الجزائری میڈیا ماضی
میں بھی متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتا رہا ہے اور اس پر خطے میں اختلافات
اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ الجزائر
کی وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے اشتعال
انگیز یا دشمنانہ اقدامات میں مسلسل اضافے کے باوجود الجزائر نے ضبط و تحمل کا
مظاہرہ کیا اور ریاستوں کے باہمی تعلقات کے اصولوں کے احترام کے جذبے کے تحت ذمہ
داری کا مظاہرہ کیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ
الجزائر نے متعدد مواقع پر اماراتی فریق کو متنبہ کیا اور ایسے اقدامات کے ممکنہ
نتائج سے آگاہ کیا، تاہم متحدہ عرب امارات نے اپنے طرز عمل میں تبدیلی نہیں کی اور
ایسے اقدامات جاری رکھے جو الجزائر کے بقول ناقابل قبول اور بلاجواز حد تک پہنچ
چکے تھے۔ الجزائری وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تعلقات برقرار
رکھنے کے لیے دستیاب تمام ذرائع استعمال کرنے کے بعد حکومت نے 10 ستمبر 2026 کو
متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اماراتی سفیر کو 48 گھنٹے میں
ملک چھوڑنے کی ہدایت
الجزائر کی وزارت خارجہ
کے مطابق متحدہ عرب امارات کے سفیر کو جمعرات 10 ستمبر کو وزارت خارجہ طلب کیا
گیا، جہاں انہیں سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا
گیا۔ بیان کے مطابق اماراتی
سفیر کو الجزائر چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔ اس پیش رفت کی عالمی
خبر رساں اداروں نے بھی تصدیق کی ہے، جن کے مطابق الجزائر نے امارات پر اشتعال
انگیز اور دشمنانہ اقدامات کے الزامات عائد کیے ہیں، تاہم کسی ایک مخصوص واقعے کو
تعلقات توڑنے کی واحد وجہ قرار نہیں دیا گیا۔
الجزائر کا اماراتی طیاروں کیلئے
فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ، عرب میڈیا
الجزائر اور متحدہ عرب
امارات کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی بحران میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،
عرب میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزائر نے 11 ستمبر 2026 سے متحدہ عرب امارات میں
رجسٹرڈ فوجی اور شہری طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ
اقدام دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ تاہم
اماراتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی مکمل بندش کے حوالے سے تاحال الجزائر یا
متحدہ عرب امارات کی جانب سے کوئی واضح سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔ متحدہ عرب
امارات نے الجزائر کی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے
ہوئے کہا ہے کہ امارات تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا
ہے اور ایسے تعلقات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے جو عوام کے مفادات میں ہوں۔
اماراتی وزارت خارجہ کی
جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ الجزائر کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے ساتھ
تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے کے باوجود یو اے ای دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ
روابط برقرار رکھنے اور مشترکہ مفادات کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ بیان کے
مطابق متحدہ عرب امارات الجزائر کے عوام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور دونوں
ممالک کے عوام کے درمیان موجود تاریخی و برادرانہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔
اماراتی وزارت خارجہ نے بالخصوص متحدہ عرب امارات میں مقیم الجزائری شہریوں اور
دونوں ممالک کے عوام کے درمیان موجود روابط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان تعلقات
اور مشترکہ مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔ رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے الجزائر
کی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے
کہ یہ فیصلہ عارضی نوعیت کا ہوگا اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات بحال
ہوجائیں گے۔
پس
منظر
الجزائر اور متحدہ عرب
امارات کے درمیان کشیدگی گزشتہ کچھ عرصے سے بڑھ رہی تھی، گزشتہ برس الجزائر کے صدر
عبدالمجید تبون نے خلیجی ممالک کے ساتھ الجزائر کے تعلقات کو مجموعی طور پر گرمجوش
قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب، کویت، عمان اور قطر کے ساتھ الجزائر کے
تعلقات برادرانہ ہیں، تاہم انہوں نے ایک خلیجی ملک پر الجزائر کے اندرونی معاملات
میں مداخلت اور ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کا الزام عائد کیا تھا۔ اگرچہ
صدر تبون نے ملک کا نام نہیں لیا تاہم ان کا اشارہ متحدہ عرب امارات کی جانب سمجھا
گیا۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی رواں سال فروری میں مزید نمایاں ہوئی جب
الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ 2013 میں ابوظہبی میں طے پانے والے فضائی
سروسز معاہدے کو منسوخ کرنے کا عمل شروع کیا۔ اب الجزائر کی جانب سے سفارتی تعلقات
مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات میں ایک
اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
فرانس 24 کے مطابق
الجزائری صدر عبدالمجید تبون اپنے مختلف خطابات میں متحدہ عرب امارات کو اکثر ایک
“چھوٹی ریاست” قرار دیتے رہے ہیں اور الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ امارات خطے کے
متعدد ممالک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جولائی میں ایک ٹیلی وژن
انٹرویو کے دوران بھی صدر تبون نے متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا
تھا کہ جہاں بھی وہ قدم رکھتے ہیں، وہاں خون بہتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب
امارات کا خطے پر انتہائی منفی اثر پڑا ہے۔
الجزائری صدر نے مزید
کہا تھا کہ الجزائر چاہتا ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کے معاملات سے دور رہے تاکہ
ہمارے ملک میں خون نہ بہے۔ صدر تبون کے مطابق اگر الجزائر عرب دنیا میں مزید تقسیم
اور اختلافات کو گہرا ہونے سے روکنے کی کوشش نہ کرتا تو دونوں ممالک کے درمیان
سفارتی تعلقات کا خاتمہ بہت پہلے ہوچکا ہوتا۔ تازہ صورتحال میں الجزائر کی جانب سے
متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان کئی
ماہ سے جاری کشیدگی کی انتہا قرار دیا جارہا ہے۔