فرانس کے دارالحکومت پیرس میں 1800 میں خواتین کے لیے پتلون پہننے پر
پابندی عائد کردی گئی تھی لیکن اس کے باوجود متعدد خواتین نے اس قانون اور معاشرتی
پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے مردانہ لباس پہننے اور بعض صورتوں میں مردوں کی طرح
زندگی گزارنے کا راستہ اختیار کیا۔ ان خواتین کی جدوجہد محض لباس کے انتخاب تک
محدود نہیں تھی بلکہ یہ اپنی شناخت، آزادی اور مساوی حقوق کے لیے ایک خاموش بغاوت
بھی تھی۔
فرانسیسی انقلاب (1789ء سے 1799ء) کے دوران پیرس کی متعدد خواتین مرد
مظاہرین کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں اور رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے مردانہ لباس، خصوصاً
پتلون پہننے لگیں۔ ان خواتین کی خواہش تھی کہ انہیں بھی مردوں کے برابر آزادی اور
حقوق حاصل ہوں۔ خواتین کے حقوق کے اسی مطالبے کا اظہار ’اعلامیہ حقوقِ خواتین‘ میں
بھی کیا گیا، جس کی مصنفہ اولمپ دے گوژ (Olympe de
Gouges) کو 1793 ء
میں سزائے موت دے دی گئی۔ انہیں ایک ’غیر فطری‘ عورت قرار دیا گیا تھا۔ 1800ء میں پیرس میں خواتین کے پتلون پہننے پر
پابندی عائد کردی گئی۔
پیرس کے پالے گالیئرا (Palé Galiera) میوزیم
میں منعقدہ نمائش ’اے وارڈروب آف ونز اون“A
Wardrobe of One’s Own” : ڈسڈنٹ فیمینینٹیز اِن دیth 19سنچری “Dissenting Feminisms in the 19th Century”‘
کی منتظم میرین کزیئل (Mairin
Kiziel) کے
مطابق اس پابندی کا مقصد اس دور کو ختم کرنا تھا جب خواتین اپنے حقوق کا مطالبہ
کررہی تھیں اور معاشرتی و سیاسی زندگی میں مردوں کے برابر حصہ لینا چاہتی تھیں۔ 19ویں صدی کے فرانس میں خواتین سے توقع کی جاتی تھی
کہ وہ بیوی اور ماں کے روایتی کردار تک محدود رہیں۔ ان کی شخصیت کا تعین ان کے
لباس اور نسوانی وضع قطع سے کیا جاتا تھا، جبکہ مصور اور شاعر بھی انہیں اسی
روایتی تصور کے مطابق پیش کرتے تھے۔ تاہم
بہت سی خواتین نے ان پابندیوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ خصوصاً 19ویں صدی کے
اختتام اور 20ویں صدی کے آغاز میں جب حقوقِ نسواں کی پہلی تحریک اور پیرس میں ہم
جنس پرست خواتین کی بڑھتی ہوئی ذیلی ثقافت ایک دوسرے کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھیں،
مردانہ لباس اختیار کرنے والی خواتین کی تعداد اور نمایاں حیثیت میں اضافہ ہوا۔
مردانہ لباس پہننے کا حق خواتین کی آزادی کی تاریخ کا ایک ایسا باب
ہے جسے نسبتاً کم توجہ ملی۔ اس لباس نے خواتین کو ان شعبوں اور مقامات تک رسائی
حاصل کرنے میں مدد دی جہاں پہلے ان کا داخلہ ممنوع یا محدود تھا۔ بعض خواتین نے
اسے تعلیم اور پیشہ ورانہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے اپنایا تو بعض کے لیے یہ
اپنی جنسی شناخت اور پسند کے اظہار کا ذریعہ تھا۔ اس
طرزِ زندگی پر اخبارات میں ان کا مذاق اڑایا جاتا، حکام کی جانب سے پابندیاں لگائی
جاتیں اور طبی ماہرین بھی انہیں غیر معمولی قرار دیتے تھے، لیکن ان خواتین نے اپنے
لباس اور زندگی کے انتخاب کی آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔ ان کی تاریخ کو 10
تصاویر کے ذریعے دیکھا جاسکتا ہے۔
