خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کی
بحالی کے لیے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے پیر کو تہران میں
ایرانی قیادت کے ساتھ چار ملکی اہم اجلاس کا آغاز کر دیا۔ اجلاس میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ
کے نمائندے شریک ہیں، جہاں علاقائی سلامتی، ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے
اثرات، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں اور ایران امریکا مذاکرات کی بحالی سمیت اہم
امور پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق اجلاس کا بنیادی مقصد خطے میں
تعاون، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ نے بھی دورے کو
کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات و سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کی کوششوں کا حصہ قرار
دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں دوبارہ فوجی تصادم روکنے کے لیے مذاکرات کے راستے
کھولنا ضروری ہے۔ یہ اجلاس اگست 2026 میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کے بعد
ایران اور معاہدے کے تین رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلا
اعلیٰ سطحی مشترکہ رابطہ ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران اور امریکا
کے درمیان کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے اور یمن کے حوثی گروپ کی سعودی عرب
کے خلاف کارروائیوں نے تنازع کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر، خالد بن سلمان اور ابراہیم قالن اجلاس میں شریک
پاکستان کی نمائندگی چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کر رہے ہیں جبکہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع شہزادہ
خالد بن سلمان وفد کے ہمراہ شریک ہیں۔ ترکیہ کی نمائندگی انٹیلی جنس ادارے کے
سربراہ ابراہیم قالن کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے
پیر کو راولپنڈی سے جاری بیان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سرکاری دورۂ ایران کی
تصدیق کی۔ سعودی اور ایرانی حکام کے مطابق چار ملکی اجلاس میں اعلیٰ سطحی
مشاورت کے بعد ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے حکام سے بھی ملاقاتیں طے تھیں۔
واضح رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر گزشتہ ہفتے بھی تہران گئے تھے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود
پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق اس دورے
میں ایرانی حکام نے انہیں بتایا تھا کہ تہران کے مطالبات پورے ہونے تک امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی
ادارے آئی آر آئی بی کی جانب سے جاری ویڈیو میں اجلاس کے آغاز کے مناظر دکھائے
گئے، جن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایرانی صدر
مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سکیورٹی حکام کے ہمراہ موجود تھے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکرٹری علی باقری کنی
نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ وفود ایرانی قومی سلامتی کونسل کے ساتھ مشاورت کریں
گے۔ دوسری جانب سعودی نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی نے بھی ایکس پر کی گئی ایک
پوسٹ میں کہا ہے کہ تہران میں آج ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے رکن ممالک کی
ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں کے لیے سعودی وفد کی قیادت وزیر دفاع کریں
گے۔ ان کے مطابق ان ملاقاتوں میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترک نیشنل انٹیلی
جنس کے ڈائریکٹر بھی شریک ہوں گے۔
علاقائی عدم جارحیت
کا نظام قائم کرنے کی تجویز
پاکستانی سکیورٹی حکام کے مطابق اجلاس کا اہم مقصد خطے میں ایک
ایسا علاقائی عدم جارحیت کا نظام قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا ہے جس کے
ذریعے ممالک ایک دوسرے کے خلاف فوجی کارروائیوں سے گریز کریں اور تنازعات کو
سفارتی ذرائع سے حل کرنے کے لیے مشترکہ طریقۂ کار اختیار کریں۔ ایرانی وزارت خارجہ
کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ اجلاس میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ
پالیسیوں، فلسطینی علاقوں اور لبنان کی صورتِ حال اور ایران کے خلاف امریکی و
اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے اثرات پر گفتگو ہوگی۔ بقائی کے مطابق اجلاس کی تجویز
گزشتہ ہفتے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ تہران کے دوران سامنے آئی تھی۔ ان کا
کہنا تھا کہ یہ رابطہ خطے میں مشترکہ سلامتی کے نظام کی تشکیل کی جانب پہلا قدم
ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی عہدیدار کے مطابق اجلاس کے ایجنڈے میں ایران
امریکا مذاکرات، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے، آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں
کی امریکی ناکہ بندی سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔
پاکستان اور قطر کی
ثالثی کی کوششیں
پاکستان اور قطر ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع میں ثالثی
کی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق قطری ثالث بھی اتوار کو
تہران میں موجود تھے اور سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے
تھے۔ اس سے قبل جون میں ہونے والی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایک عبوری امن
معاہدہ طے پایا تھا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے
بعد یہ پیش رفت برقرار نہ رہ سکی۔ بعد ازاں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں اور سعودی
عرب کے درمیان کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا، جس سے تنازع کا ایک نیا محاذ کھل گیا۔ سعودی
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ موجودہ دورے کا مقصد بحران کو کم کرنے اور سفارتی حل کے
لیے کوششوں کی حمایت کرنا ہے۔ وزارت نے پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کو بھی
اہم قرار دیا۔
ایران امریکا
مذاکرات پر تعطل برقرار
