اسرائیل نے مغربی کنارے میں آباد کاروں پر برطانوی پابندیوں کے جواب
میں یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانہ بند کر کے 20 سفارتکاروں ملک سے بے دخل کر
دیا ہے۔ تاہم صورتحال کو سنبھالنے کے لیے 7 سفارتکاروں پر مشتمل ایک محدود عملے کو
کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسرائیلی
وزیر خارجہ گڈون ساعر نے جمعرات کو تصدیق کی کہ یروشلم میں برطانوی قونصل خانے نے
اپنا کام بند کر دیا ہے۔ ان
کا کہنا تھا کہ قونصل جنرل سمیت 20 سفارتکاروں کے مشن ختم کر دیے گئے ہیں اور وہ
ملک چھوڑ رہے ہیں۔ گڈون
ساعر نے مزید بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی سے بچنے کے لیے برطانوی حکومت
کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا۔ انہوں
نے واضح کیا کہ قونصل خانے کی عمارت برطانوی حکومت کی ملکیت ہے، جہاں اب محض 7
سفارتکاروں کی ایک ٹاسک فورس انتہائی محدود دائرہ کار میں کام کر سکے گی۔ تاہم
دونوں حکومتوں نے اہم امور پر بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
برطانیہ کا سخت ردعمل اور ’یو کے مشن‘ کا قیام
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ان کا
ملک یروشلم میں فلسطینی عوام کو انتہائی ضروری خدمات کی فراہمی جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اس عمارت کو اب ’یو کے
مشن، یروشلم‘ کے نام سے چلائے گا جو کہ مکمل طور پر فعال اور خود مختار ہوگا۔ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ برطانیہ اسرائیلی
حکومت کے قونصل خانہ بند کروانے کے اقدام کو قانونی حق تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم آنے والے مہینوں میں اپنی
موجودگی کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے کام کریں گے اور جب تک اس حوالے سے سنجیدہ بات
چیت جاری ہے، برطانیہ کوئی جوابی کارروائی نہیں کرے گا۔
تاریخی تشخص کا خاتمہ
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو قونصل خانے کی عمارت کے
بیرونی حصے سے برطانوی سفارتی نشان اور تختی ہٹا دی گئی۔ ایک
اسرائیلی سفارتی ذریعے نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے برطانیہ نے
فلسطینیوں کی حمایت کے حوالے سے اپنی ایک تاریخی اور اہم موجودگی کھو دی ہے۔ سفارتی ذریعے کے مطابق برطانیہ عمارت اور محدود
سفارت کاروں کو ضرور برقرار رکھ رہا ہے، لیکن اس کا تاریخی اور نمایاں اثر و رسوخ
ختم ہو گیا ہے۔ ان
کا ماننا تھا کہ 8 ستمبر سے دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل زوال کا شکار تھے، تاہم
حالیہ مذاکرات نے صورتحال میں ایک نیا اور مثبت موڑ پیدا کیا ہے۔
تنازع اور دیگر اسرائیلی پابندیاں
اس سفارتی کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا جب برطانیہ، کینیڈا اور فرانس
سمیت 12 ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں پر پرتشدد حملوں کے بعد
اسرائیلی آباد کاروں کے ساتھ تجارت پر پابندیاں عائد کیں۔ اس
کے ردعمل میں گڈون ساعر نے 8 ستمبر کو برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دیا
تھا۔ اسرائیل نے ان پابندیوں کے جواب میں دیگر تادیبی اقدامات بھی نافذ کر دیے
ہیں۔ ان میں غزہ جنگ بندی پلان
مانیٹرنگ سینٹر سے برطانوی نمائندوں کی بے دخلی، فلسطینی اتھارٹی کی فورسز کے لیے
برطانوی تربیت پر پابندی اور ارکانِ پارلیمنٹ سمیت 12 برطانوی شہریوں کے اسرائیل
میں داخلے پر پابندی شامل ہے۔
برطانوی قونصل خانے کی 200 سالہ تاریخ
یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ تقریباً 200 سال قبل قائم کیا گیا
تھا۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے، جو تاریخی طور پر فلسطینی علاقہ ہے اور اسرائیل
نے اسے 1967 میں قبضے میں لیا تھا۔ بعد
ازاں اسرائیل نے مشرقی یروشلم کو ضم کر کے اسے اپنا ناقابلِ تقسیم دارالحکومت قرار
دے دیا تھا۔ اگرچہ اسرائیل کا مشرقی یروشلم
پر مکمل کنٹرول ہے، لیکن برطانیہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک اس پر اسرائیلی
خودمختاری کو تسلیم نہیں کرتے۔ برطانوی
قونصل خانہ، اپنی ویب سائٹ کے مطابق، برطانیہ اور فلسطین کے درمیان سیاسی، تجارتی،
سیکیورٹی اور اقتصادی مفادات کی نگرانی کے ساتھ ساتھ یروشلم، مغربی کنارے اور غزہ
میں برطانوی شہریوں کو قونصلر خدمات بھی فراہم کرتا تھا۔