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکہ میں آج
ہونے والے مڈٹرم الیکشن کے تناظر میں تہران اور واشنگٹن دونوں ہی کی گزشتہ چند
ہفتوں سے کوشش تھی کہ وہ ثالثوں کے ذریعے اپنی بہت بھرپور ہو چکی سفارتی کوششوں کے
نتیجے میں کسی ایسی ڈیل تک پہنچ سکیں، جس کی بنیاد پر اس امکان کو روکا جا سکے کہ
وسط مدتی امریکی انتخابات کے بعد ایران جنگ ایک بار پھر شدید مسلح رخ اختیار کر لے۔
اس تناظر میں ایک اعلیٰ ایرانی اہلکار نے منگل کے روز نیوز ایجنسی
روئٹرز کو بتایا کہ آپس کے مسلسل بالواسطہ سفارتی رابطوں کے باوجود ایران اور امریکہ ابھی تک جنگ کے باقاعدہ خاتمے اور کسی امن ڈیل کے طے پا جانے
کی منزل سے بہت دور ہیں۔ ایران
کے سپریم لیڈر نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے دوبارہ حملے کیے تو
ایران ان کے خاتمے کے وقت اور طریقہ کار کا خود تعین کرے گا۔
ایران جنگ کے طویل ہونے سے یورپی بیئر ساز کمپنیاں مشکل میں
امریکی فوجی ذرائع کے مطابق امریکہ نے پیر اور منگل کی درمیانی رات
ایرانی جزیرے قشم پر ’دفاعی‘ نوعیت کے نئے فضائی حملے کیے، جس دوران تہران کے زمین
سے فضا میں مار کرنے والے ان میزائلوں کو ہدف بنایا گیا، جو امریکی اثاثوں کو
نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ اسی
دوران ایران کی پاسداران انقلاب کور کی طرف سے بھی بتایا گیا کہ اس کے اہلکاروں نے
گزشتہ رات آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے کی فضا میں امریکہ کا ایک ایم کیو نائن طرز
کا ڈرون مار گرایا۔ ایران
کے جس اعلیٰ اہلکار نے روئٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایرانی امریکی مذاکرتی عمل
کے بارے میں تفصیلات بتائیں، انہوں نے ایسا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر
کیا۔
اس اہلکار کے بقول تہران اور واشنگٹن گزشتہ آٹھ
دنوں سے ایک ایرانی امریکی ڈیل کے مسودے پر بات چیت کر رہے ہیں، اور گزشتہ رات
خلیجی ریاست قطر کے ثالثی نمائندے اس لیے ایک بار پھر تہران روانہ
ہو گئے کہ وہاں ایرانی قیادت سے مجوزہ امن ڈیل کے بارے میں مزید بات چیت کر سکیں۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر
امریکہ نے دوبارہ فوجی کارروائی کی تو جنگ ایک وسیع جغرافیائی علاقے کو اپنی لپیٹ
میں لے سکتی ہے۔ اس
سینئر ایرانی اہلکار کے الفاظ میں، ’’ثالثی نمائندے تہران اور واشنگٹن کے مابین
فاصلے کم کرنے کی مسلسل کوششیں کر رہے ہیں۔‘‘ روئٹرز
کے مطابق ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور تہران حکومت کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار محمد
باقر قالیباف نے منگل تین نومبر کے روز کہا تہران نے واشنگٹن کو ایک
’’مضبوط اور منطقی جواب‘‘
دے دیا ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کی باری اب امریکہ کی
ہے۔