پاکستان اور مصر نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت سے متعلق یادداشت پر عمل درآمد دوبارہ شروع کرنے اور خطے میں جاری کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی سرگرمیاں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، جس میں مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی سلامتی سے متعلق معاملات پر قریبی رابطے اور باقاعدہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر کشیدگی میں کمی لانے اور کسی بھی ممکنہ تنازع کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ مصر کے وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کو جلد مصر کا دورہ کرنے کی دعوت بھی دی، جسے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کو مزید مستحکم کرنے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس کے دوران علاقائی اور عالمی سطح پر ہونے والی اہم پیش رفت سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے کثیرالجہتی فورمز پر باہمی دلچسپی کے معاملات پر بھی مشاورت کی جبکہ مکہ دفاعی معاہدے کی تزویراتی، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی مفاہمت کا جائزہ لیا گیا۔ گفتگو کے دوران استنبول اجلاس میں طے پانے والی مفاہمت پر عمل درآمد سے متعلق پیش رفت بھی زیر بحث آئی اور دونوں جانب سے اس حوالے سے ہونے والی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے علاقائی و عالمی معاملات پر ایک دوسرے سے مسلسل رابطے میں رہنے اور باہمی مشاورت کا سلسلہ برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔پاکستان کی جانب سے مصر اور سعودی عرب کے ساتھ بیک وقت اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور تنازع کو وسیع ہونے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