عدالت کے حکم کے باوجود بانی سے وکیل کی ملاقات نہ
کرانے پر توہین عدالت کیس میں اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے اسلام آباد
ہائیکورٹ میں جواب جمع کرا دیا۔ آج جمعرات کے روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی
ٹی آئی کےسوشل پلیٹ فارم ایکس پر ان کے کنٹرول کے بغیر چلائے جا رہے
اکاؤنٹ پر پابندی لگانے کیلئے درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نےآئندہ سماعت
پرمقدمے کے میرٹس پردلائل طلب کرلیے،سماعت کےدوران عدالتی حکم کے باوجود بانی پی
ٹی آئی سے وکیل کی ملاقات نہ کرانے پر توہین عدالت کیس بھی زیر بحث آیا۔
اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نےعدالت میں جو جواب دیا ہے
اس میں موقف اختیارکیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں سیاسی گفتگوکی جاتی ہے،اس
لئے جیل کی انتظامیہ ان سےملاقات نہیں کروا سکتی،جسٹس ارباب محمد طاہر نےریمارکس دیئےکہ
اگر سلمان اکرم راجا ملاقات میں سیاسی گفتگو نہیں کریں،اگر سیاسی گفتگو نہ کرنے کی
یقین دہانی کرائی جائے تو کیا انہیں بانی سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی؟ سٹیٹ
کونسل نےکہا کہ اس حوالے سے ایڈووکیٹ جنرل سے ہدایات لےکر جواب دیں گے،سلمان اکرم
راجا نے کہا کہ میں بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بغیر مقدمے کےمیرٹس پر دلائل نہیں
دے سکتا، عدالت نےملاقات کا حکم دیا تھا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیاگیا،عدالت
نےجیل حکام سےاستفسار کیاکہ سلمان اکرم راجا کو وکالت نامہ کیوں دستخط کروا کر
نہیں دیا جا رہا؟۔
سلمان اکرم راجا نےکہا کہ
صرف وکالت نامے کی بات نہیں، وہ بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لینا چاہتے ہیں،عدالت نے
پی ٹی آئی سے بانی کے ایکس اکاؤنٹ سے متعلق موقف بھی طلب کیا،معاون وکیل نے بتایا
کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر شہر میں موجود نہیں، آئندہ سماعت پر پیش ہوجائیں
گے۔ جسٹس ارباب طاہر نےکہا کہ بیرسٹر گوہر کے آنے کی
ضرورت نہیں،صرف یہ بتادیں کہ ان کی پارٹی کا موقف کیا ہے۔ سلمان اکرم راجا نے یہ مؤقف
اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کا بانی کے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کے
متعلق اس کیس سےکوئی تعلق نہیں،بانی پی ٹی آئی اس مقدمے کےفریق ہیں لیکن
انہیں وکیل کو ہدایات دینےکی اجازت نہیں دی جارہی،کیس کی مزید سماعت ملتوی کردی
گئی۔