بلجیم کے وزیراعظم بارٹ ڈی ویور (Bart De Wever) نے
پیر، 2 نومبر 2026ء کو شاہی محل میں بادشاہ فلپ سے 90 منٹ سے زائد
ملاقات کے دوران اپنی حکومت کا استعفیٰ پیش کیا۔ یہ فیصلہ پانچ جماعتوں پر مشتمل حکمران
اتحاد کے 2027 کے وفاقی
بجٹ پر اتفاق کرنے میں ناکامی کے بعد سامنے آیا۔ شاہی محل کے بیان کے مطابق
بادشاہ نے استعفے کے معاملے پر فیصلہ فی الحال مؤخر کردیا ہے اور منگل سے
پارلیمانی اکثریت میں شامل جماعتوں کے سربراہوں سے مشاورت شروع کریں گے۔ شاہی محل
نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بادشاہ نے وزیراعظم کے
استعفے کے معاملے کو زیرِ غور رکھا ہے۔ اس سیاسی بحران کی بنیادی وجہ ملک کے بجٹ
میں تقریباً 10 ارب یورو، یعنی
11 ارب ڈالر سے
زیادہ کا مالیاتی خلا ہے۔ حکومت کئی ہفتوں سے اس رقم کو پورا کرنے کے لیے اخراجات
کم کرنے اور ٹیکس آمدنی بڑھانے کے امکانات پر مذاکرات کررہی تھی، لیکن اتحادی
جماعتیں اس بات پر متفق نہیں ہوسکیں کہ مالی بوجھ کس طبقے پر ڈالا جائے۔ وزیراعظم
ڈی ویور کی جماعت نیو فلیمش الائنس (N-VA) اور
فرانسیسی زبان بولنے والے علاقے کی لبرل جماعت ریفارمسٹ موومنٹ
(MR) سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں کی حمایت کررہی ہیں، جب کہ ان کے
سوشلسٹ اور سینٹرسٹ اتحادی زیادہ دولت رکھنے والے افراد پر ٹیکس بڑھانے کے حق میں
ہیں۔ صحت کے شعبے میں اخراجات کم کرنے کی تجاویز بھی اختلافات کا اہم موضوع بن گئی
ہیں۔
پانچ جماعتوں پر مشتمل اس حکمران اتحاد کو ’ایریزونا کولیشن‘
(Arizona Coalition) کہا جاتا ہے۔ اس میں N-VA،
MR، Vooruit، CD&V
اور Les Engagés شامل ہیں۔
ان جماعتوں کے درمیان اختلاف محض بجٹ کے اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس بات
پر بھی ہے کہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کو کس نوعیت کی معاشی پالیسی
اختیار کرنی چاہیے۔ N-VA اور
MR سرکاری اخراجات کم کرکے مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے پر زور دیتی
ہیں، جب کہ Vooruit، CD&V
اور Les Engagés زیادہ
مالی وسائل رکھنے والوں سے اضافی ٹیکس وصول کرنے کی حمایت کرتی ہیں۔ اس اختلاف نے
وزیراعظم کے لیے اتحادی جماعتوں کو ایک مشترکہ منصوبے پر متفق کرنا مشکل بنادیا
ہے۔ بلجیم کے مالیاتی مسائل کی سنگینی کا اندازہ سرکاری قرض اور بجٹ خسارے کے
اعداد و شمار سے لگایا جاسکتا ہے۔ یورپی کمیشن کی پیش گوئی کے مطابق ملک کا سرکاری
قرض 2026 میں مجموعی
قومی پیداوار (GDP) کے تقریباً 110.5 فیصد تک پہنچ
سکتا ہے، جب کہ بجٹ خسارہ 5.2 فیصد
کے آس پاس رہنے کا امکان ہے۔ یورپی یونین کے مالیاتی ضابطوں کے تحت رکن ممالک کے بجٹ
خسارے کی عمومی حد GDP کا 3فیصد اور سرکاری قرض کی حد 60 فیصد مقرر ہے۔
اس اعتبار سے بلجیم دونوں پیمانوں پر مقررہ سطح سے اوپر ہے۔ بڑھتے ہوئے قرض کے ساتھ
اس پر سود کی ادائیگی کا بوجھ بھی بڑھ رہا ہے، جس سے حکومت کے لیے مزید قرض لینے اور