مردانہ لباس میں گھڑ سواری کرنے والی خواتین،
1799ء
18ویں صدی کے آخری برسوں میں فرانس میں خواتین کے
مردانہ طرز کے لباس کا آغاز گھڑ سواری کے مخصوص لباس سے ہوا جو انگلینڈ سے متعارف
کرایا گیا تھا۔ اس لباس میں خاص طور پر مردانہ طرز کی جیکٹ شامل ہوتی تھی۔اس لباس
اور اسے پہننے والی خواتین کو ’ایمیزون‘ کہا جاتا تھا، جو یونانی داستانوں کی
جنگجو خواتین کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان پھرتیلی اور
کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والی خواتین کو معاشرہ ایک طرف دلچسپی اور دوسری طرف خوف
کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔ وقت
گزرنے کے ساتھ خواتین کی الماری میں مردانہ طرز کی جیکٹس اور کوٹ بھی اہم جگہ
بنانے لگے۔
جارج سینڈ، مردانہ لباس میں، 1834ء
فرانس کی معروف مصنفہ اور صحافی جارج سینڈ
(George Sand) نے
روایتی صنفی توقعات کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اگرچہ خواتین کے لیے مردانہ
لباس سے متاثر ہوکر تیار کیے گئے نسوانی ملبوسات پہننا قابلِ قبول تھا، لیکن مکمل
مردانہ لباس پہننا معاشرتی طور پر ناپسندیدہ سمجھا جاتا تھا۔ اس
کے باوجود جارج سینڈ (George Sand) نے
اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزاری اور مردانہ لباس اختیار کیا۔ ان کے مطابق یہ محض
معاشرتی روایات کے خلاف احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک عملی ضرورت بھی تھی۔ نمائش کی منتظم میرین کزیئل (Mairin Kiziel)کے
مطابق جارج سینڈ مردانہ لباس اس لیے پہنتی تھیں تاکہ انہیں تھیٹر کے ان حصوں تک
رسائی مل سکے جہاں صرف مردوں کو جانے کی اجازت تھی۔ اس کے علاوہ مردانہ لباس
خواتین کے ملبوسات کے مقابلے میں کم خرچ تھا اور اس میں نقل و حرکت بھی زیادہ آسان
تھی۔
میری انتوانیت لِکس، فوجی لیفٹیننٹ، 1870ء تا
1871ء
19ویں صدی کے فرانس کے مردانہ بالادستی پر مبنی
معاشرے میں یہ بات حیران کن ہوسکتی ہے کہ بعض خواتین نے بھی ہتھیار اٹھا کر جنگوں
میں حصہ لیا تھا۔ نمائش
کی منتظم میرین کزیئل (Mairin
Kiziel) کے مطابق اس حوالے سے متعدد تاریخی واقعات
اور تصاویر موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کوئی معمولی رجحان نہیں تھا۔ خواتین
کو باقاعدہ فوج میں شمولیت کی اجازت نہیں تھی تاہم وہ رضاکارانہ غیرمنظم فوجی
دستوں کا حصہ بن سکتی تھیں۔ فرانس
اور پروشیا کی جنگ کے دوران میری انتوانیت لِکس
(Marie Antoinette Lex) نے
بھی یہی راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے فوجی لباس پہن کر جنگ میں حصہ لیا اور علاقے
ووژ (Louise Vojet) کے دفاع میں خدمات انجام دیں۔ نومپاتلیز (Nompatalis) کی
جنگ کے دوران ان کی کارکردگی بھی نمایاں رہی۔
جین ڈیو لافوا
(Jeanne de la Foa) ، 1890ء کی دہائی
جین ڈیو لافوا (Jeanne de la Foa) نے
بھی اپنے شوہر مارسیل (Marcel)
کے
ساتھ جنگ میں حصہ لیا تھا۔ بعد ازاں جب یہ جوڑا آثارِ قدیمہ کی تلاش اور تحقیق کے
لیے ایران گیا تو جین (Jeanne
de la Foa) نے
دوبارہ مردانہ لباس پہننا شروع کردیا۔ اس
سفر کے بعد انہوں نے مردانہ سوٹ کو مستقل طور پر اپنا لیا۔ اس مقصد کے لیے انہوں
