رپورٹ کے
مطابق اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں نے شام میں متعلقہ مقامات کے دورے کیے
اور دیر الزور کے مقام پر حالیہ کھدائی کے بعد سامنے آنے والے کولنگ سسٹم کے بنیادی
ڈھانچے کا جائزہ لیا۔ معائنہ کاروں کے مطابق یہ تنصیبات اس ڈیزائن سے مطابقت رکھتی
ہیں جو جوہری ری ایکٹر کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ وہی بنیادی
تنصیب ہے جسے اسرائیل نے ستمبر 2007 میں ایک فضائی حملے میں تباہ کردیا تھا۔ اسرائیل
طویل عرصے سے مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ وہاں ایک خفیہ جوہری ری ایکٹر بنایا جا
رہا تھا۔ اب سامنے آنے والی IAEA
رپورٹ اس مقام
سے متعلق تحقیقات میں مزید شواہد فراہم کرتی ہے۔
تحقیقات صرف
مرکزی تنصیب تک محدود نہیں رہیں۔ معائنہ کاروں نے تین مزید مقامات کی نشاندہی بھی
کی جو مبینہ طور پر اسی جوہری منصوبے سے عملی طور پر منسلک تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان
مقامات کو جوہری ایندھن کی تیاری، متعلقہ مواد ذخیرہ کرنے اور مستقبل میں استعمال
شدہ ایندھن کی ری پروسیسنگ سے متعلق سرگرمیوں کے لیے استعمال یا تیار کیا جا رہا
تھا۔
رپورٹ کا ایک
اہم انکشاف ایک دوسرے مقام سے تقریباً 73 ٹن غیر اعلانیہ قدرتی یورینیم دھات سے تیار
کردہ فیول راڈز کی موجودگی کی تصدیق ہے۔ یہ جوہری مواد اس سے قبل شام کی جانب سے IAEA کو باقاعدہ طور پر ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔
۔IAEA کے مطابق اس یورینیم کو اب بین الاقوامی
حفاظتی نگرانی یعنی سیف گارڈز کے تحت محفوظ کردیا گیا ہے، جس کا مقصد اس مواد کی
موجودگی، مقدار اور ممکنہ استعمال پر عالمی نگرانی یقینی بنانا ہے۔ یہ پیش رفت
شام کے سابق حکومتی دور کے جوہری پروگرام کے بارے میں تقریباً دو دہائیوں سے جاری
سوالات کے تناظر میں انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ دیر الزور کی تنصیب 2007 میں
تباہ ہونے کے بعد دمشق اس بات سے انکار کرتا رہا تھا کہ وہاں کوئی خفیہ جوہری ری ایکٹر
تعمیر کیا جا رہا تھا۔
تاہم یہ بات
اہم ہے کہ تازہ معلومات IAEA
کی ایک خفیہ
رپورٹ میں درج معائنہ کاروں کے نتائج پر مبنی ہیں۔ رپورٹ میں سامنے آنے والے شواہد
سابق بشار الاسد حکومت کے دور سے متعلق ہیں، موجودہ شامی حکومت کے کسی نئے جوہری
منصوبے سے نہیں۔