برطانیہ کے یورپی یونین
سے باقاعدہ انخلا یعنی بریگزٹ کو ایک دہائی مکمل ہونے پر ملکی سیاسی اور معاشی
حلقوں میں یہ احساس شدت اختیار کر چکا ہے کہ علیحدگی کے جس فیصلے کا مقصد سرحدوں
کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا اور امیگریشن کو محدود کرنا تھا، اس نے فوائد کے بجائے
ملک کو ناقابلِ تلافی معاشی اور انتظامی نقصان پہنچایا ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم
اینڈی برہم کے حالیہ بیانات نے اس اعتراف کو باضابطہ حکومتی سطح پر تسلیم کر لیا
ہے کہ برطانیہ پچھلے دس سالوں کے دوران اپنی سرحدوں پر وہ موثر کنٹرول کھو چکا ہے
جو اسے یورپی یونین کا رکن ہوتے ہوئے حاصل تھا۔
اس یوٹرن کی سب سے بڑی
وجہ تارکینِ وطن کے نظام میں آنے والی بنیادی بگاڑ ہے۔ بریگزٹ سے قبل یورپی یونین
کے تحت برطانیہ میں آنے والی لیبر زیادہ تر وقتی یا موسمی ہوا کرتی تھی، جہاں لوگ
کام ختم کر کے واپس اپنے ممالک لوٹ جاتے تھے، جسے ایک "گھومتا ہوا دروازہ" (Revolving
Door) کہا جاتا تھا۔ تاہم
بریگزٹ کے بعد جب یورپی کارکنوں کی آمد رکی، تو برطانوی معیشت کو سہارا دینے کے
لیے ویزا کا نیا نظام لایا گیا، جس کے نتیجے میں بھارت، نائیجیریا اور دیگر غیر
یورپی خطوں سے آنے والے لاکھوں افراد مستقل رہائش اور اپنے خاندانوں کے ساتھ
برطانیہ میں آباد ہونے لگے، جس کے سبب مارچ 2023 تک نیٹ مائیگریشن تاریخ کی بلند
ترین سطح یعنی 9 لاکھ 44 ہزار تک جا پہنچی۔
اس کے ساتھ ساتھ انگلش
چینل میں غیر قانونی چھوٹی کشتیوں
(Small Boats) کا سنگین بحران پیدا
ہوا، کیونکہ یورپی یونین سے نکلنے کے بعد برطانیہ تارکینِ وطن کی واپسی کے تاریخی
ڈبلن معاہدے (Returns
Agreement) سے محروم ہو گیا، جس کے
تحت غیر قانونی داخل ہونے والوں کو باآسانی فرانس یا دوسرے یورپی ممالک واپس بھیجا
جا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ برطانوی معیشت کو تجارتی رکاوٹوں، دفتری کاغذی
کارروائیوں اور صحت کے قومی شعبے
(NHS)،
ہوٹل انڈسٹری، زراعت اور لاجسٹکس میں لیبر کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس
نے بالآخر لندن کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ برسلز کے ساتھ اپنے تعلقات پر ازسرِ نو
نظرثانی کرے۔
آزادانہ نقل و حرکت (Free Movement) کی بحالی اور اس کا عملی فریم ورک
اگر برطانیہ اور یورپی
یونین کے درمیان آزادانہ نقل و حرکت کا معاہدہ دوبارہ بحال ہوتا ہے تو اس سے دونوں
خطوں کے شہریوں کے روزگار، سفر اور قانونی رہائش کے بنیادی حقوق یکسر تبدیل ہو
جائیں گے۔ اس اقدام سے موجودہ کڑا پوائنٹس بیسڈ سسٹم ختم ہو جائے گا اور اس کی جگہ
یورپی سنگل مارکیٹ کے باہمی حقوق کا نظام لے لے گا:
برطانوی شہریوں کے
حقوق: برطانوی شہریوں پر یورپی شینگن زون میں عائد 90 دن کے قیام کی کڑی پابندی
فوری ختم ہو جائے گی۔ برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کو یورپ کے تمام ستائیس
ممالک میں رہنے، تعلیم حاصل کرنے اور ملازمت کرنے کے لیے کسی پیشگی ویزے، ایمپلائر
کی اسپانسرشپ، یا الیکٹرانک اجازت ناموں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس کے علاوہ
برطانوی شہریوں کو یورپ بھر میں باہمی مفت ہیلتھ انشورنس (EHIC) اور بیرونِ ملک کام کے دوران جمع ہونے والی ریاستی پنشن کو باہم
