سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن
عبدالعزیز نے نجی شعبے میں سعودی ملازمین کی کم از کم تنخواہ 5 ہزار ریال مقرر
کرنے اور شہریوں کو ماہانہ 500 ریال اضافی مالی معاونت دینے کے احکامات جاری کردیے
ہیں۔ سعودی پریس ایجنسی (ایس
پی اے) کے مطابق یہ اقدامات سعودی ولی
عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی سفارش پر شہریوں کو بجلی اور پانی کے
نرخوں میں تبدیلی کے مالی اثرات سے تحفظ دینے کے لیے کیے گئے ہیں۔ بجلی اور پانی
کے استعمال کے نئے نرخوں کا اطلاق یکم جنوری 2027 سے ہوگا۔
حکم نامے کے
تحت نجی شعبے کے اداروں میں نطاقات پروگرام کے تحت سعودی ملازم کو سعودائزیشن کی
شرح میں مکمل شمار کرنے کے لیے کم از کم ماہانہ تنخواہ 5 ہزار سعودی ریال مقرر کی
گئی ہے، جس کا اطلاق 6 ماہ بعد ہوگا۔ اس کے بعد ابتدائی اضافے کے 12 ماہ بعد کم از
کم تنخواہ بڑھا کر 6 ہزار ریال کردی جائے گی۔ مالی معاونت کے پیکیج میں سرکاری
ملازمین، فوجی اہلکاروں اور متعلقہ ملازمت پروگراموں کے تحت آنے والے افراد کے
ماہانہ الاؤنس میں 500 ریال اضافہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ ریٹائرڈ افراد اور
سوشل انشورنس نظام کے تحت آنے والے مرحوم ملازمین یا ریٹائرڈ افراد کے اہل خانہ کو
بھی ماہانہ 500 ریال اضافی دیے جائیں گے۔
سوشل سیکیورٹی نظام سے مستفید ہونے والے خاندانوں
کو بھی طے شدہ قواعد و ضوابط کے مطابق ماہانہ 500 ریال اضافی مالی معاونت فراہم کی
جائے گی۔ سعودی حکام کے مطابق نطقات پروگرام کے تحت کم از کم تنخواہ بڑھانے کا
مقصد نجی شعبے میں سعودی ملازمین کی اجرت میں اضافہ اور ان کی ملازمتوں کو زیادہ
پائیدار بنانا ہے جب کہ اضافی مالی معاونت کا مقصد بجلی اور پانی کے نرخوں میں
تبدیلی سے شہریوں پر پڑنے والے مالی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
دوسری جانب کویت میں ملازمین کو تنخواہوں کی بروقت ادائیگی یقینی
بنانے کے لیے نگرانی سخت کردی گئی ہے، جہاں 8 ہزار 849 آجرین کی فائلوں میں
تنخواہوں کی ادائیگی سے متعلق مسائل سامنے آئے ہیں۔ حکومت نے تنخواہوں کی ادائیگی
پر نظر رکھنے کے لیے نیا الیکٹرانک نظام بھی متعارف کرایا ہے، جبکہ ملازمین کی
تنخواہ سے ایک ماہ میں 25 فیصد سے زیادہ رقم کاٹنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
نئے الیکٹرانک نظام کے ذریعے یہ دیکھا جائے گا کہ
کمپنی نے ملازمین کی تنخواہ کی ادائیگی کی درخواست کب دی، بینک نے ملازمین کا
ریکارڈ کیسے چیک کیا اور رقم ان کے اکاؤنٹس میں پہنچی یا نہیں۔ اس پورے عمل کے آٹھ
مراحل ہوں گے۔ پہلے کمپنی تنخواہ کی ادائیگی کی درخواست دے گی، پھر مرکزی بینک اور
متعلقہ بینک ملازمین کی تفصیلات کی جانچ کریں گے۔ معلومات درست ہونے پر تنخواہ ادا
کی جائے گی اور ادائیگی کی رپورٹ الیکٹرانک طریقے سے متعلقہ اتھارٹی کو بھیج دی
جائے گی۔ حکام کے مطابق، اس نظام سے تنخواہوں کی ادائیگی کا ریکارڈ چیک کرنا آسان
ہوگا اور بینکوں کے درمیان کاغذی کارروائی بھی کم ہوگی۔ اس طرح یہ معلوم کرنے میں
مدد ملے گی کہ کن ملازمین کو تنخواہ ادا کردی گئی ہے اور کہاں ادائیگی سے متعلق
مسئلہ موجود ہے۔
پی اے ایم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کمپنیاں
ملازمین کی تنخواہ سے اپنی مرضی سے رقم نہیں کاٹ سکتیں۔ اس کے لیے 13 جائز وجوہات
مقرر کی گئی ہیں، جن میں بغیر تنخواہ چھٹی کرنا، بیماری کی چھٹی، بچوں کی دیکھ
بھال کے لیے چھٹی، کام سے معطلی، بغیر اجازت کام کی جگہ چھوڑنا، کام سے انکار اور
غیر حاضر رہنا شامل ہیں۔ تاہم، تنخواہ سے رقم کاٹنے کے لیے کمپنی کو ثبوت بھی دینا
ہوگا کہ کٹوتی کیوں کی گئی اور اس کی وجہ قانونی ہے۔ قواعد کے مطابق، کسی ملازم کی
ایک ماہ کی تنخواہ سے زیادہ سے زیادہ 25 فیصد رقم کاٹی جاسکتی ہے۔ اس سے زیادہ
کٹوتی کی اجازت نہیں، جبکہ مقررہ حد کے اندر کٹوتی کے لیے بھی ضروری دستاویزات
فراہم کرنا ہوں گی۔کویت میں اس نظام کا مقصد ملازمین کو وقت پر تنخواہ دلانا اور
کمپنیوں کو قانون پر عمل کرنے کا پابند بنانا ہے۔ الیکٹرانک نگرانی کے ذریعے حکام
تنخواہوں کی ادائیگی کا ریکارڈ دیکھ سکیں گے اور جہاں مسائل سامنے آئیں، وہاں ان
کی نشاندہی کرسکیں گے۔