لندن: برطانوی حکومت نے تارکین وطن کو مستقل رہائش دینے کے نظام میں بڑی تبدیلیوں
کا اعلان کرتے ہوئے عام درخواست گزاروں کیلئے مطلوبہ مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال
کرنے کی پالیسی پیش کردی ہے۔ نئے نظام کے تحت برطانیہ میں مستقل رہائش کا حق صرف قیام کی مدت پوری ہونے
پر نہیں ملے گا بلکہ درخواست گزار کی آمدن، ملازمت، ٹیکس کی ادائیگی، انگریزی زبان پر عبور اور قانونی ریکارڈ کو بھی اہمیت دی جائے گی۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کی جانب سے 2 نومبر کو جاری سرکاری بیان کے
مطابق وزیر داخلہ شبانہ محمود نے پارلیمنٹ میں نئے نظام کی تفصیلات پیش کیں، جسے ارنڈ سیٹلمنٹ (Earned Settlement) کا نام دیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مستقل
رہائش یعنی انڈیفینیٹ لیو ٹو ریمین (ILR)
اب محض برطانیہ میں مخصوص
مدت گزارنے کی بنیاد پر تقریباً خودکار طریقے سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس کیلئے ملک
میں مثبت کردار اور طے شدہ شرائط پوری کرنا ضروری ہوگا۔
عام تارکین وطن کیلئے مستقل رہائش کی مدت 10 سال
برطانوی حکومت کے مطابق زیادہ تر تارکین وطن کیلئے مستقل رہائش حاصل
کرنے کی بنیادی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال مقرر کی جارہی ہے۔ اس تبدیلی کا اطلاق
ان افراد کے راستوں پر ہوگا جنہیں نئی پالیسی کے تحت کسی خصوصی رعایت کا حق حاصل
نہیں ہوگا، خصوصاً ایسے ملازمین جن کی سالانہ آمدن 50 ہزار پاؤنڈ سے کم ہے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایسے افراد کو مستقل
رہائش کی اہلیت حاصل کرنے تک اپنے عارضی ویزوں کی تجدید کا موقع دیا جائے گا،
بشرطیکہ وہ متعلقہ امیگریشن شرائط پوری کرتے رہیں۔ برطانوی وزارتِ داخلہ کے اندازے
کے مطابق 5 لاکھ سے زیادہ افراد کو مستقل رہائش کیلئے موجودہ 5 سالہ مدت سے زیادہ
انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔
زیادہ تنخواہ والوں اور ڈاکٹروں، نرسوں اور اساتذہ کیلئے رعایت
نئے
نظام میں زیادہ آمدن والے افراد اور بعض اہم شعبوں میں خدمات انجام دینے والے
ملازمین کیلئے مستقل رہائش کا نسبتاً مختصر راستہ برقرار رکھا جائے گا۔ حکومتی پریس ریلیز کے مطابق سالانہ 50 ہزار 271
پاؤنڈ سے زیادہ کمانے والے افراد، ڈاکٹروں، نرسوں اور اساتذہ سمیت بعض اہل ملازمین
5 سال بعد مستقل رہائش کیلئے درخواست دے سکیں گے۔ اسی طرح سب سے زیادہ آمدن رکھنے
والے بعض افراد اور مخصوص اعلیٰ صلاحیت والے ویزا پروگراموں کے تحت آنے والوں
کیلئے 3 سال کا راستہ بھی دستیاب ہوگا۔ تاہم صرف زیادہ تنخواہ ہونا کافی نہیں
ہوگا؛ مستقل رہائش کیلئے دیگر بنیادی قانونی اور انتظامی شرائط بھی پوری کرنا ہوں
گی۔
کیئر ورکرز کیلئے اہم رعایت، بعض افراد کو مزید موقع ملے گا
برطانیہ میں کام کرنے والے غیرملکی کیئر ورکرز کیلئے بھی حکومت نے
خصوصی انتظامات کا اعلان کیا ہے۔ وزیر داخلہ شبانہ محمود کے مطابق وہ کیئر ورکرز
جو مئی 2025 سے پہلے متعلقہ راستے کے تحت آئے، اپنے ویزے کی شرائط پوری کرتے رہے
اور سالانہ کم از کم 25 ہزار پاؤنڈ کماتے رہے، انہیں موجودہ 5 سالہ راستے کے تحت
مستقل رہائش کا موقع دیا جائے گا۔ ایسے
کیئر ورکرز جو مطلوبہ شرائط پوری نہیں کرسکے، انہیں مخصوص حالات میں مزید 5 سال کے
ویزے کے ذریعے اپنی اہلیت ثابت کرنے کا دوسرا موقع مل سکے گا۔ حکومت کے مطابق یہ
عبوری سہولت ان کارکنوں کو بھی تحفظ دینے کیلئے متعارف کرائی گئی ہے جو غیرذمہ دار
