اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر
معیشتوں میں آئندہ چند برس کے دوران روزگار کی منڈی میں داخل ہونے والے 80 کروڑ
نوجوانوں کو ملازمتیں نہیں مل سکیں گی۔ ادارے کے منتظم الیگزنڈر ڈی کرو نے سرمایہ
کاری اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے دو نئے اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے
کہ آئندہ 15 برس میں ایک ارب 20 کروڑ نوجوان تعلیم مکمل کرکے روزگار کی منڈی میں داخل ہوں گے۔ جن میں سے صرف 40 کروڑ کو ہی ملازمتیں مل سکیں گی۔ اس بڑے فرق کی بنیادی
وجہ آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ بہت سے ترقی پذیر ممالک میں آبادی کی درمیانی عمر
18 سے 25 برس کے درمیان ہے۔ انہوں نے وضاحت کی ہے کہ یہ تخمینے ٹیکنالوجی کی موجودہ صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیے گئے ہیں جو خود بخود
وقوع پذیر نہیں ہو گی بلکہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
پائیدار روزگار کے مواقع
'یو این ڈی پی' کی جانب سے اعلان کردہ پہلا اقدام سرمایہ کاری میں
تیزی لانے سے متعلق ہے جس کا مقصد حکومتوں کو سرمایہ کاری سے متعلق پالیسیوں اور
قانونی ڈھانچوں کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کے لیے تیار منصوبوں کی فہرست مرتب
کرنے اور انہیں تیاری کے مرحلے سے نفاذ تک پہنچانے میں مدد دینا ہے۔ خوش حالی کے
لیے روزگار کی سہولت نامی دوسرے اقدام کے تحت رکن ممالک کو ایسے شعبوں کی نشاندہی
میں مدد دی جائے گی جہاں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہونے کی صلاحیت موجود ہو،
افرادی قوت کی مہارتوں کو آجروں کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جاسکے اور کاروباری
سرمایہ کاری و بھرتیوں کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہو سکیں۔
انہوں نے روزگار پرمصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ممکنہ اثرات بارے کہا ہے
کہ فعال اور موثر پالیسیوں کے ذریعے ان تخمینوں کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ نگہداشت،
زراعت اور سیاحت جیسے شعبوں میں روزگار کے بہت سے مواقع بدستور پیدا ہوتے رہیں گے
چاہے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی ہی کیوں نہ آ جائے۔ لوگوں کو غربت سے
نکالنے کا واحد حقیقی اور پائیدار راستہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ ان دونوں
اقدامات کے لیے عالمی بینک گروپ، یورپی سرمایہ کاری بینک اور یورپی بینک برائے تعمیرنو و ترقی کے
ساتھ شراکت کو وسعت دی جا رہی ہے۔ نیپال، یمن، ہیٹی، لبنان اور گھانا میں ان
اقدامات کے ابتدائی منصوبوں پر کام بھی شروع ہو چکا ہے۔
تین بڑے معاشی دھچکے
ان اقدامات کا اعلان ایسے وقت کیا گیا ہے جب بہت سے ترقی پذیر ممالک
کو بیک وقت تین بڑے معاشی دھچکوں کا سامنا ہے۔ ڈی کرو نے اس
صورتحال کو سہ طرفی بحران قرار دیا جس میں توانائی کی بلند قیمتیں، 1950 کے بعد
آنے والا شدید ترین ال نینو اور قرض لینے کی انتہائی بلند لاگت شامل ہیں۔ اب
اوسطاً ایک ترقی پذیر ملک اپنی حکومت کی مجموعی آمدنی کا 9.5 فیصد صرف قرضوں پر
سود کی ادائیگی میں خرچ کر رہا ہے۔ 2010 کے بعد پہلی مرتبہ کثیرالجہتی غربت میں
زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد بھی بڑھ گئی ہے۔ اس
غربت کا مطلب صرف آمدنی کی کمی نہیں بلکہ اس میں بجلی، پانی، صحت کی سہولتوں اور تعلیم تک عدم یا ناقص رسائی جیسے عوامل بھی شامل ہیں۔
ڈی کرو نے کہا کہ عالمی معیشت توقعات
کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے لیکن اس مضبوطی کے ثمرات تمام ممالک تک
یکساں طور پر نہیں پہنچ رہے۔ بعض ممالک کی معاشی بنیادیں اب بھی کافی مضبوط ہیں،
جبکہ دیگر ممالک کے پاس ایسی بنیادی صلاحیت موجود نہیں کہ وہ مزید معاشی دھچکوں کو سہہ سکیں۔