عام طور پر انسانی جسم کا نارمل درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ سمجھا
جاتا ہے اور اس سے زیادہ درجہ حرارت کو بخار کی علامت تصور کیا جاتا ہے لیکن نئی
سائنسی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ انسانی جسم کا اوسط درجہ حرارت گزشتہ 150 برس
میں بتدریج کم ہوا ہے۔ تحقیقی
نتائج کے مطابق آج ایک عام بالغ انسان کے جسم کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 36.4
ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہو سکتا ہے جو روایتی طور پر تسلیم کیے جانے والے 37 ڈگری
سینٹی گریڈ سے کم ہے۔ سائنسدان
اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آخر انسانی جسم کے درجہ حرارت میں یہ تبدیلی
کیوں آئی؟ کیا اس کی وجہ بہتر صحت، بدلتا ہوا طرز زندگی اور جدید سہولتیں ہیں یا
ماضی میں درجہ حرارت ناپنے کے طریقوں میں کوئی خامی تھی؟
انسانی جسم کا نارمل درجہ حرارت 37 ڈگری کیسے مقرر
ہوا؟
انیسویں صدی میں جرمنی کے ایک معالج کارل وونڈرلیخ (Carl
Wunderlich) کے سامنے ایک اہم طبی سوال تھا کہ آیا بخار بذات خود ایک بیماری ہے
یا کسی دوسری بیماری کی علامت؟ اس
زمانے میں جسم کا درجہ حرارت ناپنے کے لیے تھرمامیٹر کا معمول کے مطابق استعمال
نہیں ہوتا تھا۔ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے وونڈرلیخ نے تقریباً 15 برس تک
تحقیق کی اور 25 ہزار مریضوں کے جسمانی درجہ حرارت کی پیمائش کی۔ اس تحقیق میں مختلف عمروں کے مردوں اور خواتین کو
شامل کیا گیا اور مجموعی طور پر 10 لاکھ سے زائد مرتبہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا۔
اس وسیع تحقیق کی بنیاد پر انہوں نے صحت مند بالغ افراد کے جسم کا
اوسط درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ (98.6 ڈگری فارن ہائٹ) مقرر کیا۔ ان کے مطابق
اگر جسم کا درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ (100.4 ڈگری فارن ہائٹ) سے بڑھ جائے تو
اسے بخار سمجھا جا سکتا ہے۔ بعد
ازاں 37 ڈگری سینٹی گریڈ کا یہ پیمانہ دنیا بھر میں انسانی جسم کے نارمل درجہ
حرارت کی شناخت اور بخار کی تشخیص کے لیے معروف ہو گیا۔ یونیورسٹی
آف میری لینڈ سے وابستہ طبی تاریخ کے ماہر اور متعدی امراض کے ماہر فلپ میکویوک (Philip Mikoyuk) کے
مطابق اگرچہ اس سے پہلے بھی بعض محققین تقریباً اسی نتیجے پر پہنچ چکے تھے لیکن
وونڈرلیخ کے جمع کردہ اعدادوشمار اتنے وسیع تھے کہ ان کا طے کردہ پیمانہ ایک عالمی
طبی معیار کی حیثیت اختیار کر گیا۔
ڈیڑھ سو برس میں انسانی جسم ٹھنڈا کیوں ہوگیا؟
اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ متعدی امراض کی ماہر جولی پارسنٹ کے
مطابق وونڈرلیخ (Carl
Wunderlich) نے انسانی جسم
کے درجہ حرارت میں قدرتی تبدیلیوں سے متعلق بہت سی اہم باتیں دریافت کی تھیں۔ ان کی تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ
خواتین کے جسم کا درجہ حرارت مردوں کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہوتا ہے عمر بڑھنے کے
ساتھ جسمانی درجہ حرارت کم ہوتا ہے اور دن کے مختلف اوقات میں بھی اس میں تبدیلی
آتی رہتی ہے۔ تاہم بعد کی تحقیقات سے معلوم