نے خصوصی اجازت نامہ بھی حاصل کیا، تاہم یہ واضح نہیں کہ انہیں یہ اجازت کن
بنیادوں پر دی گئی تھی۔ مردانہ
لباس اختیار کرنے کے باوجود جین ڈیو لافوا
(Jeanne de la Foa) معاشرے کی ایک نمایاں شخصیت بن گئیں۔ ان کے اور
ان کے شوہر کے ہاں خصوصی محفلیں منعقد ہوتی تھیں، جن میں فرانس کے وزیراعظم اور
صدر سمیت اہم شخصیات بھی شرکت کرتی تھیں۔
مردانہ لباس پہننے والی خواتین کا خاکہ، 19ویں صدی
کے آخری برس
19ویں صدی کے اختتام پر مردانہ لباس پہننے والی
خواتین کے خلاف معاشرتی مخالفت میں اضافہ ہونے لگا۔ اس دوران خاص طور پر وہ ہم جنس
پرست خواتین زیادہ تنقید کا نشانہ بنیں جو مردانہ وضع قطع اختیار کرتی تھیں۔ آرٹ کی تاریخ کی محقق لولا چار (Lola Charney) نے کے مطابق ان خواتین نے اپنے لباس
اور جنسی شناخت، دونوں کے ذریعے مردانہ بالادستی پر مبنی معاشرتی نظام کے روایتی
کنٹرول کو چیلنج کیا۔ اخبارات
میں ان خواتین کے خاکے اور طنزیہ تصاویر شائع کی جاتی تھیں۔ ان کے ذریعے ایک ایسا تاثر
پیدا کیا جاتا تھا جس میں معاشرتی روایات سے انحراف کرنے والی خواتین کو بیک وقت
دلچسپی اور خوف کی علامت بنا کر پیش کیا جاتا، تاکہ ان کی آزادی کو محدود رکھا
جاسکے۔
بوآ دے بولون میں سائیکلنگ
(Cycling in the Bois de Boulogne) ، تقریباً 1900ء
اگرچہ خواتین کے پتلون پہننے پر پابندی سختی سے نافذ کی جاتی تھی
لیکن سائیکل چلانے کے دوران انہیں مردانہ طرز کا لباس پہننے کی اجازت تھی۔ بعد میں
یہی رعایت گھڑ سواری کے لیے بھی دے دی گئی۔ تاہم
سائیکلنگ بھی خواتین کی زندگی میں مردانہ بالادستی پر مبنی معاشرتی مداخلت سے
محفوظ نہ رہ سکی۔ ابتدا میں ڈاکٹروں نے خواتین کے سائیکل چلانے پر تشویش ظاہر کی
لیکن بعد میں اسے صحت کے لیے مفید قرار دیا گیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے خواتین
صحت مند ہوں گی اور فرانس کو مضبوط ماؤں کی ضرورت پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب خواتین کے لیے سائیکل محض ایک سواری
نہیں بلکہ آزادی کی علامت بن گئی۔ بیلے ایپوک کے دور میں سائیکلنگ نے خواتین کو
گھروں اور روایتی سماجی پابندیوں سے باہر نکلنے کا موقع فراہم کیا۔
7۔ روزا
بونوئر (Rosa Bonheur) ، 1899ء
معروف مصورہ روزا بونوئر (Rosa
Bonheur) ان
چند خواتین میں شامل تھیں جنہیں مخصوص وجوہات کی بنیاد پر پتلون پہننے کا باقاعدہ
اجازت نامہ دیا گیا تھا۔ ابتدا میں انہیں صحت کی وجوہات کی بنا پر یہ اجازت اس وقت
ملی جب وہ اپنی شریکِ حیات کے ساتھ پیرینیز (Pyrenees)
کے پہاڑی علاقے کے سفر پر گئیں۔ بعد
میں انہیں مذبح خانوں کے دورے کے لیے بھی مردانہ لباس پہننے کی اجازت دی گئی
کیونکہ وہ جانوروں کی تصاویر بنانے کے لیے وہاں تحقیق اور مشاہدہ کرنا چاہتی تھیں۔ روزا بونوئر (Rosa Bonheur) کی
سوانح نگار کیتھرین ہیوٹ (Biographer Catherine Hewitt) کے مطابق وقت کے ساتھ مردانہ
لباس ان کی عوامی شناخت کا حصہ بن گیا اور انہوں نے بھی اپنی اس منفرد پہچان کو
نمایاں کرنا شروع کردیا۔
ماتھیلڈ دے مورنی المعروف مسی (Mathilde de Morny,
known as Missy) ،
1890ء کی دہائی
