اسرائیل میں آج ہونے والے
پارلیمانی انتخابات میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے سیاسی مخالفین کے
درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے جہاں اول الذکر کو لگ بھگ 19 سالہ اقتدار سے محروم
ہونے کا خطرہ لاحق ہے مگر ان کے مخالفین کے لیے بھی حکومت بنانے کا راستہ واضح اور
آسان نہیں ہے۔ یہ انتخابات اکتوبر 2023 کو فلسطین
پر حملے کے بعد اسرائیل کے پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ اس حملے کے بعد مشرق
وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہوا جبکہ اسرائیل نے غزہ اور لبنان میں جنگ لڑی اور
ایران پر فضائی حملے بھی کیے۔
بنجمن نیتن یاہو: طویل سیاسی سفر اور اقتدار بچانے کی جدوجہد
بنجمن نیتن
یاہو 2009 سے بیشتر عرصے اسرائیل کے وزیراعظم رہے ہیں، جبکہ اس سے قبل وہ 1990 کی
دہائی میں بھی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز رہ چکے ہیں۔ وہ عالمی سطح پر اسرائیل
کی نمایاں سیاسی شخصیت اور اپنے ملک میں ایک متنازع رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ نیتن
یاہو کے حامی انہیں ’کنگ بی بی‘ کہتے ہیں اور دشمنوں میں گھرے خطے میں اسرائیل کے
دفاع کے لیے مضبوط قیادت قرار دیتے ہیں۔
دوسری جانب غزہ میں مبینہ
جنگی جرائم کے الزامات پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے مطلوب ہونے اور
اسرائیل میں بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کرنے کے باعث ان کی سیاسی پوزیشن دباؤ
میں ہے۔ جبکہ نیتن یاہو ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔ 7 اکتوبر کے حملے کے بعد
نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی، جس سے ان کی سکیورٹی
پالیسیوں پر سوالات اٹھے۔ مذہب اور ریاست سے متعلق ان کی حکومتی پالیسیوں کو بھی
بہت سے اسرائیلیوں کی مخالفت کا سامنا ہے۔ لیکن اس کے باوجود نیتن یاہو سیاسی
طور پر مضبوط بقا کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انتخابات
میں کامیابی کی صورت میں وہ ایک وسیع قومی حکومت قائم کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیکن
اگر کسی جماعت یا اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملی تو وہ عبوری وزیراعظم کی حیثیت سے
کئی ماہ تک منصب پر برقرار رہ سکتے ہیں۔
نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف کون ہیں؟
سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ(
(Gadi Eisenkot 66 سالہ رہنما ہیں،
جنہوں نے غزہ میں لڑائی کے دوران اپنا بیٹا کھویا۔ وہ خود کو روایتی سیاست سے ہٹ
کر ایک سکیورٹی پر مبنی رہنما کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ وہ نئی معتدل جماعت ”یاشار“(Yashar) کی قیادت کر رہے ہیں، جس کے نام کا عبرانی زبان میں مطلب ”سیدھا“
یا ”ایماندار“ ہے۔
سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ
(Naftali
Bennet), 54 سالہ سابق کمانڈو اور دائیں بازو کے رہنما ہیں،
جو ماضی میں نیتن یاہو کے معاون بھی رہ چکے ہیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم یائیر
لاپید (Yair Lapid) کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔ ان کی نئی جماعت کا نام ”ٹُوگیدر““Together” ہے،
جس کی انتخابی مہم قومی اتحاد، ملک میں معمولات کی بحالی اور معاشرتی زخموں کو
مندمل کرنے کے پیغام پر مرکوز ہے۔ دونوں رہنما مختلف سیاسی نظریات کے باوجود 2021
میں نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
سابق وزیر دفاع 68 سالہ ایوگدور لیبرمین (Avigdor Lieberman) کبھی نیتن یاہو کے قریبی اتحادی رہے ہیں۔ جبکہ
وہ فلسطینی عسکریت پسندوں کے معاملے میں نیتن یاہو سے بھی زیادہ سخت مؤقف رکھتے
ہیں۔ 2018 میں انہوں نے غزہ کے حوالے سے نیتن یاہو کی پالیسی کو نرم قرار دیتے
ہوئے حکومت چھوڑ دی تھی۔ ان کی جماعت ”اسرائیل ہمارا گھر“ کو سابق سوویت یونین سے
آنے والے تارکین وطن کی حمایت حاصل ہے۔
سابق جنرل یائیر گولان (Yair Golan) کو حماس حملے کے دوران لوگوں
کو بچانے کے حوالے سے سراہا گیا تھا۔ وہ ڈیموکریٹس جماعت کی قیادت کرتے ہیں، جو
