پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور
ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دینے کے لیے 5 نومبر 2026 کو ایک
اہم بین الاقوامی ویبینار منعقد کیا جائے گا، جس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکومتی
نمائندے، انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ ممتاز شخصیات، سافٹ ویئر کمپنیوں کے
سربراہان اور ٹیکنالوجی ماہرین شرکت کریں گے۔ یہ ویبینار پاکستان اور روس کے درمیان تعاون سے متعلق سلسلے کا
تیسرا پروگرام ہوگا، جس کا عنوان ’’روس پاکستان: انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون
اور مختلف صنعتی شعبوں کے درمیان اشتراک‘‘ رکھا گیا ہے۔ پروگرام ماسکو کے وقت کے
مطابق صبح 11 بجے سے دوپہر 1 بج کر 55 منٹ تک جبکہ پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر 1
بجے سے سہ پہر 3 بج کر 55 منٹ تک جاری رہے گا۔
اس اہم پروگرام کا انعقاد ماسکو کی ولادیمیر
ژیرینوفسکی (Vladimir Zhirinovsky) یونیورسٹی آف ورلڈ سولائزیشنز اور اسلام آباد میں قائم پاکستان
سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ
(PSEB) کے اشتراک سے کیا جا
رہا ہے۔ منتظمین کے مطابق ویبینار کا بنیادی مقصد پاکستان اور روس کی سرکردہ
ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان براہِ راست روابط قائم کرنا، مشترکہ منصوبوں کی
نشاندہی کرنا، دونوں ممالک کی منڈیوں تک رسائی آسان بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کے
شعبوں میں طویل المدتی شراکت داری کی بنیاد رکھنا ہے۔ اس سلسلے میں حکومتی اداروں،
نجی کمپنیوں، صنعتی تنظیموں اور تحقیقی اداروں کے درمیان منظم تعاون کو خصوصی
اہمیت دی جا رہی ہے۔ ویبینار
کے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی
کمیونیکیشن فاطمہ خواجہ کا خطاب پروگرام میں شامل ہے، جس میں پاکستان اور روس کے
درمیان ٹیکنالوجی تعاون کو دوطرفہ اقتصادی تعلقات کی نئی سمت کے طور پر زیرِ بحث
لایا جائے گا۔ روس کی نائب وزیر برائے ڈیجیٹل ترقی، مواصلات اور ذرائع ابلاغ بیلا
چرکیسووا بھی افتتاحی اجلاس سے خطاب کریں گی۔ ان کے خطاب میں روس اور پاکستان کے
درمیان ڈیجیٹل شراکت داری، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور باہمی تعاون کے
امکانات کو اجاگر کیا جائے گا۔
روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی بھی اس
اہم پروگرام سے خطاب کریں گے۔ ان کے خطاب کا موضوع ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل تجارت کے
ذریعے پاکستان اور روس کے اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینا ہوگا۔ پاکستان سافٹ
ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر فیصل جدی پاکستان کی انفارمیشن
ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں اور روسی کمپنیوں کے ساتھ تجارتی تعاون کے نئے مواقع پر
روشنی ڈالیں گے۔ پروگرام
میں دونوں ممالک کی سافٹ ویئر صنعتوں کو قریب لانے، ٹیکنالوجی شراکت داری اور نئی
مارکیٹوں تک رسائی کے امکانات پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ روسی سافٹ
ویئر انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم
RUSSOFT کے سربراہ ویلنٹین
ماکاروف روسی اور پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے درمیان کاروباری تعاون اور مشترکہ
منصوبوں کے امکانات پر اظہارِ خیال کریں گے، جبکہ پاکستان کی معروف آئی ٹی کمپنی Systems Limited کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آصف پیر ڈیجیٹل
ٹرانسفارمیشن، مشترکہ ٹیکنالوجی کی فراہمی اور بین الاقوامی منڈیوں میں تعاون کے
امکانات پیش کریں گے۔
روس کی ٹیکنالوجی کمپنی SberTech کے چیف ایگزیکٹو آفیسر میکسم تیاتوشیف جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں
تحقیقی، علمی اور اسٹریٹجک تعاون کی اہمیت پر گفتگو کریں گے۔ اس موقع پر دونوں
ممالک کے کاروباری اداروں اور تحقیقی تنظیموں کے درمیان مستقل روابط قائم کرنے اور
مستقبل میں مشترکہ تکنیکی منصوبے شروع کرنے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا۔ ویبینار میں مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی،
کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی۔ پاکستانی
کمپنی
Ebryx کے چیف ایگزیکٹو آفیسر
احرار نقوی سائبر سیکیورٹی، کلاؤڈ ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور مشترکہ
ڈیجیٹل مصنوعات کی تیاری کے امکانات پر بات کریں گے۔ روس کی معروف سائبر سیکیورٹی
کمپنی
