اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے
بڑھتے اثرات، مصنوعی ذہانت کے انقلاب، جنگوں اور بھوک کے پھیلاؤ کے پیش نظر اس
عالمی ادارے کی ضرورت آج پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے آئندہ سال کے لیے
ادارے کا 3.3 ارب ڈالر مالیتی مجوزہ پروگرام بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کو غیر معمولی نوعیت کے مسائل درپیش ہیں۔ جغرافیائی و سیاسی اختلافات گہرے ہو رہے ہیں، مختلف خطوں میں مسلح تنازعات
جاری ہیں، امداد کی ضرورت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، بین الاقوامی قانون کو
پامال کیا جا رہا ہے، موسمیاتی بحران ہر براعظم کو متاثر کر رہا ہے اور مصنوعی
ذہانت معیشتوں اور معاشروں کی تشکیل نو کر رہی ہے۔ پائیدار ترقی کے
اہداف کا حصول مزید مشکل ہوتا جا رہا ہے جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ترقی کے
ثمرات سے کوئی بھی محروم نہ رہے۔ غیر یقینی
صورتحال اور بڑھتی ہوئی تقسیم کے اس دور میں اقوام متحدہ کی ضرورت اور اہمیت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
'یواین
80' اقدام پر پیش رفت
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پانچویں کمیٹی سے خطاب کر رہے
تھے جو نیویارک میں ادارے کے انتظامی اور بجٹ سے متعلق امور کی نگرانی کرتی ہے۔ انہوں
نے کمیٹی کو یاد دلایا کہ اقوام متحدہ کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں اصلاحات کے لیے شروع کیے گئے 'یو این 80'
اقدام کو ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔ ادارے
میں دور رس تبدیلیوں کے اس عمل کا مقصد سیکرٹریٹ کو زیادہ موثر، فعال اور تیزی سے
بدلتی دنیا کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا
ہے۔ اس اقدام کے تحت اب تک
ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیکرٹریٹ اب محض تجاویز پیش
کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ان پر عملدرآمد شروع کر چکا ہے۔ اس ضمن میں حاصل ہونے
والی نمایاں کامیابیاں درج ذیل ہیں:
- ·
اگست 2024 سے
اگست 2026 کے دوران کم نمائندگی والے رکن ممالک کی تعداد 28 سے کم ہو کر 26 رہ گئی۔
- ·
بین الاقوامی
سطح پر بھرتی کیے گئے عملے میں مردوں اور خواتین کی نمائندگی میں برابری حاصل کر
لی گئی ہے۔
- ·
اجرتوں کی
ادائیگی سے متعلق کارروائیوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔
- ·
مشترکہ
انتظامی پلیٹ فارمز کے پہلے مرحلے کا نیویارک اور بنکاک میں آغاز ہو گیا ہے۔
- ·
اقوام متحدہ
کے بعض شعبوں کے افعال اور ذمہ داریاں ایسے دفاتر میں منتقل کی گئی ہیں جہاں
اخراجات نسبتاً کم ہیں۔
- ·
سیکریٹریٹ نے
باقاعدہ بجٹ کے تحت منظور شدہ 3,116 آسامیوں کی کمی کو اپنے انتظامی ڈھانچے میں سمو
لیا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ رضاکارانہ طور پر قبل از وقت ملازمت چھوڑنے کے عمل اور عملے کی دوسری
ذمہ داریوں پر تعیناتی کے باعث ملازمین پر پڑنے والے اثرات توقع سے کہیں کم رہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ متوقع مالی کمی کے پیش نظر ڈیڑھ سال پہلے ہی منصوبہ
بندی شروع کر دی گئی تھی۔
اصلاحات کا آئندہ مرحلہ
سیکرٹری جنرل نے 2027 کے لیے اقوام متحدہ کے 12 اداروں میں مزید عہدوں اور ذمہ داریوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے
کی تجویز پیش کی۔ ایسی بیشتر منتقلی کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں کرنے کی تجویز
ہے۔ انہوں نے بعض اعلیٰ سطحی عہدے ختم کرنے، 14 اعلیٰ عہدوں کے درجے کم کرنے اور
مشترکہ انتظامی پلیٹ فارمز کا دائرہ جنیوا، نیروبی، ویانا اور ادیس ابابا تک
بڑھانے کی تجاویز بھی پیش کیں۔ سیکرٹری جنرل نے نشاندہی کی کہ پہلی مرتبہ مجوزہ بجٹ میں ابتدا سے ہی اخراجات کے تخمینوں
میں متوقع تبدیلیوں کو شامل کیا گیا ہے۔
مالی بحران کے خدشات
انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا کہ محض اخراجات میں کفایت اور انتظامی
کارکردگی میں بہتری سے ادارے کی مالی بنیاد کو غیر مستحکم ہونے سے نہیں بچایا جا
سکتا۔ رکن ممالک کو اقوام متحدہ کے منشور کے تقاضوں کے مطابق اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اسے
بروقت ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کو مستحکم اور قابل بھروسہ
مالی وسائل کی ضرورت ہے تاکہ یہ ان ذمہ داریوں پر موثر انداز میں عملدرآمد کر سکے
جن کی منظوری خود رکن ممالک نے دی ہے۔