معاشرتی مخالفت کے باوجود 19ویں صدی کے آخری برسوں میں پیرس میں ہم
جنس پرست خواتین کی ایک فعال اور نمایاں ثقافت موجود تھی۔ ماتھیلڈ دے مورنی، جنہیں
’مسی‘(Missy) کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اس حلقے کی اہم
شخصیات میں شمار ہوتی تھیں۔ وہ
ڈیوک دے مورنی (Duke de
Morny) کی
بیٹی تھیں اور انہوں نے مارکوئس دے بیلبوف سے ایسی شادی کی تھی جسے بنیادی طور پر سماجی
اور معاشرتی ضرورت کے تحت کیا گیا تھا۔ ان کے شوہر بھی ہم جنس پرست تھے اور دونوں
کی 1903ء میں طلاق ہوگئی۔ مسی (Missy) نے اپنی ہم جنس پرستی کو پوشیدہ رکھنے کے
بجائے مردانہ لباس کا منفرد اور نمایاں انداز اپنایا۔ ان کا معروف مصنفہ کولیٹ (Colette) کے
ساتھ معاشقہ بھی رہا۔ کولیٹ (Colette) نے اپنے ناول
’دی پیور اینڈ دی امپیور‘ (“The Pure and the Impure”) میں
ان سے متاثر ایک فرضی کردار بھی تخلیق کیا۔
رومین بروکس
(Romaine Brooks) کی خود تصویر، 1923ء
امریکا کے ایک امیر خاندان میں پیدا ہونے والی مصورہ رومین بروکس (Romaine
Brooks) نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ پیرس میں گزارا جہاں ان کی طویل عرصے تک
شریکِ حیات رہنے والی نتھالی کلفورڈ بارنی (Natalie Clifford Barney) بھی
مقیم تھیں۔ مختصر بالوں اور نفاست سے تیار
کردہ مردانہ لباس کی وجہ سے رومین بروکس
(Romaine Brooks) کا انداز منفرد تھا۔ وہ پیرس میں ایسے امیر اور غیرروایتی یورپی و
امریکی افراد کے حلقے میں اٹھتی بیٹھتی تھیں، جن میں متعدد تخلیقی شعبوں سے وابستہ
اور ہم جنس پرست خواتین بھی شامل تھیں۔1923 میں بنائی گئی ان کی یہ خود تصویر ان
کے منفرد اور مردانہ و زنانہ خصوصیات کے امتزاج پر مبنی لباس اور انداز کی عکاسی
کرتی ہے۔
خواتین کا ایک ہم جنس پرست جوڑا، تقریباً 1910ء
مردانہ لباس اختیار کرنے والی زیادہ تر ہم جنس پرست خواتین نہ تو
امیر تھیں اور نہ ہی معروف شخصیات۔ وہ عام خواتین تھیں جو اپنی شناخت اور پسند کے
مطابق زندگی گزارنا چاہتی تھیں۔ نمائش
کی منتظم میرین کزیئل (Mairin
Kiziel) کے
مطابق ان خواتین کے لیے اپنی پسند کا لباس پہننے کی آزادی کا انحصار ان کی حکمتِ
عملی، اپنی شناخت چھپانے یا دوسروں کے سامنے مختلف شناخت کے ساتھ ظاہر ہونے کی
صلاحیت اور معاشرتی حالات پر ہوتا تھا۔ ان
میں سے بہت سی خواتین کے بارے میں تاریخی ریکارڈ دستیاب نہیں لیکن اس دور کی
تصاویر سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے طرز زندگی کو اختیار کرنے والی خواتین کی تعداد
خاصی زیادہ تھی۔ پیرس
میں خواتین کے پتلون پہننے پر عائد پابندی 2 صدیوں سے زیادہ عرصے تک قانونی طور پر
برقرار رہی یہاں تک کہ اسے باضابطہ طور پر سنہ 2013 میں ختم کیا گیا۔ اگرچہ کئی
دہائیوں پہلے ہی اس قانون پر عمل درآمد تقریباً ختم ہوچکا تھا، لیکن اس کی قانونی
موجودگی اس بات کی یاد دہانی تھی کہ خواتین کو اپنے لباس کے انتخاب کے لیے بھی
طویل جدوجہد کرنا پڑی۔ آج
پیرس کی خواتین کے لیے پتلون پہننا ایک معمول کی بات ہے، لیکن اس آزادی کے پیچھے
ان خواتین کی جرأت اور جدوجہد بھی شامل ہے جنہوں نے اپنے دور کے سخت معاشرتی
اصولوں کو چیلنج کرنے کی ہمت کی۔