امریکا میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں
ڈیموکریٹک پارٹی نے غیر معمولی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوانِ نمائندگان اور
سینیٹ، دونوں کا کنٹرول ری پبلیکنز سے چھین لیا۔ ڈیموکریٹس نے روایتی طور پر ری
پبلیکنز کے مضبوط سمجھی جانے والی ریاستوں ٹیکساس، کنساس، آئیووا اور ساؤتھ
کیرولائنا میں بھی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔ کنساس میں تقریباً ایک صدی بعد
ڈیموکریٹ امیدوار سینیٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب ہوا، جبکہ ٹیکساس میں ڈیموکریٹس
نے سینیٹ کی نشست حاصل کرنے کے ساتھ گورنر گریگ ایبٹ کو بھی شکست دی اور جینا
ہینوجوسا ریاست کی پہلی لاطینی خاتون گورنر منتخب ہوئیں۔ انتخابی نتائج کو صدر
ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر عوامی ردعمل قرار دیا جا رہا ہے، جہاں ایران جنگ،
مہنگائی، اشیا کی بلند قیمتوں، تجارتی محصولات اور حکومتی معاملات پر عدم اطمینان
نے ری پبلیکنز کی انتخابی مشکلات میں اہم کردار ادا کیا۔ نئی کانگریس جنوری 2027
میں ذمہ داریاں سنبھالے گی، جس کے بعد ٹرمپ کو اپنی باقی مدتِ صدارت میں دونوں
ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی اکثریت کا سامنا ہوگا۔
وائٹ
ہاؤس اور کانگریس میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2028 تک اپنی باقی ماندہ اقتدار کی مدت مکمل
کریں گے لیکن ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں کنٹرول کے بعد وائٹ
ہاؤس اور کانگریس کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا خدشہ، بجٹ، تقرریوں، خارجہ پالیسی اور
انتظامی فیصلوں پر نگرانی سخت ہو سکتی ہے۔ ری پبلیکن پارٹی کی شکست اور ڈیموکریٹس
کی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی باقی ماندہ مدتِ
صدارت کے لیے سیاسی اور آئینی منظرنامہ تبدیل ہو گیا ہے۔ اب وائٹ ہاؤس کو قانون
سازی، بجٹ، اہم سرکاری تقرریوں اور انتظامیہ کے اقدامات کے معاملے میں ایسی
کانگریس کا سامنا ہوگا جس پر اس کی اپنی جماعت کا کنٹرول نہیں رہا۔ اس تبدیلی کا
مطلب یہ نہیں کہ صدر کے تمام اختیارات ختم یا معطل ہو جائیں گے، تاہم ان کے
استعمال پر پارلیمانی نگرانی اور سیاسی مزاحمت بڑھ سکتی ہے۔
کیا صدر اب بھی ایگزیکٹو اختیارات استعمال کر سکیں گے؟
کانگریس میں شکست کے باوجود ٹرمپ کے صدارتی اختیارات برقرار رہیں گے۔
وہ انتظامی احکامات جاری کر سکتے ہیں، خارجہ پالیسی کے متعدد فیصلے کر سکتے ہیں،
مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کی حیثیت سے اپنے آئینی اختیارات استعمال کر سکتے
ہیں اور وفاقی انتظامیہ کو ہدایات دے سکتے ہیں۔ ری پبلیکنز کی شکست صدر کو خودبخود
ان اختیارات سے محروم نہیں کرتی۔
انتخابی نتائج سے قبل وائٹ ہاؤس نے بھی اس امکان کے پیشِ نظر انتظامی
احکامات کے ذریعے امیگریشن، ٹیرف، رہائش اور وفاقی اخراجات سے متعلق پالیسیوں کو
آگے بڑھانے کی تیاری کی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کے
کنٹرول کے باوجود انتظامیہ بعض معاملات میں صدارتی اختیارات کے ذریعے اپنا ایجنڈا
جاری رکھنے کی کوشش کر سکتی ہے۔ تاہم ایسے اقدامات کو قانونی چیلنجز اور کانگریسی
نگرانی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کانگریس کا کنٹرول، حزبِ اختلاف ڈیموکریٹس کمیٹیوں کی سربراہی سنبھال
سکیں گے
ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں اکثریت ملنے کے بعد وہ ایوان کی
کمیٹیوں کی سربراہی سنبھال سکیں گے، حکومتی اداروں سے ریکارڈ طلب کر سکیں گے،
سرکاری اہلکاروں کو سماعتوں میں طلب کر سکیں گے اور انتظامیہ کے فیصلوں کی تحقیقات
کروا سکیں گے۔ اس اختیار کے ذریعے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی، ایران کے
خلاف جنگ، ٹیرف، سرکاری اخراجات اور صدر یا ان کے قریبی حلقے کے کاروباری معاملات
کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔ امریکی انتخابات کے بعد سامنے آنے والی رپورٹس کے
