شام
میں 2011 سے 2024 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کے دوران پیدا ہونے والے ہزاروں
بچوں کے پاس قانونی شناخت موجود نہیں کیونکہ ملکی قوانین کے تحت شہریت صرف باپ کے
ذریعے منتقل ہوتی ہے جبکہ ان بچوں کے باپ اس جنگ میں مارے جا چکے ہیں یا لاپتا ہیں۔ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کی رکن مونیا
عمار نے بتایا ہے کہ ان بچوں نے نہ تو جنگ کا انتخاب کیا، نہ اپنے والد کی جبری
گمشدگی کا اور نہ ہی وہ اپنی والدہ کی غیر رجسٹرڈ شادی کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن ان تمام حالات کی قیمت بچوں کو چکانا پڑ رہی ہے جو تعلیم، صحت، شہریت اور انسانی وقار سے محروم ہیں۔ مونیا عمار جنیوا میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بات
کر رہی تھیں جس کا انعقاد کمیشن نے شامی حکومت کے اشتراک سے کیا تھا۔
اس
موقع پر کمیشن نے اس مسئلے سے متعلق اپنی نئی پالیسی رپورٹ بھی جاری کی۔
اجلاس میں شام کی وزیر برائے سماجی امور ہند عبوت قبوات نے بتایا کہ
ماؤں کو اپنے بچوں کو شہریت منتقل کرنے کا حق دینے سے متعلق قانونی اصلاحات کی
منظوری کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ یہ مسئلہ اس لیے بھی زیادہ سنگین ہے کہ اندازوں
کے مطابق شام کی جنگ میں ہلاک ہونے والے ہر 13 افراد میں سے 12 مرد
تھے۔
پیچیدہ ضابطوں
کی دیوار
مونیا عمار نے کہا کہ شام میں 1969 کے قانون شہریت کے تحت اگر بچے کا
والد موجود نہ ہو تو بچے کو قانونی شناخت نہیں ملتی۔ انہوں نے اس قانون کو صنفی
امتیاز پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لڑکیوں پر اس کا اثر دوگنا ہوتا ہے۔ یہ
قانون خواتین کے خلاف ہر طرح کے امتیاز کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن کے تحت شام
کی ذمہ داریوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ کمیشن
کے پاس ایسے بچوں کی درست تعداد موجود نہیں، تاہم اسے ایسی بیواؤں اور ماؤں کی
مشکلات سننے کو ملی ہیں جو اپنے بچوں کو گود میں اٹھائے پھرتی ہیں لیکن ان کے پاس
ایسی کوئی دستاویز نہیں ہوتی جو ثابت کر سکے کہ ان کے بچے قانونی طور پر موجود
ہیں۔ ان خواتین کو پیچیدہ قانونی
کارروائیوں اور معاشرتی بدنامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث بہت سی مائیں
بالآخر اپنے بچوں کی قانونی شناخت حاصل کرنے کی کوشش ہی ترک کر دیتی ہیں۔
سماجی رویوں
میں تبدیلی کی ضرورت
مونیا عمار نے بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد حکام کی جانب سے کیے
گئے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے خبردار کیا کہ قانونی اصلاحات کتنی ہی اہم کیوں
نہ ہوں، صرف انہی سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے طریقہ کار اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانا
ضروری ہے۔ کمیشن کی رپورٹ میں سفارش کی
گئی ہے کہ ہر بچے کی پیدائش کا اندراج یقینی بنایا جائے خواہ اس کی پیدائش کے
حالات کچھ بھی ہوں۔
متبادل
دستاویزات کو بھی قبول کیا جائے اور شامی ماؤں کے بچوں کو شہریت دینے کا حق تسلیم
کیا جائے۔
اجلاس میں ہند قبوات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ داعش سے تعلق رکھنے والے سابق جنگجوؤں کے
بچوں کو ان کے والد کے فیصلوں کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے
مطالبہ کیا کہ متعلقہ ممالک اپنے شہریوں کے ان بچوں کی فلاح و بہبود کی ذمہ داری
قبول کریں۔