جاپان کی اینیمی (Anime) صنعت نے
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت اور شائقین کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث آمدنی
کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔ جاپان کی اینیمیشن ایسوسی ایشن (اے جے اے)کے جاری
کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق 2025
میں جاپانی اینیمی صنعت کا مجموعی کاروبار4.4491 ٹریلین
ین تک پہنچ گیا، جو تقریباً28.2 سے
28.5 ارب امریکی ڈالر
کے برابر ہے۔ یہ 2024 کے مقابلے
میں 15.8فیصد زیادہ ہے۔
اس طرح پہلی مرتبہ جاپان کی اینیمی صنعت کا مجموعی بازار 4ٹریلین ین کی حد سے تجاوز کرگیا ہے۔ اس غیر معمولی ترقی میں بیرونِ
ملک شائقین کی بڑھتی ہوئی تعداد، عالمی اسٹریمنگ پلیٹ فارمز، سنیما گھروں میں
اینیمی فلموں کی کامیابی اور متعلقہ مصنوعات کی فروخت نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جاپانی اینیمی صنعت کی مجموعی آمدنی میں بیرونِ
ملک بازار کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ 2025
میں بیرونِ ملک سے حاصل ہونے والی آمدنی2.5426 ٹریلین
ین، یعنی تقریباً16.1 ارب ڈالر رہی،
جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17.2 فیصد
زیادہ ہے۔ دوسری جانب جاپان کے اندر اینیمی سے حاصل ہونے والی آمدنی1.95 ٹریلین ین، یعنی
تقریباً12.1 ارب ڈالر رہی،
جس میں 14.1فیصد اضافہ درج
کیا گیا۔ مجموعی کاروبار میں بیرونِ ملک بازار کا حصہ 57.1 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ مقامی بازار کا حصہ 42.9 فیصد رہا۔ اس
طرح عالمی شائقین اب جاپانی اینیمی صنعت کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکے ہیں۔
جاپانی اینیمی کی عالمی مقبولیت میں نیٹ فلکس جیسے اسٹریمنگ پلیٹ
فارمز کا کردار بھی انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے دنیا کے
مختلف ممالک میں ناظرین جاپانی اینیمی کو اپنی زبان کے سب ٹائٹلز اور ڈبنگ کے ساتھ
بآسانی دیکھ سکتے ہیں۔ اس سہولت نے ان لوگوں تک بھی اینیمی کی رسائی ممکن بنائی
ہے جو پہلے جاپانی زبان سے واقف نہ ہونے کے باعث ان پروگراموں سے دور رہتے تھے۔
امریکہ، یورپ، ہندوستان، برازیل، میکسیکو اور انڈونیشیا سمیت متعدد ممالک میں
جاپانی اینیمی کے مداحوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
جاپانی اینیمی کی مقبولیت میں کامیاب فلموں اور معروف سیریز کا بھی
بڑا حصہ ہے۔2025میں ریلیز
ہونے والی فلم ’ڈیمن سلیئر: کیمیتسو نو یائیبا انفینٹی کیسل‘
(Demon Slayer: Kimetsu no Yaiba Infinity Castle) نے دنیا بھر
میں زبردست کامیابی حاصل کی اور تقریباً 79 کروڑ
30لاکھ ڈالر کی کمائی کے ساتھ جاپانی
اینیمی فلموں کی تاریخ میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ اس کے علاوہ ’’چینسا مین (Chainsaw
Man): دی مووی ریزے آرک (The Movie
Reze Arc) ‘‘ اور’ ’ڈیٹیکٹیو کونن (Detective Conan): ون آئیڈ فلیش بیک (One-Eyed
Flashback)‘‘ جیسی فلموں نے بھی بین الاقوامی ناظرین
کی توجہ حاصل کی۔ ان کامیابیوں نے جاپانی اینیمیشن کو عالمی تفریحی صنعت میں مزید
مضبوط مقام دلانے میں مدد دی ہے۔ ’
رپورٹ میں جاپان کے اینیمی تیار کرنے والے اسٹوڈیوز کی آمدنی میں
اضافے کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ 2025میں
اینیمی اسٹوڈیوز کا مجموعی کاروبار 505.5ارب
ین، یعنی تقریباً 3.2 ارب ڈالر تک
پہنچ گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 8.4فیصد زیادہ ہے۔ اسٹوڈیوز کی اس آمدنی میں بیرونِ ملک کاروبار کا حصہ
27.9 فیصد رہا، جبکہ
2024ءمیں یہ
تناسب 25.5 فیصد تھا۔ اس
اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاپانی اینیمیشن کمپنیاں اب صرف مقامی سطح پر کام کرنے کے
بجائے عالمی بازار میں بھی اپنی موجودگی مضبوط کررہی ہیں۔
جاپانی حکومت نے بھی اینیمی، مانگا، ویڈیو گیمز اور دیگر تخلیقی
شعبوں کو ملک کی معیشت اور ثقافتی شناخت کے اہم ذرائع میں شامل کیا ہے۔ حکومت کا
ہدف ہے کہ 2033ء تک جاپانی
اینیمی کی بیرونِ ملک سالانہ فروخت 6 ٹریلین
ین تک پہنچائی جائے، جبکہ مجموعی جاپانی تفریحی اور تخلیقی مواد کی بیرونِ ملک آمدنی
20 ٹریلین ین تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ صنعتی ماہرین کے مطابق اس ہدف کو حاصل کرنے
کے لیے مختلف ممالک کی زبان، ثقافت اور قوانین کے مطابق اینیمی مواد تیار کرنا،
مقامی شراکت داری بڑھانا اور غیر قانونی نقل و اشاعت یعنی پائریسی پر قابو پانا
ضروری ہوگا۔ جاپانی اینیمی اسٹوڈیوز سعودی عرب اور ہندوستان جیسی ابھرتی ہوئی
منڈیوں میں بھی اپنے ناظرین بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں۔