راولپنڈی: ضلعی انتظامیہ نے امن و
امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ضلع راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کر دی، جس کے
تحت اجتماعات، جلسوں، جلوسوں، دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی
ہے۔ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی ندیم ناصر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق دفعہ
144 کا نفاذ 10 اکتوبر سے 8 نومبر 2026 تک، مجموعی طور پر 30 روز کے لیے ہوگا،
پابندی کا اطلاق ضلع راولپنڈی کی حدود میں کیا جائے گا۔ حکم نامے کے تحت پانچ یا
اس سے زائد افراد کے اجتماع، دھرنے، ریلیوں، جلسوں، جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں پر
پابندی عائد کی گئی ہے، اس کے علاوہ اسلحے کی نمائش، نفرت انگیز تقاریر، ڈرون کے
استعمال اور ون ویلنگ پر بھی پابندی ہوگی۔ ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ احکامات کے
مطابق پابندی کے دوران متعلقہ ممنوعہ سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوگی، دفعہ 144 کا
نفاذ 8 نومبر 2026 تک برقرار رہے گا جب کہ اس کا دائرہ کار ضلع راولپنڈی کی
انتظامی حدود تک محدود ہوگا۔ دوسری جانب حکام کا کہنا تھا کہ شہریوں سے اپیل کی
جاتی ہے کہ وہ نافذ کردہ احکامات کی پابندی کریں اور خلاف ورزی سے گریز کریں۔
دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا
فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ کل وفاقی کابینہ فیصلہ کرے گی کہ ایمرجنسی لگانی ہے
یا گورنرراج یا دونوں لگانے ہیں۔ نجی
ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ کسی بھی چیز
کا ابھی تک سرکاری طور پر فیصلہ نہیں ہوا، جو بھی فیصلہ ہوا ہے لیکن سرکاری طور پر
کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ کل وفاقی کابینہ فیصلہ کرے گی کہ ایمرجنسی لگانی ہے
یا گورنر راج یا دونوں لگانے ہیں، پی ٹی آئی سے اب مزید بات چیت کا امکان نہیں۔ فیصل
کریم کنڈی نے مزید کہا کہ گورنر راج لگا تو پورے صوبے میں لگے گا، کچھ علاقوں میں
شاید ایمرجنسی لگانی پڑے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پورے صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج
بھی ہوسکتا ہے، کابینہ کے فیصلے سے پتا لگے گا۔ گورنر خیبرپختونخوا نے یہ بھی کہا
کہ اگر وزیراعلیٰ اپنے لوگوں کا تحفظ نہیں کرسکتے تو استعفیٰ دے دیں، پی ٹی آئی
کے کئی لوگ گرفتار ہیں یا فرمائشی گرفتاریاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی
آئی والے گفتگو ہی نہیں کرنا چاہتے وہ سیاسی جماعت ہی نہیں، انہوں نے انتشار کے
بغیر کبھی بات ہی نہیں کی۔