یا استحصالی آجرین کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہوئے۔
غیرقانونی طریقے سے آنے والوں کو 30 سال تک انتظار کرنا پڑسکتا ہے
برطانوی حکومت نے غیرقانونی طریقوں سے ملک میں داخل ہونے والے افراد
کیلئے مستقل رہائش کا راستہ مزید طویل بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ نئی پالیسی کے مطابق محفوظ اور قانونی حکومتی
راستوں سے آنے والے اہل پناہ گزینوں کیلئے 5 سال کی مدت برقرار رکھی جائے گی۔ دیگر
پناہ گزینوں کیلئے بنیادی مدت 20 سال ہوسکتی ہے، جبکہ چھوٹی کشتیوں یا دوسرے خفیہ
اور غیرقانونی طریقوں سے برطانیہ پہنچنے والوں کیلئے مزید 10 سال کا اضافہ کیا
جاسکتا ہے۔ اس طرح بعض افراد کو مستقل رہائش کیلئے مجموعی طور پر 30 سال تک انتظار
کرنا پڑسکتا ہے۔حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ بعض پناہ گزین
ملازمت یا تعلیم کے ذریعے اپنی اہلیت بہتر بنا کر نسبتاً جلد مستقل رہائش حاصل کرسکیں
گے۔
انگریزی زبان، ٹیکس اور قانونی ریکارڈ کی سخت شرائط
مستقل
رہائش کیلئے درخواست دینے والوں کو انگریزی زبان کے اعلیٰ معیار پر پورا اترنا
ہوگا، جسے حکومت نے اے لیول کے مساوی معیار سے تعبیر کیا ہے۔ اس کے علاوہ درخواست گزار کے مجرمانہ ریکارڈ، برطانوی حکومت کے واجب
الادا قرضوں اور نیشنل انشورنس کی ادائیگی کے تسلسل کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
وزیر داخلہ کے پارلیمانی بیان کے مطابق درخواست گزار کیلئے 3 سال کی نیشنل انشورنس
کنٹری بیوشنز کا ریکارڈ بنیادی شرائط میں شامل ہوگا۔ امیگریشن قواعد کی خلاف ورزی
کرنے والے بعض افراد کیلئے مستقل رہائش کی مدت 20 سال تک بڑھائی جاسکتی ہے، جبکہ
سرکاری مراعات حاصل کرنے والوں کو درخواست سے قبل مسلسل 5 سال تک ایسی مراعات پر
انحصار نہ کرنے کی شرط پوری کرنا ہوگی۔
پہلے سے مستقل رہائش رکھنے والوں کا اسٹیٹس برقرار رہے گا
برطانوی
حکومت نے واضح کیا ہے کہ جن افراد کو پہلے ہی مستقل رہائش یعنی سیٹلڈ اسٹیٹس حاصل
ہوچکا ہے، ان سے یہ حیثیت واپس نہیں لی جائے گی۔ اسی طرح برطانوی شہریوں کے اہل
خاندان، ہانگ کانگ کے برٹش نیشنل اوورسیز ویزا ہولڈرز اور مسلح افواج سے متعلق بعض
زمروں کیلئے موجودہ راستے برقرار رہیں گے۔ حکومت کے مطابق نئے نظام میں مستقل رہائش کی اہلیت کا فیصلہ درخواست
کے وقت نافذ قواعد کے مطابق ہوگا، نہ کہ لازماً ان قواعد کے مطابق جو کسی شخص کی
پہلی بار برطانیہ آمد کے وقت موجود تھے۔
پاکستانی تارکین وطن پر کیا اثر پڑے گا؟
برطانیہ میں کام کرنے والے پاکستانی شہری بھی ان تبدیلیوں سے متاثر
ہوسکتے ہیں، خصوصاً وہ افراد جو ورک ویزے پر مقیم ہیں اور مستقبل میں مستقل رہائش
کیلئے درخواست دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم ہر پاکستانی شہری پر یکساں مدت لاگو نہیں ہوگی۔ درخواست گزار کے
ویزا زمرے، آمدن، ملازمت، برطانیہ آمد کی تاریخ اور عبوری تحفظ کی اہلیت کے مطابق
مستقل رہائش کا راستہ مختلف ہوسکتا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ حکومت کے اعلان اور
متعلقہ امیگریشن قواعد کے باضابطہ نفاذ میں فرق ہوتا ہے۔ درخواست گزاروں کو اپنے
مخصوص ویزا زمرے کیلئے جاری ہونے والے حتمی قواعد اور سرکاری رہنمائی دیکھنی
چاہیے۔ برطانوی حکومت کا مؤقف ہے کہ نئے نظام سے ایسے افراد کو ترجیح ملے گی جو
برطانوی معیشت اور عوامی خدمات میں زیادہ حصہ ڈالتے ہیں، جبکہ امیگریشن قواعد کی
خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے مستقل رہائش حاصل کرنا مزید مشکل ہوجائے گا۔