جاپان کی وزیرِ اعظم
ثناء تاکائیچی کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹوئٹر) کے باضابطہ اکاؤنٹ پر
غیر ملکی شہریوں اور امیگریشن پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل اور تبصروں میں ایک
سال کے دوران غیر معمولی اور ریکارڈ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جاپانی خبر رساں
ادارے 'جی جی پریس' کی جانب سے سوشل میڈیا مانیٹرنگ پلیٹ فارم 'برانڈ واچ' کے
تعاون سے کیے جانے والے ایک جامع سروے کے مطابق، وزیرِ اعظم کے عہدہ سنبھالنے کے
بعد سے اب تک ان کی پوسٹس پر آنے والے پندرہ لاکھ سے زائد تبصروں میں سے سات
اعشاریہ پانچ فیصد براہِ راست غیر ملکی باشندوں اور تارکینِ وطن کے موضوع کے گرد
گھومتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رجحان جاپانی معاشرے میں مقیم غیر ملکیوں کی
مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد پر مقامی آبادی کے اندر پائی جانے والی بے چینی، تشویش اور
امیگریشن سے متعلق حساسیت کا واضح عکاس ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ
عوام کی جانب سے تارکینِ وطن کا تذکرہ ان پوسٹس کے نیچے بھی تواتر کے ساتھ کیا جا
رہا ہے جن کا غیر ملکیوں یا سرحدوں کے انتظام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک برس میں وزیرِ اعظم ثناء تاکائیچی نے کل آٹھ سو
اڑسٹھ پیغامات جاری کیے جن میں سے محض سولہ پیغامات، یعنی ایک اعشاریہ آٹھ فیصد
میں غیر ملکی شہریوں یا ان سے متعلق پالیسیوں پر بات کی گئی تھی۔ اس کے باوجود
پندرہ لاکھ دو ہزار سے زائد موصول ہونے والے جوابات میں سے ایک لاکھ بارہ ہزار سے
زائد کمنٹس میں تارکینِ وطن کا تذکرہ کیا گیا۔ اس ردعمل میں اس وقت زبردست تیزی
آئی جب ستمبر کے اواخر میں وزیرِ اعظم نے جاپان میں غیر ملکیوں کے لیے مستقل رہائش (Permanent Residency)
کی شرائط کو مزید سخت
اور کڑا بنانے سے متعلق حکومتی پالیسی کی وضاحت پوسٹ کی، جس کے بعد ایک ہی دن میں
امیگریشن سے متعلق تبصروں کی تعداد دو سو سولہ سے بڑھ کر تقریباً پانچ ہزار تک
پہنچ گئی۔
سوشل میڈیا پر غیر
ملکیوں سے متعلق پائی جانے والی بے چینی کا سب سے بڑا مظاہرہ اٹھارہ اکتوبر کو اس
وقت دیکھنے میں آیا جب وزیرِ اعظم نے اسکول جانے والے کمسن بچوں کے تحفظ اور سڑکوں
پر جرائم کی روک تھام سے متعلق ایک خالصتاً داخلی انتظامی منصوبہ شیئر کیا۔ اس
پوسٹ کا غیر ملکی شہریوں سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود چھ ہزار پانچ
سو سے زائد جوابات، جو مجموعی کمنٹس کے نصف سے بھی زیادہ تھے، تارکینِ وطن کے خلاف
تحریر کیے گئے۔ کمنٹس میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے یہ دعویٰ کیا کہ جاپان کی
نرم امیگریشن پالیسی جاپانی بچوں کے تحفظ کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے اور حکومت کو
غیر ملکیوں کی آمد کا سلسلہ فوری بند کر دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ متعدد تبصروں میں
جاپان کے سماجی تحفظ اور پنشن کے نظام پر غیر ملکیوں کے بوجھ بننے کے خدشات ظاہر
کیے گئے، جبکہ کئی صارفین نے یہ غیر مصدقہ دعوے بھی دہرائے کہ فوجداری جرائم میں
ملوث غیر ملکی اکثر سزاؤں سے بچ نکلتے ہیں۔
ڈیجیٹل جذبات کے تجزیے نے یہ تشویشناک حقیقت بھی
ظاہر کی ہے کہ وزیرِ اعظم کو موصول ہونے والے ایسے کمنٹس میں منفی بیانات مثبت
بیانات کے مقابلے میں تین گنا زیادہ تھے۔ اگرچہ ابتدائی مہینوں میں مثبت اور منفی
آراء کا تناسب برابر تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں منفی جذبات کا پلڑا نمایاں طور پر
بھاری ہوتا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں ابھری ہے جب رواں سال جون کے
اختتام تک جاپان میں رجسٹرڈ غیر ملکی تارکینِ وطن کی مجموعی تعداد بیالیس لاکھ
اکیاسی ہزار سے تجاوز کر کے ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ جاپان کی
تیزی سے بوڑھی ہوتی آبادی اور مزدوروں کی شدید قلت کے پیشِ نظر ایک طرف جہاں حکومت
غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار بڑھانے پر مجبور ہے، وہیں دوسری جانب انٹرنیٹ اور
سوشل میڈیا پر اٹھنے والی یہ لہر جاپانی معاشرے میں تارکینِ وطن کے انضمام اور
مستقبل کی امیگریشن پالیسیوں کے سامنے ایک بڑا سیاسی اور معاشرتی چیلنج بنتی
دکھائی دے رہی ہے۔