سابق امریکی وزیر خارجہ، "ہلیری کلنٹن" نے نیویارک کے
جڑواں ٹاورز پر حملے (9/11) کی برسی کے موقع پر ایم اس نو (M.S Now) ایک گفتگو میں 11 ستمبر 2001 کے بعد شروع
ہونے والی عراق اور افغانستان کی جنگوں پر روشنی ڈالی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے
خلاف امریکہ و اسرائیل کی جنگ کا تذکرہ کیا۔
ہلیری نے افغانستان کے خلاف جنگ کے بارے میں کہا کہ اس ملک میں
داخل ہونے کا ابتدائی فیصلہ "اسامہ بن لادن" اور القاعدہ کے دیگر
جنگجوؤں کا تعاقب کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا، جو ـ اس کے مطابق ـ ایک لازمی
فیصلہ تھا۔ کلنٹن نے کہا: "میرا خیال ہے کہ ہمیں افغانستان میں داخل ہونا
چاہئے تھا اور کوشش کرنا چاہئے تھی کہ نہ صرف بن لادن بلکہ القاعدہ کے دیگر
جنگجوؤں کو بھی تلاش کیا جائے۔"
ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ طالبان کو بن لادن کو امریکہ کے حوالے
کرنے کا موقع ملا تھا لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر، جن میں ثقافتی مسائل اور 1980
کی دہائی میں ان کی افواج کے ساتھ تعاون اور جنگ کا پس منظر شامل ہے، انہوں نے
ایسا نہیں کیا اور افغانستان کی جنگ "جارج ڈبلیو بش" کی حکومت میں "بہت
بڑا واقعہ" بن گئی۔ اس نے کہا: بش کی حکومت اور پھر "بارک اوباما کی
حکومت" جس میں میں خود بھی شامل تھی، نے اپنے مبینہ بنیادی مشن "دہشت
گردی کے خلاف جنگ" کے علاوہ ایک "زیادہ مستحکم ملک" قائم کرنے کی
کوشش کی تاکہ افغانستان سے امریکہ کو مزید خطرات لاحق نہ ہوں، لیکن عراق کے معاملے
میں حالات مختلف تھے۔
ہلیری کلنٹن، جو اس سے قبل امریکی سینیٹ میں نیویارک کی نمائندہ
تھی، نے عراق کے خلاف جنگ پر اپنے مثبت ووٹ کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی اور کہا:
"میں نے عراق کی جنگ کے حق میں ووٹ دیا لیکن یہ ووٹ اس بنیاد پر تھا جو میرے
خیال میں 'جبری سفارت کاری' تھی!" ہلیری نے دعویٰ کیا کہ اس کا
تصور یہ تھا کہ یہ ووٹ عراق کے سابق آمر "صدام حسین" پر دباؤ ڈالنے کے
لئے استعمال کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ اپنے ہتھیاروں اور پروگراموں کی صورتحال واضح
کرے۔
امریکہ کی سابق وزیر خارجہ نے یہ بھی یاد دلایا کہ اسرائیل نے 1980
کی دہائی میں عراق کے ایک جوہری ری ایکٹر پر بمباری کی تھی۔ اس نے کہا: "یہ
تصور کرنا بالکل غیر منصفانہ نہیں تھا کہ کوئی چیز موجود ہے کہ جسے برآمد کرنا
چاہئے، لیکن ہمیں اسے دانشمندی سے تلاش کرنا چاہئے تھا نہ کہ ایسے حملے سے جس کے
لئے کافی منصوبہ بندی نہیں ہوئی تھی اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ عراق میں مداخلت
کے بعد کیا ہوگا!"