مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے استعمال، افرادی
قوت کی کمی اور سپلائی چین کی ازسرِنو تنظیم کے باعث دنیا بھر میں فیکٹری آٹومیشن
کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے،عالمی سطح پر فعال صنعتی روبوٹس کی تعداد گزشتہ سال
50 لاکھ سے تجاوز کرگئی، جبکہ نئے روبوٹس کی تنصیب میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ
کیا گیا۔بین الاقوامی فیڈریشن
آف روبوٹکس
(IFR) کے مطابق گزشتہ سال
دنیا بھر میں فعال صنعتی روبوٹس کی تعداد سالانہ بنیاد پر 9 فیصد بڑھی، جبکہ نئے
صنعتی روبوٹس کی تنصیب 11 فیصد اضافے کے ساتھ 6 لاکھ سے تجاوز کرگئی۔
چین نے صنعتی روبوٹکس
کی تنصیب میں اپنی عالمی برتری برقرار رکھی۔ گزشتہ سال ملک میں 3 لاکھ 54 ہزار نئے
صنعتی روبوٹس نصب کیے گئے، جو سالانہ بنیاد پر 20 فیصد زیادہ اور دنیا بھر میں
ہونے والی مجموعی تنصیبات کا تقریباً 59 فیصد ہیں۔ چین میں مقامی روبوٹ ساز کمپنیوں نے بھی اپنی پوزیشن مضبوط بنائی
اور صنعتی روبوٹ مارکیٹ کا 55 فیصد حصہ حاصل کرلیا۔
امریکا 38 ہزار 500 نئے روبوٹس کی تنصیب کے ساتھ دوسرے نمبر پر
رہا، جہاں تنصیبات میں 12 فیصد اضافہ ہوا، جاپان 36 ہزار 219 یونٹس کے ساتھ تیسرے
نمبر پر آگیا، جہاں روبوٹس کی تنصیب میں 19 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ جنوبی کوریا میں 30 ہزار 200، جرمنی میں 24 ہزار
800 اور بھارت میں 10 ہزار 500 نئے صنعتی روبوٹس نصب کیے گئے، بھارت میں تنصیبات
میں 15 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ جرمنی میں 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
یورپی صنعت میں روبوٹکس
کے استعمال کے حوالے سے جرمنی بدستور نمایاں مقام رکھتا ہے،اگرچہ گزشتہ سال جرمنی
میں نئی تنصیبات میں کمی آئی، تاہم یورپی یونین میں نصب کیے گئے تمام صنعتی روبوٹس
میں اس کا حصہ 41 فیصد رہا۔ اٹلی،
فرانس اور اسپین سمیت یورپ کی بعض بڑی صنعتی معیشتوں میں بھی صنعتی روبوٹس کی نئی
تنصیبات میں کمی دیکھی گئی۔
عالمی سطح پر صنعتی
روبوٹس کی طلب آنے والے برسوں میں مزید بڑھنے کی توقع ہے، رپورٹ کے مطابق رواں سال
دنیا بھر میں روبوٹس کی تنصیبات 6 لاکھ 55 ہزار یونٹس تک پہنچ سکتی ہیں، جبکہ 2029
تک یہ تعداد بڑھ کر 8 لاکھ 6 ہزار یونٹس ہونے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق ترقی
یافتہ معیشتوں میں افرادی قوت کی مسلسل کمی، سپلائی چین کو دوبارہ مقامی سطح پر
منتقل کرنے کا رجحان اور مصنوعی ذہانت سے تقویت یافتہ ٹیکنالوجیز اس اضافے کی اہم
وجوہات ہیں، جدید اے آئی ٹیکنالوجیز نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے
لیے بھی روبوٹس کی تنصیب اور استعمال کو نسبتاً آسان اور کم لاگت بنا دیا ہے۔
ترکیہ گزشتہ سال عالمی
صنعتی روبوٹ مارکیٹ میں نئی تنصیبات کے اعتبار سے 17ویں نمبر پر رہا، ملک میں 3
ہزار 194 نئے روبوٹس نصب کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد کم ہیں، 2023
میں ترکیہ میں ریکارڈ 4 ہزار 429 صنعتی روبوٹس نصب کیے گئے تھے۔ تاہم ملک میں فعال صنعتی روبوٹس کی مجموعی تعداد
7 فیصد اضافے کے ساتھ 30 ہزار 990 یونٹس کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جس کے بعد
ترکیہ فعال صنعتی روبوٹس کے مجموعی بیڑے کے لحاظ سے دنیا میں 15ویں نمبر پر آگیا۔
ترکیہ میں دھات کی صنعت
صنعتی آٹومیشن کے لیے روبوٹس کی سب سے بڑی خریدار رہی،اس شعبے میں گزشتہ سال 990
نئے روبوٹس نصب کیے گئے، جو سالانہ بنیاد پر 8 فیصد زیادہ اور ملک میں ہونے والی
مجموعی نئی تنصیبات کا 31 فیصد ہیں، دھاتی صنعت میں فعال صنعتی روبوٹس کی تعداد 6
ہزار 774 یونٹس رہی۔ آٹو موبائل صنعت میں بھی روبوٹس کا استعمال
بڑھا۔ اس شعبے میں فعال روبوٹس کی تعداد 3 فیصد اضافے کے ساتھ 11 ہزار 17 یونٹس ہوگئی،
جبکہ گزشتہ سال 889 نئے روبوٹس نصب کیے گئے، جو ترکیہ کی مجموعی نئی تنصیبات کا 28
فیصد ہیں۔
ترکیہ کے بعض دیگر
صنعتی شعبوں میں روبوٹس کی طلب کمزور رہی۔ الیکٹریکل اور الیکٹرانکس کے شعبے، جس
میں گھریلو آلات اور برقی مشینری بھی شامل ہیں، میں نئی روبوٹس تنصیبات 37 فیصد
کمی کے ساتھ صرف 136 یونٹس رہیں۔ اسی طرح خوراک، مشروبات اور تمباکو کی مصنوعات
کے شعبے میں روبوٹس کی تنصیب 40 فیصد کم ہوکر 144 یونٹس رہ گئی۔
عالمی سطح پر گزشتہ سال
نصب کیے گئے نئے صنعتی روبوٹس میں تقریباً 59 فیصد ہینڈلنگ آپریشنز اور مشین ٹینڈنگ
کے لیے استعمال ہوئے، جبکہ 16 فیصد روبوٹس ویلڈنگ اور سولڈرنگ کے کاموں کے لیے نصب
کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق مینوفیکچرنگ صنعت میں روبوٹ
کثافت اب بھی نسبتاً کم ہے اور ہر 10 ہزار کارکنوں کے مقابلے میں اوسطاً 52 صنعتی
روبوٹس موجود ہیں،آٹو موبائل صنعت میں یہ شرح کہیں زیادہ، یعنی 374 روبوٹس فی 10 ہزار کارکن ہے، جبکہ دیگر صنعتی
شعبوں میں روبوٹ کثافت 35 یونٹس فی 10 ہزار کارکن رہی۔ مجموعی طور پر اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت، افرادی
قوت کی کمی اور پیداواری عمل کو زیادہ مؤثر بنانے کی ضرورت صنعتی روبوٹکس کی عالمی
طلب میں اضافے کو مسلسل تقویت دے رہی ہے۔