موجودہ مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کے اخراجات میں اضافہ ہورہا ہے۔
وزیراعظم ڈی ویور نے اس سے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے
اخراجات اور قرض کے معاملے پر بروقت اقدامات نہ کیے تو ملک کو ایک ایسے ’انٹرسٹ
اسنو بال‘ یعنی سود کے بڑھتے ہوئے برفانی گولے جیسی صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے،
جس میں پرانے قرضوں پر سود ادا کرنے کے لیے بھی نئے قرض لینے پڑیں۔ حکومت کی کوشش
ہے کہ 2029ء تک بجٹ
خسارہ کم کرنے کے لیے قابلِ عمل مالیاتی منصوبہ تیار کیا جائے اور2027 کا بجٹ نئے سال کے آغاز سے پہلے
منظور کرلیا جائے۔ مذاکرات میں ناکامی کے باعث یہ ہدف بھی غیر یقینی ہوگیا ہے۔
بلجیم کے آئینی نظام میں وزیراعظم کا استعفیٰ پیش کرنا لازماً حکومت کے فوری
خاتمے کے مترادف نہیں۔ بادشاہ استعفیٰ قبول کرنے سے انکار کرسکتے ہیں یا فیصلہ
مؤخر کرکے اتحادی جماعتوں کو اتفاقِ رائے کے لیے مزید وقت دے سکتے ہیں۔ اگر
استعفیٰ قبول کرلیا جائے تو حکومت نئی سیاسی تشکیل تک محدود اختیارات کے ساتھ
عبوری انتظامیہ کے طور پر کام کرسکتی ہے۔ ایسی صورت میں نئے انتخابات کا راستہ بھی
کھل سکتا ہے، تاہم اس مرحلے پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ شاہی محل کی جانب سے
جماعتی لیڈروں سے مشاورت کا اعلان اس بات کا اشارہ ہے کہ سیاسی حل تلاش کرنے کی
کوشش ابھی جاری ہے۔
بلجیم میں بجٹ پر سیاسی تعطل کوئی بالکل نیا واقعہ نہیں۔ 2025 کے اختتام پر بھی حکومت کو اسی
نوعیت کے مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت وزیراعظم نے بادشاہ سے
مذاکرات کے لیے 50 دن کی مہلت طلب
کی تھی، جس کے بعد 24 نومبر
2025 کو اتحادی
جماعتیں تقریباً 9.2ارب یورو کی
بچت کے منصوبے پر متفق ہوگئی تھیں۔ موجودہ بحران اس لیے بھی اہم ہے کہ گزشتہ سال کے
سمجھوتے کے باوجود ملک کے قرض اور خسارے میں کمی کے لیے مزید بڑے اقدامات درکار
ہیں۔ حکومتی بحران کے دوران بلجیم کو عوامی احتجاج اور ہڑتالوں کا بھی سامنا ہے۔
بجٹ میں ممکنہ کٹوتیوں، سماجی اخراجات اور معاشی پالیسیوں پر اختلافات نے ملک کے
سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق طلبہ کے احتجاج
اور ٹریڈ یونینوں کی جانب سے بار بار قومی سطح کی ہڑتالوں نے بھی حکومت پر دباؤ
بڑھایا ہے۔ ادھر مالیاتی منڈیوں میں بلجیم کے سرکاری بانڈز پر شرحِ سود میں اضافے
نے قرض کی لاگت سے متعلق خدشات کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ اب بادشاہ فلپ کی اتحادی
جماعتوں کے لیڈروں سے مشاورت اور وزیراعظم کے ساتھ آئندہ ملاقات پر توجہ مرکوز
ہے۔ اگر جماعتیں صحت کے اخراجات میں کٹوتی، اضافی ٹیکس اور بجٹ خسارہ کم کرنے کے
طریقوں پر سمجھوتہ کرلیتی ہیں تو ڈی ویور کی حکومت برقرار رہ سکتی ہے؛ بصورت دیگر
استعفے کی منظوری، عبوری حکومت یا نئے انتخابات جیسے آئینی راستے زیرِ غور آسکتے
ہیں۔ فی الحال شاہی محل نے استعفے پر حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