اسرائیل میں انتخابات کے لیے ووٹ
ڈالنے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ انتخابی عمل کے دوران شہریوں کو اپنا حقِ رائے دہی
استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ملک بھر میں عام تعطیل کا اہتمام کیا گیا
ہے۔ انتخابی حکام کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق بیشتر پولنگ اسٹیشن
مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے، جبکہ گرین وچ معیاری
وقت کے مطابق یہ دورانیہ صبح 5 بجے سے رات 8 بجے تک ہوگا۔ چھوٹے علاقوں میں
جہاں ووٹ ڈالنے کے اہل شہریوں کی تعداد 350 یا اس سے کم ہے، وہاں پولنگ مراکز صبح
8 بجے سے رات 8 بجے تک کام کریں گے۔ اسپتالوں سمیت بعض خصوصی پولنگ مراکز پر بھی
یہی اوقات مقرر کیے گئے ہیں۔
انتخابی قواعد کے مطابق پولنگ کا
مقررہ وقت ختم ہونے پر اگر ووٹر قطار میں موجود ہوں تو انہیں ووٹ ڈالنے کا موقع
دیا جائے گا۔ پولنگ کے آغاز کے بعد انتخابی عمل سے متعلق مزید تفصیلات اور
پیش رفت سامنے آنے کی توقع ہے۔ انتخابی نتائج اور ووٹرز کی شرکت کے اعداد و شمار
پر بھی توجہ مرکوز رہے گی۔
ایران پر حملے کے
معاملے پر اختلافات سامنے آنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی
جانب سے آرمی چیف ایال زمیر کو عہدے سے ہٹانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز کی رپورٹ کے مطابق اگر
نیتن یاہو انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہوگئے تو وہ ایال زمیر کو عہدے سے برطرف
کرنے پر غور کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران پر حملے کے منصوبے
کے حوالے سے اسرائیلی قیادت اور فوجی حکام کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے
سربراہ ایران پر حملے کے منصوبے کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ آرمی چیف ایال زمیر نے
اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ ذرائع
ابلاغ کے مطابق موساد کے بعض سینئر حکام نے بھی حملے کے وقت اور انتخابات پر اس کے
ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے کے معاملے پر فوجی قیادت کی
مخالفت نیتن یاہو اور آرمی چیف کے درمیان اختلافات کی وجہ بن سکتی ہے۔ تاہم ایال
زمیر کو عہدے سے ہٹانے کے حوالے سے تاحال کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں ہوئی۔