Culture
1992ء میں بھاپ سے چلانے وال ایك ٹرین ڈرائیور
ایک ٹرین ڈرائیور کا کیریئر—جس کے اندر پورے ملک کی 30 سالہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چھپا ہوا ہے
- Reading time
- 2 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 7 ستمبر، 2026، 1:43 AM

Culture
ایک ٹرین ڈرائیور کا کیریئر—جس کے اندر پورے ملک کی 30 سالہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چھپا ہوا ہے

ایک ٹرین ڈرائیور کا کیریئر—جس کے اندر پورے ملک کی 30 سالہ ٹیکنالوجی کا انقلاب چھپا ہوا ہے
چین کے ڈرائیور ہان جونجیا (Han Junjia) کی کہانی صرف ایک ملازم کی نہیں، بلکہ ایک ملک کے دنیا کی سب سے بڑی طاقت بننے کی زبردست داستان ہے!
اس حیرت انگیز اور تاریخی سفر کے متاثر کن حقائق:
1992ء میں بھاپ کا دور: انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز کوئلے سے چلنے والے بھاپ کے انجن سے کیا، جس کی رفتار صرف 56 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور ڈرائیونگ بے حد مشکل تھی۔
1996ء میں ڈیزل کی شروعات: ترقی کے اگلے مرحلے میں وہ ڈیزل انجن اور پھر 2010ء میں الیکٹرک ہائی سپیڈ ٹرینوں کے ڈرائیور بنے۔
2017ء میں فوشنگ بلٹ ٹرین: 21 ستمبر 2017ء کو انہیں چین کی مکمل خود ساختہ فوشنگ (Fuxing) بلٹ ٹرین 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلانے کا اعزاز ملا۔
8 ڈرائیونگ لائسنس: وہ چین کے ان چند نایاب ڈرائیوروں میں سے ہیں جن کے پاس ریلوے کی 4 مختلف نسلوں کو چلانے کے 8 سرکاری لائسنس موجود ہیں۔
عالمی معیار: چین کا ریل نیٹ ورک 60 کلومیٹر کی سست رفتار سے نکل کر آج دنیا کا سب سے بڑا (45,000+ کلومیٹر) ہائی سپیڈ ریل نیٹ ورک بن چکا ہے۔
ایک شخص کی محنت اور جذبے نے اپنی آنکھوں کے سامنے ایک قوم کی تقدیر بدلتے دیکھی!