انڈونیشیا میں اناک کراکاٹوا آتش فشاں نے ہفتے اور اتوار کو شدید دھماکوں کے ساتھ دوبارہ اپنی خطرناک سرگرمی کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں راکھ کا ایک بڑا بادل فضا میں بلند ہو کر تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ گیا۔ آتش فشانی راکھ کے اس گہرے بادل کے باعث راجدھانی جکارتہ کے اہم بین الاقوامی ہوائی اڈے سوئیکارنو-ہٹا پر متعدد پروازیں متاثر ہوئیں اور ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انٹارا نیوز ایجنسی کے مطابق، فضائی سلامتی کے پیش نظر سوئیکارنو-ہٹا ایئرپورٹ سے پروازوں کی آمدورفت عارضی طور پر روکنا پڑی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچ گئی تھی، جس کے باعث طیاروں کی پرواز انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آتش فشانی راکھ طیاروں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ راکھ طیارے کے انجن میں داخل ہو کر اسے نقصان پہنچانے کے علاوہ پائلٹوں کے لیے حدِ نگاہ بھی متاثر کر سکتی ہے۔ اسی وجہ سے مسافروں کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے کئی پروازوں کو منسوخ یا مؤخر کرنا پڑا، جبکہ بعض بین الاقوامی