فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی
رکاوٹوں اور نامساعد حالات کا عذر پیش کرتے ہوئے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات
آئندہ برس ستمبر تک ملتوی کر دیے ہیں، جنہیں اب 11 ستمبر 2027 کو مشترکہ طور پر
منعقد کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد بین الاقوامی سطح پر اور اسرائیل میں شدید
سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس کے دفتر سے
جاری ہونے والے ایک صدارتی فرمان کے مطابق اب صدارتی اور قانون ساز انتخابات 11
ستمبر 2027 کو ایک ساتھ ہوں گے۔ فلسطینی سرکاری خبر رساں ادارے ’وفا‘ کے مطابق اس
التوا کی بنیادی وجہ اسرائیلی اقدامات کی طرف سے کھڑی کی جانے والی ’رکاوٹیں‘ ہیں،
جو انتخابات کو ان کی طے شدہ تاریخ پر منعقد نہیں ہونے دے رہی ہیں۔
رواں ہفتے رام اللہ میں قائم فلسطینی
اتھارٹی نے مؤقف اپنایا تھا کہ اسرائیل نے فلسطینی الیکشن حکام کو مشرقی القدس یا
غزہ تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔ فلسطینی صدارت کا کہنا ہے کہ شفاف، منصفانہ
اور جامع انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے مناسب سیاسی، سیکیورٹی اور زمینی حالات
کی فراہمی انتہائی ناگزیر تھی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پارلیمانی انتخابات نومبر کی
28 تاریخ کو جبکہ صدارتی ووٹنگ 2027 کے آغاز میں متوقع تھی۔
اسرائیل
کا شدید ردعمل اور الزامات
اسرائیلی حکومت نے محمود عباس کے اس
اقدام کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کو ’کرپٹ‘ قرار دیا ہے۔ اسرائیلی
وزیر خارجہ گیڈین سار نے جمعہ کو صدر عباس پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا
کہ وہ قانون ساز انتخابات کو ملتوی کرنے کا منصوبہ بنا کر بین الاقوامی برادری کو
’بے وقوف‘ بنا رہے ہیں۔ دوسری جانب، یورپی یونین سمیت بین الاقوامی برادری طویل
عرصے سے فلسطینی اتھارٹی سے اصلاحات کے تحت باقاعدہ انتخابات کے انعقاد پر زور
دیتی رہی ہے، تاکہ فلسطینی سیاسی نظام میں شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔
انتخابات
اور اندرونی تقسیم
فلسطینی علاقوں میں آخری بار قانون ساز
انتخابات 2006 میں منعقد ہوئے تھے، جن میں حماس نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔ ان
انتخابات میں حماس نے فتح کو شکست دی تھی، جو فلسطینی اتھارٹی پر غلبہ رکھتی ہے۔
اس انتخابی نتیجے کے بعد دونوں دھڑوں کے درمیان شدید کشمکش شروع ہو گئی اور بعد
میں حماس نے غزہ کی پٹی پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس سیاسی اور علاقائی تقسیم نے
مغربی کنارے میں فتح اور غزہ میں حماس کی حکمرانی کا رخ اختیار کر لیا۔ اس سنگین
رسہ کشی کے نتیجے میں فلسطینی قانون ساز کونسل (پارلیمنٹ) کا اجلاس 2007 کے بعد سے
اب تک ایک بار بھی منعقد نہیں ہو سکا ہے۔
محمود
عباس کا طویل اقتدار اور فرمان روائی
فلسطینی صدر محمود عباس نے آخری بار
2005 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی، جن کی آئینی مدت 2009 میں ختم
ہونی چاہیے تھی۔ تاہم اس کے بعد سے وہ بغیر کسی نئے انتخابی مینڈیٹ کے صدارتی
فرمان کے ذریعے اپنی حکومت چلا رہے ہیں، جس پر اندرون اور بیرون ملک سے مسلسل
سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