Positive Technologies کے علاقائی ڈائریکٹر ایگور ریکوف ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے تحفظ،
سائبر خطرات کی نشاندہی اور اہم اداروں کے لیے حفاظتی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں
تعاون کے مواقع پیش کریں گے۔
پاکستان کی بین الاقوامی سافٹ ویئر کمپنی Netsol Technologies کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سلیم غوری مالیاتی
ٹیکنالوجی، کاروباری سافٹ ویئر، لیزنگ پلیٹ فارمز اور مشترکہ ڈیجیٹل مالیاتی خدمات
کے امکانات پر گفتگو کریں گے، جبکہ روسی کمپنی eXpress کے چیف ایگزیکٹو آفیسر آندرے وراتسکی مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ
اور کاروباری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور عملی تعاون کے امکانات پر
روشنی ڈالیں گے۔ ویبینار
کے ایجنڈے میں پاکستان اور روس کے درمیان مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر
سیکیورٹی، ڈیجیٹل گورننس، آئی ٹی تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل مہارتوں کی ترقی اور
کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے جدید شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔ دونوں
ممالک کی کمپنیوں کے درمیان ڈیٹا اینالیٹکس، صنعتی آٹومیشن، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز،
سرکاری خدمات کی ڈیجیٹل فراہمی، سافٹ ویئر آؤٹ سورسنگ اور ٹیکنالوجی ماہرین کی
تربیت کے امکانات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔
ویبینار کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہوگی کہ
پاکستان اور روس کے درمیان ٹیکنالوجی تعاون کو محض دونوں ممالک کی داخلی منڈیوں تک
محدود رکھنے کے بجائے تیسرے ممالک کی منڈیوں تک وسعت دینے کے امکانات کا جائزہ لیا
جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مشترکہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مصنوعات کی تیاری،
سسٹم انٹیگریشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات کی بین الاقوامی فراہمی پر غور
کیا جائے گا۔ مجوزہ تعاون میں بزنس ٹو بزنس روابط، مشترکہ پائلٹ منصوبوں، تکنیکی
مہارتوں کے تبادلے اور باہمی سرمایہ کاری کے مواقع کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ ویبینار کی دستاویزات کے مطابق روس کی متعدد اہم
ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی پروگرام میں شرکت کی دعوت دینے کی فہرست میں شامل کیا
گیا ہے، جن میں
Positive Technologies، Yandex Cloud، Astra Group، 1C Company اور VK
Tech شامل ہیں۔ ان اداروں کی
ممکنہ شمولیت سے سافٹ ویئر، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، سائبر سیکیورٹی اور کاروباری
ڈیجیٹل نظاموں میں مستقبل کی شراکت داری کے مزید امکانات سامنے آ سکتے ہیں۔
پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی تعاون کے
روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ایک نئے اور اہم میدان کے طور
پر سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجوزہ تعاون کا مقصد محض تبادلہ خیال تک
محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کی کمپنیوں کے درمیان مستقل روابط، مشترکہ تحقیق،
عملی منصوبوں اور کاروباری شراکت داری کے لیے ایک منظم طریقہ کار تیار کرنا بھی
ہے۔ یہ پروگرام پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے روسی
ٹیکنالوجی مارکیٹ میں نئے کاروباری روابط قائم کرنے اور روسی اداروں کے لیے
پاکستانی سافٹ ویئر انڈسٹری کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کا موقع فراہم کر سکتا
ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے ماہرین کو مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور
ڈیجیٹل تبدیلی کے شعبوں میں مشترکہ تحقیق اور جدید تکنیکی حل تیار کرنے کے امکانات
تلاش کرنے کا موقع بھی ملے گا۔
پاکستان اور روس کے درمیان 5 نومبر کو ہونے والا
یہ بین الاقوامی ویبینار دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں جدید ٹیکنالوجی اور
ڈیجیٹل تجارت کی اہمیت کو مزید اجاگر کر سکتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس پروگرام
سے حکومتی اور نجی شعبوں کے درمیان رابطوں کو فروغ ملے گا اور مستقبل میں مشترکہ
ٹیکنالوجی منصوبوں، سرمایہ کاری اور بین الاقوامی تجارتی تعاون کے لیے نئی راہیں
کھل سکتی ہیں۔ تاہم ان امکانات کو عملی شکل دینے کا انحصار ویبینار کے بعد متعلقہ
اداروں اور کمپنیوں کے درمیان ہونے والی پیش رفت پر ہوگا۔