امریکی محکمہ دفاع نے سابق
امریکی فوجی میجر اور ڈاکٹر ندال ملک حسن کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے
کا اعلان کردیا ہے۔ ندال ملک
حسن نے 2009 میں فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں 13 غیر مسلح
امریکی فوجی ہلاک جبکہ 32 افراد زخمی ہوئے تھے۔ پینٹاگون
کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سزائے موت کی سفارش کی
تھی، جس کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظوری دے دی ہے۔ حکام
کے مطابق یہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد امریکی فوج میں فائرنگ سکواڈ کے
ذریعے دی جانے والی پہلی سزائے موت ہوگی۔ فوجی
عدالت کی 13 رکنی جیوری نے ندال ملک حسن کو 13 افراد کے قتل اور 32 دیگر کو قتل
کرنے کی کوشش کے مقدمات میں مجرم قرار دیا تھا۔ جیوری نے متفقہ طور پر ان کے لیے
سزائے موت کی سفارش کی تھی۔
پینٹاگون کے مطابق سزائے موت پر عمل
درآمد کی تاریخ اور مقام امریکی فوج کے سیکرٹری طے کریں گے۔ ندال ملک حسن اس وقت
امریکی فوج کے ان چار قیدیوں میں شامل ہیں جنہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔ امریکی
فوجی قانون کے تحت کسی فوجی کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے صدر کی منظوری
ضروری ہے، جبکہ اس سے قبل اپیل اور سزا کی قانونی حیثیت سے متعلق حتمی جائزہ بھی
مکمل کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ 1983 میں امریکی کورٹ آف
اپیلز فار دی آرمڈ فورسز نے فوجی سزائے موت کو غیر آئینی قرار دیا تھا، تاہم
1984 میں صدر رونالڈ ریگن کے دور میں صدارتی حکم کے ذریعے اسے دوبارہ بحال کردیا
گیا تھا۔