اسرائیل کی تاریخی لیبر پارٹی کے باقی ماندہ دھڑوں اور بائیں بازو کی جماعت میرٹز
کے امتزاج سے قائم ہوئی۔
نیتن یاہو کے سخت
گیر اتحادی بھی انتخابی میدان میں
اسرائیل کے
وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ (Bezalel
Smotrich) اور وزیر قومی سلامتی
ایتامار بن گویر(Itamar Ben-Gvir)
نیتن یاہو کے اہم اتحادی ہیں۔ فلسطینیوں کے حوالے سے ان کی انتہائی دائیں بازو کی
پالیسیوں پر عالمی سطح پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔ سموٹریچ(Bezalel Smotrich) مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی
توسیع کے حامی ہیں اور فلسطینی ریاست کے قیام کے تصور کو ختم کرنے کی خواہش کا
اظہار کر چکے ہیں۔ بن
گویر (Itamar Ben-Gvir)کو
2007 میں عربوں کے خلاف نسل پرستانہ اشتعال انگیزی کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔
وہ سزا یافتہ فلسطینی عسکریت پسندوں کے لیے سزائے موت، جیلوں میں قید فلسطینیوں کے
لیے سخت شرائط اور اسرائیلی شہریوں کے لیے اسلحہ رکھنے میں آسانی کے حامی ہیں۔ دونوں رہنما غزہ سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے اور
وہاں اسرائیلی آبادکاری کی حمایت بھی کر چکے ہیں۔
مذہبی جماعتیں نیتن یاہو کی سیاسی بقا کے لیے اہم
نیتن یاہو
طویل عرصے سے دو انتہائی مذہبی یہودی جماعتوں، یونائیٹڈ تورات جوڈازم اور شاس (United Torah Judaism and Shas)،
کی حمایت پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ ان
جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ ان کی برادری کے بیشتر افراد کو لازمی فوجی سروس سے
استثنیٰ دیا جائے۔ اس کے علاوہ ان کی برادری میں روزگار کی نسبتاً کم شرح اور
سرکاری مراعات پر انحصار بھی بہت سے اسرائیلیوں میں ناراضی کا سبب بن رہا ہے،
خصوصاً ایسے وقت میں جب ملک جنگی حالات سے گزر رہا ہے۔
چھوٹی جماعتیں انتخابی نتائج کا رخ بدل سکتی ہیں
انتخابی
مقابلے میں ایسی جماعتیں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں جو واضح طور پر نیتن یاہو
یا ان کے مخالفین کے ساتھ نہیں ہیں۔ ان میں رعام اور جوائن) ( Ra'am and Joint لسٹ شامل ہیں، جو اسرائیل کی تقریباً 20 فیصد عرب آبادی کی نمائندگی
کرتی ہیں۔ اس
کے علاوہ نئی دائیں بازو کی جماعت ”پیپل آف اسرائیل“ اور مرکز سے دائیں جانب جھکاؤ
رکھنے والی جماعت ”دی ریزروسٹس“ بھی انتخابی منظرنامے کا حصہ ہیں۔ رائے عامہ کے
جائزوں میں ان جماعتوں کی پوزیشن میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ان جماعتوں کا فیصلہ کن کردار حکومت سازی میں اہم
ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اگر کسی بڑے اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملی تو چھوٹی
جماعتوں کی حمایت ہی اقتدار کا فیصلہ کر سکتی ہے۔
ٹرمپ کی نیتن یاہو کے لیے اپیل
امریکی صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے پارلیمانی انتخابات سے قبل ایک بار پھر نیتن یاہو کی
حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی ووٹروں پر زور دیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو ووٹ
دیں تاکہ ہم نے جو کام مل کر شروع کیا ہے اسے مکمل کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی 120 نشستوں پر مشتمل پارلیمان، جسے
کنیسٹ کہا جاتا ہے، کے انتخابات عام طور پر ہر چار سال بعد ہوتے ہیں، تاہم ملک میں
قبل از وقت انتخابات بھی اکثر منعقد ہوتے رہے ہیں۔ کنیسٹ کی نشستیں متناسب
نمائندگی کے نظام کے تحت جماعتوں کو حاصل ہونے والے ووٹوں کی بنیاد پر تقسیم کی
جاتی ہیں۔ اسرائیل میں اب تک کوئی ایک جماعت تنہا پارلیمان
میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکی، اس لیے حکومتیں مختلف جماعتوں کے اتحاد سے
تشکیل پاتی ہیں۔ حکومت سازی کیلیے مذاکرات اکثر کئی ہفتوں تک جاری رہتے ہیں، اگر
نامزد امیدوار حکومت بنانے میں ناکام رہتا ہے تو دوسرے امیدواروں کو موقع دیا جا
سکتا ہے۔ اگر کوئی بھی حکومت تشکیل نہ دے تو نئے انتخابات کرائے جا سکتے ہیں، اس
دوران موجودہ کابینہ نگران حکومت کے طور پر کام کرتی رہے گی۔