جاپان کے دارالحکومت
ٹوکیو میں امیگریشن فراڈ کے ایک غیر معمولی اور انتہائی منظم نیٹ ورک کا پردہ فاش
ہوا ہے جہاں امیر غیر ملکی شہریوں، بالخصوص دولت مند چینی باشندوں کو جعلی اسناد
اور فرضی ملازمتوں کے ذریعے جاپان کا باوقار اور تیز رفتار رہائشی ویزا دلوانے کے
الزام میں تین اہم افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ٹوکیو میٹروپولیٹن پولیس
ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی نے جاپان کے امیگریشن فریم ورک،
خصوصاً اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور ماہرین کے لیے بنائے گئے خصوصی ویزا سسٹم کی
سیکیورٹی اور جانچ پڑتال کے طریقہ کار پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تفتیش
کاروں کے مطابق یہ دھوکہ دہی کا ایک ایسا منافع بخش نیٹ ورک تھا جو جاپان میں
مستقل رہائش کا تیز ترین راستہ تلاش کرنے والے امیر کلائنٹس سے فی کس چھ لاکھ
امریکی ڈالر، یعنی کروڑوں روپے کے مساوی خطیر رقوم وصول کر رہا تھا۔
پولیس کی گرفت میں آنے
والے ملزمان میں دو جاپانی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز 39 سالہ ہوتئی آئزاوا Hotei Aizawa اور 45 سالہ خاتون ایمی ماکینو
Emi Makino شامل ہیں، جبکہ تیسری گرفتار ہونے والی 57سالہ چینی خاتون ژوانگ یی Zhuang Yi ہیں جن پر خود جعلی دستاویزات کے ذریعے جاپانی رہائش حاصل کرنے کا
الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس تحقیقات کے مطابق ہوتئی آئزاوا ایک ایسی مشاورتی فرم
اور ایجنسی چلا رہا تھا جو بنیادی طور پر ان امیر چینی باشندوں کو خدمات فراہم
کرتی تھی جو جاپان منتقل ہو کر وہاں مستقل طور پر آباد ہونا چاہتے تھے۔ پولیس اس
وقت سال دو ہزار بیس سے اب تک کی گئی کم از کم تیس سے چالیس ویزا درخواستوں کا
باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے جن میں آئزاوا Aizawa کا نام یا عمل دخل سامنے آیا
ہے۔ الزام ہے کہ آئزاوا Aizawa ہر درخواست گزار سے چھ
لاکھ ڈالر وصول کرنے کے بعد تقریباً ساڑھے چار لاکھ ڈالر بطور خالص معاوضہ اور
کمیشن اپنے پاس رکھتا تھا، جبکہ بقیہ رقم فرضی کمپنیوں، جعلی کاغذی کارروائی اور
دیگر نیٹ ورک کے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔
اس گھناؤنے کاروبار کی
قلعی اس وقت کھلی جب ژوانگ یی Zhuang Yi کے لیے جمع کروائی گئی ایک مخصوص درخواست کی گہرائی سے جانچ پڑتال کی
گئی۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ژوانگ Zhuang Yi کے پاس بزنس ایڈمنسٹریشن کی ماسٹرز ڈگری ہے اور وہ ماکینو Makino کی زیرِ انتظام چلنے والی ایک جاپانی کمپنی میں اعلیٰ انتظامی عہدے پر
خدمات انجام دیں گی۔ تاہم تفتیش سے معلوم ہوا کہ ماسٹرز ڈگری کی تعلیمی اسناد
بالکل جعلی تھیں اور کمپنی میں روزگار کا معاہدہ صرف امیگریشن حکام کو دھوکہ دینے
کے لیے گھڑا گیا تھا تاکہ وہ ہائیلی اسکلڈ پروفیشنل ویزا کے کڑے معیارات پر پورا
اتر سکیں۔ اس جعلی ریکارڈ کی بنیاد پر دسمبر دو ہزار پچیس میں ٹوکیو ریجنل
امیگریشن سروسز بیورو میں درخواست دائر کی گئی جس کی منظوری کے بعد مذکورہ خاتون
جنوری میں باقاعدہ طور پر جاپان میں داخل ہو گئیں۔ تفتیش کے دوران خاتون نے اعتراف
کیا کہ آئزاوا نے انہیں قانونی طریقے سے مستقل رہائش دلوانے کا پکا وعدہ کیا تھا
جس کے عوض انہوں نے اسے چھ لاکھ ڈالر ادا کیے تھے، جبکہ دوسری جانب مرکزی ملزم
