بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے( کے
صدر یوجی ایواساوا نے بتایا ہے کہ عدالت کے روبرو مقدمات کا بوجھ ریکارڈ سطح پر برقرار ہے اور اس وقت مختلف
ممالک کے درمیان 24 متنازع مقدمات زیر غور ہیں۔ انہوں
نے وضاحت کی ہے کہ رکن ممالک کے مابین تنازعات کئی طرح کے قانونی معاملات سے متعلق
ہیں جن میں زمینی اور سمندری حدود، سرحدوں کا تعین، انسانی حقوق، اقتصادی تعلقات،
قانونی استثنیٰ اور مختلف موضوعات پر ہونے والے
معاہدوں کی تشریح اور ان کا اطلاق شامل ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو عدالت کی سالانہ رپورٹ پر بریفنگ
دیتے ہوئے کہا ہے کہ یکم اگست 2025 کے بعد عدالت نے پانچ مقدمات میں سماعتیں کیں،
مداخلت سے متعلق ایک فیصلہ سنایا اور دو مشاورتی آرا جاری کیں۔ اس کے علاوہ، عارضی اقدامات کی درخواست پر ایک حکم
اور جوابی دعووں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق ایک اور حکم بھی جاری
کیا گیا۔ عدالت اس وقت دو مقدمات کے
قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔ ان میں مقبوضہ فلسطینی علاقے سے متعلق
بعض بین الاقوامی ذمہ داریوں کی مبینہ خلاف ورزی کا مقدمہ بھی شامل ہے جو نکاراگوا
نے جرمنی کے خلاف دائر کر رکھا ہے۔
عدالتی فیصلے
اور مشاورتی آراء
عدالت کے صدر نے جنرل اسمبلی کے سامنے عدالتی فیصلوں، جاری کردہ
مشاورتی آرا اور اہم احکامات کا مختصر جائزہ بھی پیش کیا۔ ان
میں سے ایک مشاورتی رائے میں قرار دیا گیا ہے کہ کارکنوں کا ہڑتال کرنے کا حق 1948
کے کنونشن برائے آزادی انجمن سازی اور تنظیم سازی کے تحت محفوظ ہے۔ یہ معاہدہ
کنونشن 87 کے نام سے بھی معروف ہے۔ یوجی
ایواسوا (Iwasawa
Yuji) نے گزشتہ سال
تیار کردہ اس رپورٹ کا حوالہ بھی دیا جو انہوں نے گزشتہ اکتوبر میں عدالت کی جانب
سے جاری کردہ مشاورتی رائے کے حوالے سے پیش کی تھی۔ یہ رائے مقبوضہ فلسطینی علاقے
میں اور اس کے حوالے سے اقوام متحدہ، دیگر بین الاقوامی اداروں اور رکن ممالک کی
موجودگی اور سرگرمیوں کے بارے میں اسرائیل کی ذمہ داریوں سے متعلق تھی۔
یوجی ایواساوا (Iwasawa
Yuji) نے عدالت کے پہلے اجلاس کے 80 سال مکمل ہونے پر
امسال منعقد ہونے والی مختلف تقریبات کا ذکر بھی کیا۔ اس
موقع پر انہوں نے عدالت کے شروع کردہ جوڈیشل فیلوشپ پروگرام ایلومنائی ایسوسی ایشن
کو بھی اجاگر کیا۔ اس پروگرام کے تحت دنیا بھر کی یونیورسٹیوں سے قانون کے 15 سے
16 باصلاحیت نوجوان گریجوایٹ طلبہ کو عدالت کے صدر دفتر میں اپنی قانونی معلومات
اور پیشہ ورانہ مہارتیں نکھارنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
قانونی تصفیے کی راہ
اس موقع پر جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ
بڑھتے ہوئے تنازعات اور کمزور پڑتے باہمی اعتماد کے ماحول میں یہ عدالت آزاد و غیر
جانب دار قانونی کارروائی کے ذریعے فریقین کو تصادم سے نکال کر قانونی تصفیے کی
راہ دکھاتی ہے۔ انہوں
نے کہا کہ عدالت حقوق اور ذمہ داریوں کی وضاحت کرتی ہے، قانونی یقین دہانی کو
مضبوط بناتی ہے اور قانون کے سامنے ریاستوں کی خودمختار مساوات کے اصول کو عملی
شکل دیتی ہے۔
یوجی ایواساوا (Iwasawa
Yuji) نے
اس مقصد کے حصول کے لیے اتین بنیادی ترجیحات بیان کیں:
- اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ عدالت آزادانہ اور غیر جانب دارانہ طور پر کام کر سکے۔
- ·عدالت کو سونپی گئی ذمہ داریوں کو اس کے لیے دستیاب وسائل کے مطابق رکھنا ضروری ہے۔
- ·بین الاقوامی قانون کے تحت عائد ذمہ داریوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہو گا۔