مطابق ڈیموکریٹس نے پہلے ہی متعدد معاملات پر تحقیقات اور نگرانی بڑھانے کے عزائم
ظاہر کیے ہیں۔
کیا ڈیموکریٹس اپنی مرضی کی قانون سازی کروا سکیں گے؟
کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنے کے باوجود ڈیموکریٹس کے لیے اپنی مرضی کے
قوانین منظور کروانا آسان نہیں ہوگا۔ سینیٹ میں عام قانون سازی کے لیے عموماً 60
ووٹ درکار ہوتے ہیں، جبکہ صدر کو کانگریس سے منظور شدہ بل ویٹو کرنے کا اختیار بھی
حاصل ہے۔ اس ویٹو کو ختم کرنے کے لیے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں دو
تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔ یوں ڈیموکریٹس ٹرمپ کے ایجنڈے کو روکنے یا اس میں
رکاوٹ ڈالنے کی پوزیشن میں تو ہوں گے، لیکن ہر معاملے میں اپنی پالیسی نافذ نہیں
کر سکیں گے۔
ڈیموکریٹس اہم نامزدگیوں پر رکاوٹ ڈال سکتے ہیں
سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی اکثریت صدر کی جانب سے اہم عہدوں پر نامزدگیوں
کے معاملے میں بھی اثرانداز ہوگی۔ امریکی آئین کے تحت وفاقی ججوں، سپریم کورٹ کے
ججوں، سفیروں اور متعدد اعلیٰ سرکاری عہدوں پر تقرریوں کے لیے سینیٹ کی منظوری
ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے ٹرمپ کے لیے اپنی پسند کے امیدواروں کی توثیق حاصل کرنا
مشکل ہو سکتا ہے۔ البتہ صدر کو اپنی کابینہ کے ارکان کو برطرف کرنے کا اختیار
برقرار رہے گا۔ کانگریس کی اکثریت اس اختیار کو براہِ راست اپنے ہاتھ میں نہیں لے
سکتی۔
خارجہ پالیسی اور ایران جنگ پر دباؤ بڑھ سکتا ہے
ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں فوری اور مکمل تبدیلی کا امکان
صرف کانگریس میں اکثریت تبدیل ہونے سے پیدا نہیں ہوتا، کیونکہ صدر کو سفارتی
معاملات چلانے اور مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کی حیثیت سے اہم اختیارات حاصل
رہتے ہیں۔ تاہم جنگی کارروائیوں کے لیے فنڈز، فوجی اخراجات، پابندیوں اور متعلقہ
قوانین میں کانگریس کا کردار اہم ہے۔ ڈیموکریٹس ایران کے خلاف جنگ پر انتظامیہ سے
وضاحت طلب کر سکتے ہیں، جنگی اختیارات سے متعلق قراردادیں لا سکتے ہیں اور جنگ
جاری رکھنے کے لیے مختص رقوم پر شرائط عائد کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ایران کے معاملے میں یہ دباؤ خاص طور پر نمایاں ہو سکتا ہے۔ انتخابی
نتائج کے بعد امریکی میڈیا کی رپورٹنگ میں ایران جنگ اور اس کے معاشی اثرات کو
ووٹرز کی ناراضی کے اہم عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔ ڈیموکریٹس جنگ کے اخراجات،
امریکی شہریوں پر پڑنے والے معاشی بوجھ اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی حکمتِ عملی پر
سوال اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کانگریس کی نئی اکثریت کے
باعث امریکا لازماً ایران کے ساتھ جنگ ختم کر دے گا۔ اس کا انحصار صدر کے فیصلوں،
جنگی صورتِ حال اور کانگریس میں ہونے والی قانون سازی پر ہوگا۔
ٹیرف، امیگریشن اور داخلی پالیسیوں میں ڈیموکریٹس کا کیا اختلاف ہے؟
ڈیموکریٹس کا مؤقف رہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے درآمدی اشیا پر بھاری
محصولات عائد کرنے سے امریکی صارفین، کاروباری اداروں اور کسانوں پر اضافی مالی
بوجھ پڑتا ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر
نے ’’اینڈ ٹرمپ ٹیرف ٹیکس ایکٹ‘‘ کے ذریعے ان محصولات کو واپس لینے کی کوشش بھی
کی۔ وسط مدتی انتخابات کے بعد ڈیموکریٹس کانگریس میں اس پالیسی کے خلاف مزید
سماعتیں اور قانون سازی کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم صدر کے ویٹو اختیار کے باعث اسے
ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اسی طرح سے ڈیموکریٹس نے غیرقانونی تارکینِ وطن کے خلاف ٹرمپ
انتظامیہ کی سخت کارروائیوں، بڑے پیمانے پر ملک بدری اور امیگریشن اینڈ کسٹمز
انفورسمنٹ (آئس) کے طریقۂ کار پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ
امیگریشن قوانین پر عمل درآمد انسانی حقوق، قانونی تقاضوں اور مناسب عدالتی نگرانی