ہوا کہ آج کے انسان کا جسم ڈیڑھ سو برس پہلے رہنے والے انسانوں کے مقابلے میں
نسبتاً ٹھنڈا ہے۔
مثال کے طور پر امریکا میں مردوں کے جسم کا اوسط درجہ حرارت انیسویں
صدی کے ابتدائی حصے کے مقابلے میں تقریباً 0.59 ڈگری سینٹی گریڈ کم ہو چکا ہے۔ تقریباً ایک دہائی قبل جولی پارسنٹ (Julie Parsonnet) اور
ان کی ٹیم نے امریکا میں 1862 سے 2017 کے دوران تقریباً ایک لاکھ 90 ہزار افراد کے
جسمانی درجہ حرارت سے متعلق تین بڑے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کیا۔ اس
تحقیق کے مطابق آج بالغ افراد کے جسم کا اوسط درجہ حرارت تقریباً 97.5 ڈگری فارن
ہائٹ یعنی 36.39 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہے۔ اس
کے بعد ہونے والی متعدد تحقیقات میں بھی اس رجحان کی تائید ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جسمانی درجہ حرارت میں کمی کا
یہ رجحان صرف ترقی یافتہ ممالک تک محدود نہیں۔ سوئٹزرلینڈ
کی زیورخ یونیورسٹی سے وابستہ حیاتیاتی بشریات کے محقق ایڈرین جیگی کے مطابق
ایمیزون کے جنگلات میں رہنے والی نیم خانہ بدوش مقامی آبادی ’تسی مانے Tsimané)‘
کے افراد کے جسم کا اوسط درجہ حرارت 2000 کی دہائی کے آغاز میں تقریباً 37 ڈگری
سینٹی گریڈ تھا، لیکن 2018 تک یہ کم ہو کر تقریباً 36.5 ڈگری سینٹی گریڈ رہ گیا۔ محققین کے مطابق اس عرصے میں اس آبادی کے طرز زندگی
اور سماجی و معاشی حالات میں تیزی سے تبدیلی آئی تھی۔
بہتر صحت اور جدید طرز زندگی کا کیا کردار ہے؟
سائنسدانوں کے پاس انسانی جسم کے اوسط درجہ حرارت میں کمی کی کئی
ممکنہ وجوہات ہیں۔ جولی
پارسنٹ (Julie
Parsonnet) کے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ مجموعی طور پر انسانی صحت میں بہتری
ہے۔ ان کے مطابق وونڈرلیخ (Wunderlich) کے
زمانے میں انسانوں کی اوسط متوقع عمر تقریباً 38 برس تھی، جب کہ آج یہ تقریباً
دوگنی ہو چکی ہے۔ وہ
کہتی ہیں کہ ماضی میں لوگوں کو تپ دق، دانتوں کی سنگین بیماریوں، پیچش، ریمیٹک
بخار اور ہڈیوں کے انفیکشن جیسی بیماریوں کا سامنا رہتا تھا۔ ایسی
بیماریوں سے لڑنے کے لیے جسم کا مدافعتی نظام زیادہ توانائی استعمال کرتا ہے اور
توانائی کے استعمال سے حرارت بھی پیدا ہوتی ہے۔ ان
کے مطابق جب جسم مسلسل انفیکشن اور بیماریوں سے لڑ رہا ہو تو اس کی توانائی کی
ضرورت بڑھ جاتی ہے، جس سے جسمانی درجہ حرارت بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ اسی طرح ایمیزون کے جنگلات میں رہنے والی تسی مانے
آبادی میں ویکسینیشن، صفائی ستھرائی اور صحت کی سہولتوں میں بہتری نے بھی لوگوں کی
صحت پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔
محقق ایڈرین جیگی کے مطابق اب وہاں بیت الخلا کا استعمال اور جوتے
پہننے کا رواج بھی پہلے کے مقابلے میں بڑھا ہے۔ اس سے آلودہ زمین پر ننگے پاؤں
چلنے کے باعث ہونے والے ہک ورم جیسے کیڑوں کے انفیکشن میں کمی آئی ہے۔ ماہرین ایک اور اہم وجہ جدید گھروں میں درجہ حرارت
کو قابو میں رکھنے کی سہولت کو بھی قرار دیتے ہیں۔ آج
امریکا کے کم از کم 88 فیصد گھروں میں ایئر کنڈیشننگ کی سہولت موجود ہے جب کہ
