عالمی ادارہ صحت
(ڈبلیو ایچ او) کی جنوب مشرقی ایشیا کی ریجنل ڈائریکٹر اور بنگلہ دیش کی معزول
وزیراعظم شیخ حسینہ کی بیٹی صائمہ واجد نے فراڈ کے الزامات کی تحقیقات اور طویل
غیر معاوضہ رخصت کے باعث پیدا ہونے والی مالی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے عہدے
سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ صائمہ واجد نے اپنا استعفیٰ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل
ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئسس کو ارسال کیا، جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ
تقریباً ایک سال سے بغیر تنخواہ انتظامی رخصت پر رہنے کی وجہ سے ان کی مالی حالت
ناقابل برداشت ہو چکی ہے اور وہ ادارے کی قیادت پر اعتماد کھو چکی ہیں۔ ڈبلیو ایچ
او نے گزشتہ سال کے آخر میں انہیں چین کے سفر سے متعلق مالی فراڈ، تعلیمی اسناد
میں غلط بیانی اور بنگلہ دیش میں غیر قانونی طور پر پلاٹ حاصل کرنے کے الزامات کے
تحت رخصت پر بھیجا تھا، جنہیں صائمہ واجد نے مسترد کرتے ہوئے وضاحت دی کہ سفری
اخراجات کا معاملہ ایک معمولی انتظامی غلطی کا نتیجہ تھا جبکہ پلاٹ انہوں نے
قانونی حق کے تحت حاصل کیا تھا۔ ادھر ڈبلیو ایچ او نے نئے ریجنل ڈائریکٹر کے
انتخاب کے لیے 12 اکتوبر کو نامزدگیاں طلب کرنے اور 24 جنوری کو انتخابات کرانے کا
شیڈول طے کیا ہے۔