جرمن حکومت نے کہا ہے کہ اسے یقین ہے کہ گزشتہ ماہ Leipzig/Halle Airport ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کی ناکام کوشش کے پیچھے روس کا ہاتھ تھا۔ برلن نے ردعمل میں روس کے خلاف کئی اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں بون میں روسی قونصل خانے کو بند کرنا اور برلن میں روسی ثقافتی مرکز رشین ہاؤس کے ساتھ معاہدہ ختم کرنا شامل ہے۔جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ Alexander Dobrindنے کہا انٹیلی جنس معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے میں ملوث افراد روسی ریاستی اداروں کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔ان کے مطابق پولیس تحقیقات، جرائم کے طریقہ کار اور انٹیلی جنس شواہد مجموعی طور پر روسی ذمہ داری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
وزیر خارجہ یوہان وادے فل Johan Wadephulنے کہا جرمنی لیپزگ کے واقعے کو الگ تھلگ واقعہ نہیں سمجھتا بلکہ یہ یورپ میں روس کی وسیع تر ہائبرڈ کارروائیوں کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔ روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا Maria Zakharova نے جرمنی کے اقدامات کو روس مخالف کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا ماسکو اس کا جواب دے گا تاہم انہوں نے ممکنہ جوابی اقدامات کی تفصیل نہیں بتائی۔