برطانیہ میں بھی تقریباً اتنے ہی گھروں میں مرکزی حرارتی نظام نصب ہے۔ جولی پارسنٹ کے مطابق اب ہماری زندگی کا بڑا حصہ
ایسے ماحول میں گزرتا ہے جہاں نہ جسم کو خود کو گرم رکھنے کے لیے زیادہ توانائی
خرچ کرنا پڑتی ہے اور نہ ہی ٹھنڈا رکھنے کے لیے اضافی محنت کرنا ہوتی ہے۔ سائنس کی زبان میں اسے ’تھرمل نیوٹرل زون‘ کہا جاتا
ہے، یعنی ایسا ماحول جہاں جسم اپنا درجہ حرارت برقرار رکھنے کے لیے اضافی توانائی
استعمال نہیں کرتا۔
کیا ماضی میں درجہ حرارت ناپنے میں غلطی ہوئی تھی؟
تاہم تمام سائنسدان اس بات سے متفق نہیں کہ جسمانی درجہ حرارت میں
کمی کی واحد وجہ بہتر صحت اور بدلتا ہوا طرز زندگی ہے۔ طبی
تاریخ کے ماہر فلپ میکویوک (Philip Mikoyuk) کا
خیال ہے کہ اس فرق کی ایک وجہ ماضی میں استعمال ہونے والے تھرمامیٹرز کی پیمائش
میں خامی بھی ہو سکتی ہے۔ ان
کے مطابق جب انہیں وونڈرلیخ کے زمانے کا ایک شیشے کا تھرمامیٹر دیکھنے کا موقع ملا
تو انہوں نے محسوس کیا کہ اس کی پیمائش کا پیمانہ جدید تھرمامیٹرز کے مقابلے میں
تقریباً 2 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔ اس
کا مطلب یہ تھا کہ اس تھرمامیٹر سے حاصل ہونے والی ریڈنگ حقیقی درجہ حرارت سے
زیادہ ظاہر ہو سکتی تھی۔ میکویوک
(Philip
Mikoyuk) کے مطابق اس زمانے میں جسم کا درجہ حرارت ناپنا آج کی طرح آسان نہیں
تھا۔ پارے والے شیشے کے تھرمامیٹر تقریباً ایک فٹ لمبے ہوتے تھے اور انہیں استعمال
کرنے سے پہلے ابلتے پانی اور پگھلتی برف جیسے مقررہ درجہ حرارت کے ذریعے درست
پیمائش کے لیے تیار کرنا پڑتا تھا۔ اس
کے علاوہ مریض کو 15 سے 20 منٹ تک خاموشی سے لیٹے رہنا پڑتا تھا کیونکہ اس وقت کے
تھرمامیٹر کو درجہ حرارت ظاہر کرنے میں خاصا وقت لگتا تھا۔ ایک
اور فرق یہ تھا کہ وونڈرلیخ (Wunderlich) نے بغل میں
تھرمامیٹر رکھ کر درجہ حرارت ناپا تھا جب کہ آج عام طور پر منہ کے ذریعے درجہ
حرارت ناپنے کا طریقہ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے دونوں ادوار کی پیمائش کا
براہ راست موازنہ کرنا آسان نہیں۔
جسم کا درجہ حرارت کن 4 عوامل سے متاثر ہوتا ہے؟
ماہرین کے مطابق کسی بھی شخص کے جسم کا درجہ حرارت مستقل نہیں رہتا
بلکہ عمر، جنس، دن کے وقت اور جسمانی ساخت سمیت کئی عوامل اس پر اثر انداز ہوتے
ہیں۔ عمر: عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کا
درجہ حرارت عموماً کم ہوتا جاتا ہے۔ ویسٹ ورجینیا یونیورسٹی سے وابستہ متعدی امراض
کے ماہر ولید جاوید کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے
اور جسمانی سرگرمی بھی کم ہو جاتی ہے، جس سے توانائی کا استعمال اور حرارت کی
پیداوار متاثر ہوتی ہے۔
جنس: عام طور پر خواتین کے جسم کا درجہ حرارت مردوں کے مقابلے میں
قدرے زیادہ ہوتا ہے۔ جولی پارسنٹ کے مطابق یہ فرق بڑی عمر کی خواتین میں بھی دیکھا
گیا ہے، تاہم سائنسدان ابھی تک اس کی مکمل وجہ نہیں جان سکے۔
دن کا وقت: جسم کا درجہ حرارت دن بھر ایک جیسا نہیں رہتا بلکہ اس میں
قدرتی تبدیلی آتی ہے۔ بوسٹن چلڈرنز ہسپتال اور میساچوسٹس جنرل ہسپتال سے وابستہ
ماہرِ امراضِ جوڑ جوناتھن ہاؤس مین کی تحقیق کے مطابق صبح 3 سے 5 بجے کے درمیان
