سوئٹزرلینڈ کی کل آبادی کے نصف سے زیادہ افراد نے جعلی خبروں اور
گمراہ کن معلومات کو بڑا سماجی مسئلہ قرار دیا ہے، جبکہ بیشتر شرکا نے کہا کہ
انہیں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر اکثر غلط معلومات
کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوئس اِنفو کے مطابق یہ نتائج یونیورسٹی آف زیورخ کے ریسرچ
سینٹر فار دی پبلک اسفیئر اینڈ سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ 2026 کے میڈیا کوالٹی
سالنامے میں شائع کیے گئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 56.5 فیصد شرکا جعلی خبروں کو بڑا
سماجی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ شرح 5 سال پہلے کے مقابلے میں
نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔
تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ نصف سے زائد افراد کو باقاعدگی سے
گمراہ کن معلومات کا سامنا ہوتا ہے۔ ان معلومات کے پھیلاؤ میں سماجی رابطوں کی ویب
سائٹس، ویڈیوز شیئر کرنے والے پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اہم
ذرائع ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 42 فیصد افراد کو خبروں سے محروم رہنے والے گروہ میں
شامل کیا گیا۔ اس سے مراد ایسے افراد ہیں جو حالات حاضرہ سے متعلق خبریں شاذونادر
ہی دیکھتے ہیں یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس سے ادھوری معلومات حاصل کرتے ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا کہ اس طرزِ عمل کے باعث ایسے افراد سازشی نظریات سے زیادہ متاثر
ہوسکتے ہیں۔
محققین کے مطابق صرف ٹک ٹاک اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز پر انحصار
کرنے والے افراد کو سازشی نظریات سے اتنا ہی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے جتنا ان لوگوں کو
جو خبروں سے بالکل دور رہتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خبروں کے مستند ذرائع سے
دوری یا صرف محدود آن لائن ذرائع پر انحصار گمراہ کن معلومات سے تحفظ کی ضمانت
نہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر خبروں کا معیار مستحکم
رہا، تاہم ذرائع ابلاغ کے تنوع میں کمی دیکھی گئی۔ قومی سیاست سے متعلق 44.7 فیصد
خبریں جرمن زبان کے متعدد اشاعتی اداروں میں شائع ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق 57.7 فیصد شرکا نے عوامی نشریاتی اداروں کو اہم یا
انتہائی اہم قرار دیا۔ دوسری جانب ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز نے سالانہ اشتہاری آمدن کی
مد میں 2.5 ارب سوئس فرانک، یعنی تقریباً 3 ارب ڈالر تک حاصل کیے، جبکہ سوئٹزرلینڈ
کے مقامی ذرائع ابلاغ کی آمدن کم ہو کر 1.94 ارب سوئس فرانک، یعنی تقریباً 2.3 ارب
ڈالر رہ گئی۔ محققین نے جعلی خبروں اور گمراہ کن معلومات کے اثرات سے نمٹنے کے لیے
مختلف اقدامات تجویز کیے، جن میں نوجوان بالغ افراد کو ذرائع ابلاغ کے استعمال کے
لیے مالی معاونت فراہم کرنے کی غرض سے خصوصی واؤچرز متعارف کرانے کی تجویز بھی
شامل ہے۔