منتقل کرنے کی قانونی سہولت بھی دوبارہ مل جائے گی۔
یورپی شہریوں کے لیے
شرائط کا خاتمہ: دوسری جانب یورپی یونین کے شہریوں کے لیے برطانیہ میں داخلے کی وہ
تمام رکاوٹیں ختم ہو جائیں گی جو بریگزٹ کے بعد نافذ کی گئی تھیں۔ یورپی ورکرز کو
اسکلڈ ورکر ویزا کے لیے مقرر کردہ 38,700 برطانوی پاؤنڈز کی بھاری سالانہ آمدنی کی
شرط پوری نہیں کرنی پڑے گی، نہ ہی انہیں ہزاروں پاؤنڈز کی ویزا فیس اور امیگریشن
ہیلتھ سرچارج ادا کرنا ہوگا۔ یورپی شہری ملازمت کی تلاش کے لیے براہِ راست برطانیہ
آ سکیں گے اور بغیر کسی رکاوٹ کے روزگار شروع کر سکیں گے۔
قانون سے متعلق غلط
فہمی کا ازالہ: عوامی سطح پر یہ غلط فہمی عام ہے کہ فری موومنٹ کے تحت ہر غیر ملکی
کو تاحیات مفت رہنے کی کھلی چھوٹ مل جاتی ہے۔ حقیقت میں یورپی قوانین کے مطابق تین
ماہ سے زائد قیام کے لیے ہر فرد کا برسرِ روزگار ہونا، اپنا کاروبار کرنا، باقاعدہ
تعلیم حاصل کرنا، یا مالی طور پر خود کفیل ہونا اور نجی ہیلتھ انشورنس رکھنا
قانونی طور پر لازمی ہوتا ہے۔
یوتھ موبلٹی اسکیم اور
فوری ورکنگ پرمیشنز کی تجاویز
مکمل آزادانہ نقل و
حرکت کی بحالی چونکہ ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے، اس لیے ابتدائی اور عبوری مرحلے
کے طور پر ایک باہمی "یوتھ موبلٹی اسکیم" (Youth Mobility Scheme) پر تیزی سے کام جاری ہے۔ یورپی کمیشن کی جانب سے
پیش کردہ اس منصوبے کے تحت 18 سے 30 سال کی عمر کے برطانوی اور یورپی نوجوانوں کو
باہم سفر، تعلیم اور کام کرنے کے لیے ایک آسان اور خودکار ویزا ماڈل فراہم کیا
جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت نوجوانوں
کو بغیر کسی بھاری تنخواہ کے تھریشولڈ یا سخت اسپانسرشپ کے دو سے تین سال تک دوسرے
ملک میں رہ کر تجربہ حاصل کرنے کی اجازت ہوگی۔ یہ منصوبہ برطانوی یونیورسٹیوں،
سائنسی و تحقیقی اداروں اور نوجوان افرادی قوت کے لیے فوری ریلیف ثابت ہوگا، جبکہ
برطانوی ہاسپٹلٹی اور سروسز سیکٹر کو فوری طور پر باصلاحیت نوجوان عملہ میسر آ سکے
گا۔ اسے مستقبل کے مکمل معاشی و لیبر معاہدے کی پہلی ٹھوس بنیاد سمجھا جا رہا ہے۔
سیاسی رکاوٹیں، عوامی
ریفرنڈم اور مستقبل کا لائحہ عمل
ان تمام معاشی اور
امیگریشن فوائد کے باوجود یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ اور فری موومنٹ میں فوری
واپسی آسان نہیں۔ برطانوی وزیرِ اعظم اینڈی برہم نے واضح کر دیا ہے کہ وہ عوام کی
براہِ راست رائے کے بغیر ایسا کوئی فیصلہ مسلط نہیں کریں گے، جس کا مطلب یہ ہے کہ
آزادانہ نقل و حرکت کی واپسی کے لیے ملک میں ایک نیا عوامی ریفرنڈم کرانا لازمی
ہوگا۔
اس کے علاوہ لیبر پارٹی کے انتخابی منشور میں طے
کردہ سرخ لکیریں موجودہ پارلیمانی مدت کے دوران اس نوعیت کی کسی بڑی تبدیلی کی
اجازت نہیں دیتیں، جس کی بنا پر مکمل فری موومنٹ پر باضابطہ قانون سازی 2029 کے
عام انتخابات کے بعد ہی عملی شکل اختیار کر سکے گی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس
عبوری عرصے کے دوران برطانیہ بتدریج سیکٹر وار معاہدوں، یوتھ موبلٹی، اور باہمی
سیکیورٹی پروٹوکولز کے ذریعے یورپ کے قریب آئے گا، تاکہ 2026 کے بعد برطانوی معیشت
کو تنہائی کے اثرات سے نکال کر ایک بار پھر عالمی دھارے میں شامل کیا جا سکے۔