Politics
گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کے سرکاری قرضوں میں340 فیصدکاریکارڈ اضافہ
پاکستان کے سرکاری قرضوں میں گزشتہ 10 سال کے دوران 340 فیصد کا تاریخی اور غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے
- Reading time
- 2 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 6 اکتوبر، 2026، 6:05 AM

Politics
پاکستان کے سرکاری قرضوں میں گزشتہ 10 سال کے دوران 340 فیصد کا تاریخی اور غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے

پاکستان کے سرکاری قرضوں میں گزشتہ 10 سال کے دوران 340 فیصد کا تاریخی اور غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزارت خزانہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق اس مدت کے دوران مجموعی سرکاری قرضوں میں 67 ہزار ارب روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد ملکی قرضوں کا مجموعی حجم بڑھ کر 86 ہزار 700 ارب روپے کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق جون 2016 تک ملکی سرکاری قرضوں کا مجموعی حجم 19 ہزار 700 ارب روپے تھا، جس میں 13 ہزار 600 ارب روپے کا مقامی اور 6 ہزار 100 ارب روپے کا غیر ملکی قرضہ شامل تھا۔ تاہم، گزرتے برسوں کے ساتھ اس میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا اور وزارت خزانہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جون 2017 تک مجموعی سرکاری قرضہ 21 ہزار 400 ارب روپے جبکہ جون 2018 تک بڑھ کر 24 ہزار 900 ارب روپے تک جا پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی دباؤ کے باعث جون 2019 تک مجموعی سرکاری قرضوں کا حجم 32 ہزار 700 ارب روپے اور جون 2020 تک 36 ہزار 400 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اسی طرح جون 2021 تک ملک کا سرکاری قرضہ بڑھ کر 39 ہزار 900 ارب روپے ہو گیا تھا، جو بالآخر بڑھتے بڑھتے جون 2026 تک 86 ہزار 700 ارب روپے کی بلند ترین سطح کو چھو گیا۔ وزارت خزانہ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جون 2026 تک کے مجموعی قرضوں میں سے 59 ہزار 400 ارب روپے کا مقامی قرضہ جبکہ 27 ہزار 300 ارب روپے کا غیر ملکی سرکاری قرضہ شامل ہے۔ معاشی ماہرین نے اس تیزی سے بڑھتے ہوئے حجم کو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