جسم کا درجہ حرارت کم ترین سطح پر ہوتا ہے جب کہ شام 4 سے 6 بجے کے درمیان یہ
عموماً بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے۔ اس کی ایک ممکنہ وجہ دن کے وقت جسمانی
سرگرمی میں اضافہ ہے۔
قد اور وزن: جسمانی ساخت بھی درجہ حرارت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ جولی
پارسنٹ کے مطابق زیادہ قد والے افراد کے جسم کی سطح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے جس کے
باعث حرارت کے اخراج کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اس کے برعکس وزن زیادہ ہونے سے جسم کا
درجہ حرارت معمولی حد تک بڑھ سکتا ہے۔
کیا 37 ڈگری سینٹی گریڈ کا معیار بدلنے کی ضرورت
ہے؟
جولی پارسنٹ (Julie
Parsonnet) اور
ان کی ٹیم نے پرانے تھرمامیٹرز کی پیمائش میں ممکنہ خامیوں کے باوجود اپنے نتائج
کا دفاع کیا ہے۔ انہوں
نے 1862 سے 1930 کے دوران امریکی خانہ جنگی میں خدمات انجام دینے والے فوجیوں کے
جسمانی درجہ حرارت کے ریکارڈ کا تجزیہ کیا۔ اس میں بھی معلوم ہوا کہ پہلے پیدا
ہونے والے افراد کا اوسط جسمانی درجہ حرارت بعد کے برسوں میں پیدا ہونے والوں کے
مقابلے میں زیادہ تھا۔ ان
کے مطابق چونکہ مختلف ادوار میں پیدا ہونے والے افراد کا ایک ہی زمانے میں درجہ
حرارت ناپا گیا تھا، اس لیے تھرمامیٹر کی پیمائش میں فرق اور عمر یا پیدائش کے سال
کے اثرات کو الگ الگ سمجھنا ممکن ہوا۔
تحقیق کاروں نے 1971 سے 2017 کے دوران جمع کیے گئے دو مزید ڈیٹا سیٹس
کا جائزہ بھی لیا، جن میں نسبتاً جدید اور یکساں پیمائش کرنے والے تھرمامیٹر
استعمال کیے گئے تھے۔ ان نتائج میں بھی جسمانی درجہ حرارت میں کمی کا رجحان سامنے
آیا۔ ان نتائج کے بعد بعض مستند طبی
حوالہ جاتی ذرائع نے بھی 37 ڈگری سینٹی گریڈ کو ہر انسان کے لیے لازمی نارمل درجہ
حرارت سمجھنے کے تصور پر نظرثانی کی ہے۔ ان میں طب کی معروف کتاب ’ہیریسنز پرنسپلز
آف انٹرنل میڈیسن‘ اور طبی معلومات کا آن لائن ذخیرہ ’اپ ٹو ڈیٹ‘ بھی شامل ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ایک عدد کو انسانی
صحت کا حتمی پیمانہ نہیں سمجھنا چاہیے کیونکہ جسمانی درجہ حرارت میں معمولی فرق
لازماً بیماری کی علامت نہیں ہوتا۔ محقق
ایڈرین جیگی کے مطابق 36.99 اور 37.01 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان کوئی ایسا
غیرمعمولی فرق نہیں جس کی بنیاد پر کسی شخص کی صحت کے بارے میں یکسر مختلف نتیجہ
اخذ کیا جائے۔ البتہ بالغ افراد میں جسم کا
درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم یا 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ہو جائے تو
یہ کسی سنگین طبی مسئلے کی علامت ہو سکتا ہے اور ایسی صورت میں طبی توجہ حاصل کرنا
ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تحقیق کا
بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسانی جسم کا نارمل درجہ حرارت ہر شخص کے لیے یکساں نہیں
ہوتا اور وقت کے ساتھ اس میں تبدیلی بھی آ سکتی ہے۔ اس لیے صحت کا جائزہ لیتے ہوئے
صرف تھرمامیٹر پر آنے والے ایک عدد کے بجائے دیگر علامات اور مجموعی طبی کیفیت کو
بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