آئزاوا نے اپنے خلاف عائد کردہ تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
اس پورے معاملے کی
سنگینی کو سمجھنے کے لیے جاپان کے ہائیلی اسکلڈ پروفیشنل ویزا کی اہمیت اور اس کے
قانونی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ جاپان نے دنیا بھر سے اعلیٰ ترین محققین،
سائنسی و تکنیکی ماہرین اور سینیئر کاروباری منتظمین کو اپنی معیشت کی طرف راغب
کرنے کے لیے ایک پوائنٹس بیسڈ سسٹم قائم کر رکھا ہے، جس میں امیدوار کی ڈگریوں،
سالانہ آمدنی، کام کے سابقہ تجربے اور زبان کی مہارت کی بنیاد پر نمبر دیے جاتے
ہیں۔ عام حالات میں جاپان میں مستقل رہائش یعنی پرماننٹ ریذیڈنسی حاصل کرنے کے لیے
مسلسل دس سال تک ملک میں قانونی طور پر قیام کرنا لازمی ہوتا ہے، لیکن اس باوقار
ویزا کے تحت ستر پوائنٹس حاصل کرنے والے ماہرین کو محض تین سال کے بعد مستقل رہائش
کی درخواست دینے کی غیر معمولی رعایت دی جاتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر، جو افراد اسی
یا اس سے زائد پوائنٹس حاصل کر لیتے ہیں، وہ جاپان میں صرف ایک سال کا قیام مکمل
کر کے مستقل رہائش کے لیے اہل قرار پاتے ہیں، جو کہ دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ
ملک میں مستقل سکونت کا تیز ترین قانونی راستہ سمجھا جاتا ہے۔
ملزمان نے مستقل رہائش
کے اسی تیز رفتار شارٹ کٹ کو اپنے مجرمانہ کاروبار کا مرکزی ہتھیار بنایا کیونکہ
امیر چینی اشرافیہ سال ہا سال انتظار کرنے کے بجائے محض ایک سے تین سال کے اندر
جاپانی پاسپورٹ یا مستقل رہائش کے حصول کے لیے خطیر رقوم خرچ کرنے پر بخوشی تیار
ہو جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کلائنٹس کے پوائنٹس مصنوعی طور پر ستر یا اسی سے
اوپر لے جانے کے لیے ماسٹرز ڈگریاں گھڑی گئیں اور مقامی کمپنیوں میں بھاری
تنخواہوں کے فرضی کنٹریکٹس تیار کیے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ آئزاوا کو اس سے قبل جون
کے مہینے میں بھی ایک الگ معاملے میں حراست میں لیا گیا تھا جب اس پر امیر چینی
باشندوں کے لیے غیر قانونی طور پر گھریلو ملازمین جاپان لانے کا الزام لگا تھا،
اور اسی پرانی تفتیش نے تفتیش کاروں کو اس وسیع تر امیگریشن فراڈ اسکینڈل کے سراغ
تک پہنچایا۔
یہ گرفتاریاں ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہیں جب
جاپانی حکومت غیر ملکی شہریوں کے لیے امیگریشن قوانین، انتظامی جانچ پڑتال اور
مستقل رہائش کے عمومی فریم ورک کو ازسرنو سخت اور مربوط بنانے پر سنجیدگی سے کام
کر رہی ہے۔ جاپان کے مختلف سرکاری محکموں پر مشتمل ایک مشترکہ ٹاسک فورس پہلے ہی
قائم کی جا چکی ہے جس کا مقصد غیر ملکیوں سے وابستہ غیر قانونی سرگرمیوں، سرکاری
نظام کے غلط استعمال اور مشکوک دستاویزات کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام کرنا
ہے۔ ایک طرف جہاں جاپان اپنی افرادی قوت کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے باصلاحیت
غیر ملکیوں کا خیر مقدم کرنے پر مجبور ہے، وہیں دوسری طرف تیز رفتار مستقل رہائش
فراہم کرنے والے راستوں کے اس طرح کے کھلے استحصال نے حکام کو سخت ترین اقدامات
اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے بعد اب توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں ہائیلی
اسکلڈ ویزا کی درخواستوں اور ان کے ساتھ منسلک تمام اسناد کی جانچ پڑتال کا عمل
پہلے سے کہیں زیادہ کٹھن اور کڑا کر دیا جائے گا۔