جرمنی کے سابق انٹیلی جنس سربراہ
اگست ہیننگ August
Hanning کو
جاسوسی، غداری اور ایک غیر ملکی قوت کے لیے خفیہ معلومات حاصل کرنے کے الزامات میں
گرفتار کر لیا گیا۔ پراسیکیوٹرز
کا الزام ہے کہ انہوں نے ایک غیر ملکی انٹیلیجنس سروس کے لیے ’معلومات کا تجزیہ‘
کرنے کی غرض سے خفیہ معلومات کا استعمال کیا اور ایک دوسری غیر ملکی انٹیلیجنس
سروس کے ساتھ رابطے میں رہے۔ تاہم تفتیش کاروں نے تاحال یہ ظاہر نہیں کیا کہ اس
میں کون سی غیر ملکی طاقتیں ملوث ہیں۔
پولیس نے بی این ڈی کے ایک سابق
اہلکار مینفریڈ ڈی Manfred D.کو بھی
گرفتار کیا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے پیسوں کے عوض ہیننگ August Hanningکو
تقریباً 2 ہزار خفیہ دستاویزات فراہم کیں۔ مینفریڈ ڈی Manfred D.پر بھی
غداری کی کوشش اور جاسوسی میں معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اگست ہیننگ August Hanningکو منسٹر Münsterکے قریب
نورڈوالڈے Nordwaldeمیں
ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا گیا، جبکہ مینفریڈ ڈی Manfred D کو
باویریا Bavariaسے حراست
میں لیا گیا۔ مینفریڈ ڈی Manfred D کو
منگل جبکہ اگست ہیننگ August Hanningکو
بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب
جرمن انٹیلیجنس ایجنسی کو اس طرح کے سنگین تنازع کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ اس سے قبل
2023 میں بھی روس کو ریاستی راز فراہم کرنے کے الزام میں ایک اعلیٰ انٹیلیجنس عہدے
دار پر غداری کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔ جرمن
فیڈرل پراسیکیوٹر آفس کے مطابق اگست ہیننگ August Hanning1998 سے 2005 تک جرمن فیڈرل انٹیلیجنس سروس
’بی این ڈی‘ کے سربراہ رہے اور اس کے بعد سے بطور پرائیویٹ کنسلٹنٹ کام کر رہے
تھے۔