بلغاریہ کی قائم مقام صدر الیانا یوتووا اتوار کو ہونے والے صدارتی
انتخاب کے دوسرے مرحلے میں اپنے مغرب نواز حریف آندرے گیوروف کے مقابلے میں فیصلہ
کن کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔ ایگزٹ پولز کے مطابق انہیں واضح برتری حاصل ہے۔
پانچ بڑی پولنگ ایجنسیوں کی جانب سے مکمل کیے گئے متوازی ووٹوں کے تخمینوں میں
یوتووا کے حصے میں 56.6 سے
58.2 فیصد ووٹ آنے
کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ آندرے گیوروف (Andrey Gurov) کو 35.6 سے 40.6 فیصد ووٹ ملنے
کی توقع ہے۔ گیوروف (Andrey Gurov) نے صوفیہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
کہا، ’’ہم نتائج کو قبول کرتے ہیں، چاہے وہ کتنے ہی حیران کن کیوں نہ ہوں۔‘‘ انہوں
نے مزید کہا کہ انتخابی مہم تو ختم ہو رہی ہے، لیکن ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔
بلغاریہ کی سوشلسٹ پارٹی (بی ایس پی) سے طویل عرصے سے وابستہ
یوتووا (Iliana
Iotova) نے گزشتہ ہفتے ہونے والے پہلے مرحلے کے
مقابلے میں اپنی حمایت میں اضافہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں انہیں 34.76 فیصد ووٹ ملے
تھے، جبکہ گیوروف (Andrey
Gurov)31.95فیصد
ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔ یوتووا (Andrey
Gurov) کی انتخابی مہم میں یوکرین کو مزید ہتھیار
فراہم نہ کرنے پر زور دیا گیا اور اس کے بجائے سفارتی حل کے ذریعے امن قائم کرنے
کی حمایت کی گئی۔ یہ مؤقف ان کے حریف کے نقطۂ نظر سے مختلف تھا۔ یہ انتخاب اپریل
میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے بعد منعقد ہو رہا ہے، جن میں سابق صدر رومین
رادیف (Rumen Radev) کی قیادت میں پروگریسو بلغاریہ (Progressive
Bulgaria) نے قومی اسمبلی کی 240 میں سے 131 نشستیں
جیت کر واضح اکثریت حاصل کی تھی۔ یوتووا (Iliana Iotova)
اس سے قبل رومین رادیف (Rumen Radev) کی نائب صدر کے طور پر
خدمات انجام دے چکی ہیں۔ رادیف (Rumen Radev) نے جنوری میں استعفیٰ
دے دیا تھا، جس کے بعد یوتووا (Iliana Iotova) نے قائم مقام صدر کا عہدہ
سنبھالا۔ پروگریسو بلغاریہ نے پانچ سالہ مکمل صدارتی مدت کے لیے ان کی امیدواری کی
حمایت کی ہے۔
بلغاریہ کے مرکزی بینک کے سابق ڈپٹی گورنر آندرے گیوروف (Andrey Gurov)نے انتخابی مہم کے دوران خبردار کیا تھا کہ یوتووا(Iliana Iotova) کی کامیابی سے ملک کے اعلیٰ ترین حکومتی عہدے پر
حقیقی توازن باقی نہیں رہے گا، کیونکہ پروگریسو بلغاریہ پہلے ہی حکومت پر کنٹرول
رکھتی ہے۔ یورپی یونین اور سلامتی سے متعلق پالیسیوں کے معاملے میں گیوروف (Andrey Gurov) نے حکومت کی
ہچکچاہٹ، یوکرین کی حمایت میں کمی اور نیٹو و یورپی یونین کے اتحادیوں کے ساتھ
رابطہ کاری میں سست روی پر تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ عمل نے
بلغاریہ کو زیادہ غیر محفوظ بنا دیا ہے اور اسے اتحاد کے مشرقی محاذ پر ایک کمزور
کڑی میں تبدیل کر دیا ہے۔