تہران میں ہونے والا اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب واشنگٹن اور
تہران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو
کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ دوسری جانب
ایرانی سکیورٹی حکام نے رائٹرز کو بتایا کہ اگر امریکا اور اسرائیل دوبارہ حملے
کرتے ہیں تو تہران نے خلیجی خطے میں زیرِ سمندر مواصلاتی کیبلز کو نشانہ بنانے کے
تفصیلی منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے گزشتہ
دورے کے دوران بھی واضح کیا تھا کہ جب تک اس کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، واشنگٹن
کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ان مطالبات میں امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ اور
ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں اٹھانا شامل ہیں۔ جاری تنازع نے آبنائے ہرمز کے
ذریعے توانائی کی ترسیل کو متاثر کیا ہے، عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں
میں اضافہ ہوا ہے اور خلیجی ممالک کو میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرات کا سامنا ہے،
یمن میں بھی لڑائی کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہونے کے خدشات ہیں۔
حوثیوں کے سعودی
ہوائی اڈے اور تیل کی تنصیبات پر حملوں کے دعوے
تہران میں سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ ہی یمن کے حوثی گروپ نے سعودی
عرب کے خلاف مزید حملوں کے دعوے کیے ہیں، رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے پیر کو سعودی
عرب کے مشرق سے مغرب تک خام تیل کی ترسیل کرنے والے پمپنگ اسٹیشنوں اور ریاض کے
ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ ریاض کے ہوائی اڈے نے ایک روز قبل دو
ٹرمینلز پر آپریشن بحال کرنے کی اطلاع دی تھی، تاہم پیر کو حوثیوں کی جانب سے کیے
گئے تازہ حملوں کی سعودی حکام نے فوری طور پر تصدیق نہیں کی۔ رائٹرز کے مطابق
سعودی عرب نے گزشتہ ماہ حوثیوں کی جانب سے یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں
اہم مقامات پر قبضے اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے خلاف پیش قدمی کے بعد
ان کے خلاف حملوں میں شدت پیدا کی ہے۔ حوثیوں کی کارروائیوں میں سعودی ہوائی اڈوں،
بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے شامل ہیں۔ ان حملوں نے سعودی
عرب کی سلامتی اور خطے میں توانائی کی ترسیل کے تحفظ کو مزید اہم بنا دیا ہے۔
آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستوں میں کسی بھی بڑی رکاوٹ کے عالمی
معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مکہ مشترکہ دفاعی
معاہدہ کیا ہے؟
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے اگست
2026 میں دستخط کیے تھے۔ رائٹرز کے مطابق معاہدے میں یہ شق شامل ہے کہ کسی ایک رکن
ملک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری یا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو
لاحق خطرے کے خاتمے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ معاہدے کے
رکن ممالک نے رواں ماہ ریاض میں ہنگامی اجلاس بھی منعقد کیا تھا، جس میں سعودی عرب
میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا
گیا۔ پاکستان نے گزشتہ ہفتے معاہدے کی منظوری دے دی تھی، جبکہ ترکیہ کی پارلیمنٹ
میں بھی اس کی توثیق کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ایران اس معاہدے کا رکن نہیں، تاہم
تہران میں چار ملکی اجلاس کے ذریعے اس کے ساتھ علاقائی سلامتی اور کشیدگی میں کمی
پر براہِ راست بات چیت کی جا رہی ہے۔
اجلاس کے نتائج پر
عالمی توجہ
تہران میں ہونے والے اس اجلاس کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ ایک
جانب سعودی عرب کو حوثیوں کے حملوں کا سامنا ہے اور دوسری جانب ایران اور امریکا
کے درمیان جنگ دوبارہ شروع ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان، سعودی
عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام کا ایرانی قیادت کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنا سفارتی
سطح پر اہم پیش رفت ہے۔ تاہم اجلاس کے اختتام پر کسی مشترکہ اعلامیے، جنگ بندی،
عدم جارحیت کے معاہدے یا ایران امریکا مذاکرات کی بحالی سے متعلق حتمی فیصلے کی
تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا چار ملکی مشاورت خطے
میں فوجی کشیدگی کم کرنے، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کو روکنے اور ایران و
امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے کوئی قابلِ عمل لائحۂ عمل تیار کر سکے
گی۔ مکہ معاہدے کے رکن ممالک کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں کی خبر ایسے وقت میں
سامنے آئی ہے جب خطے پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں جنہیں قریبی اتحادیوں یعنی
امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو کی آمدہ انتخابات کے
سلسلے میں ’سیاسی ضرورتوں‘ سے جوڑا جا رہا ہے۔
امریکا میں مڈٹرم الیکشن 3 نومبر جبکہ اسرائیل میں جنرل الیکشن 27
اکتوبر کو ہونا قرار پائے ہیں جن سے قبل دونوں رہنما ایران جنگ میں کسی بڑے بریک
تھرو کے خواہاں ہیں۔ دوسری جانب رائٹرز کے مطابق ایران مڈ ٹرم الیکشن سے قبل ٹرمپ
کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کی کوشش میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کو جان بوجھ کر طول
دے رہا ہے۔ لیکن ایران کی مذاکرات سے ہچکچاہٹ کی بڑی وجہ معاہدے کے بعد
دوبارہ فوجی کارروائی کے خدشات اور واشنگٹن پر گہرا عدم اعتماد ہے جس کے پیچھے
اسلام آباد امن معاہدے کے بعد امریکا کا طرز عمل ہے۔ یہ معاہدہ
پاکستان کی کامیاب ثالثی اور سفارتی کوششوں سے جون میں طے پایا تھا، تاہم چند
ہفتوں بعد ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے یہ معاہدہ برقرار
نہ رہ سکا۔ اب امریکا اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں
جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ وہ ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے جبکہ سفارتکاری کا دروازہ
بھی کھلا ہے۔