کے تحت ہونا چاہیے۔ تاہم ڈیموکریٹس کے اندر بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ آئس کو
ختم کیا جائے یا اس کے اختیارات اور طریقۂ کار میں اصلاحات کی جائیں۔ نئی کانگریس
میں وہ امیگریشن اداروں کے بجٹ اور اختیارات پر زیادہ سخت نگرانی کر سکتے ہیں۔
کیا ٹرمپ کا مواخذہ ہو سکتا ہے؟
انتخابات کے بعد سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ڈیموکریٹس صدر ٹرمپ کے
خلاف مواخذے کی کارروائی بھی شروع کر سکتے ہیں؟ آئینی طور پر ایسا ممکن ہے، کیونکہ
امریکی ایوانِ نمائندگان کو صدر کے مواخذے کا اختیار حاصل ہے۔ اگر ایوان کے ارکان
کی سادہ اکثریت مواخذے کی قرارداد یا الزامات کی منظوری دے دے تو معاملہ سینیٹ میں
مقدمے کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جہاں صدر کے خلاف الزامات پر سماعت ہوتی ہے۔ لیکن
مواخذہ اور صدارت سے برطرفی دو الگ مراحل ہیں۔ صدر کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ
میں موجود ارکان کے دو تہائی ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ اس لیے ڈیموکریٹس کو دونوں
ایوانوں میں اکثریت ملنے کے باوجود ٹرمپ کو صدارت سے ہٹانا آسان نہیں ہوگا۔ اگر
سینیٹ میں انہیں دو تہائی حمایت حاصل نہ ہو تو مواخذے کی کارروائی کے باوجود صدر
اپنے عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔
اس کے باوجود مواخذے کی کارروائی سیاسی طور پر اہم ہو سکتی ہے۔
ڈیموکریٹس انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کے دوران ایسے شواہد سامنے لانے کی کوشش کر
سکتے ہیں جنہیں وہ آئینی خلاف ورزی، اختیارات کے غلط استعمال یا دیگر سنگین
الزامات کی بنیاد قرار دیں۔ اس مرحلے پر مواخذے کا امکان موجود ضرور ہے، لیکن اسے
یقینی یا فوری نتیجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اس کا انحصار تحقیقات کے نتائج،
ڈیموکریٹس کی سیاسی حکمتِ عملی اور سینیٹ میں ممکنہ حمایت پر ہوگا۔
اصل سیاسی کشمکش جنوری 2027 سے شروع ہوگی
انتخابی نتائج کے باوجود نئی کانگریس فوری طور پر اپنا مکمل کردار
ادا نہیں کرے گی۔ نومنتخب ارکان 3 جنوری 2027 کو حلف اٹھائیں گے، جس کے بعد ایوانِ
نمائندگان اور سینیٹ میں نئی قیادت اور کمیٹیوں کی تشکیل کا عمل مکمل ہوگا۔ اس وقت
تک موجودہ کانگریس کام کرتی رہے گی۔ اس عبوری عرصے میں وفاقی حکومت کے اخراجات اور
فنڈنگ کی منظوری جیسے معاملات بھی اہم ہوں گے، کیونکہ بجٹ پر اتفاق نہ ہونے کی
صورت میں سرکاری اداروں کی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔
نئی کانگریس کے قیام کے بعد واشنگٹن میں سیاسی محاذ آرائی کے امکانات
بڑھ جائیں گے۔ ڈیموکریٹس کے لیے انتظامیہ کے اقدامات کی تحقیقات، اہم تقرریوں کی
روک تھام اور متنازع پالیسیوں کے خلاف قانون سازی کی کوششیں اہم ہوں گی، جبکہ ٹرمپ
اپنے ویٹو اور انتظامی اختیارات کے ذریعے ان کوششوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس
صورتِ حال میں کئی معاملات پر سمجھوتے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
عالمی سیاست اور پاکستان پر ممکنہ اثرات
امریکی داخلی سیاست میں اس تبدیلی کے اثرات خارجہ تعلقات پر بھی پڑ
سکتے ہیں۔ ایران، اسرائیل، یوکرین، چین اور دیگر اہم عالمی معاملات پر ٹرمپ
انتظامیہ کو اب کانگریس میں زیادہ سوالات اور سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا
ہے۔ تاہم امریکی خارجہ پالیسی مکمل طور پر تبدیل ہونے کے بجائے بعض معاملات میں
زیادہ بحث، نگرانی اور داخلی سیاسی اختلافات کا شکار ہو سکتی ہے۔
پاکستان کے لیے بھی اس پیش رفت کو اہمیت حاصل ہے، کیونکہ امریکی
پالیسی سازی میں صدر کے ساتھ کانگریس کا کردار بھی اثرانداز ہوتا ہے۔ پاکستان سے
متعلق دفاعی تعاون، تجارت، امداد، انسانی حقوق اور خطے کی سلامتی جیسے معاملات میں
کانگریس کے ارکان اور متعلقہ کمیٹیوں کی دلچسپی اہم ہو سکتی ہے۔ اس لیے اسلام آباد
کو صرف وائٹ ہاؤس کے ساتھ روابط پر انحصار کرنے کے بجائے امریکی کانگریس میں دونوں
جماعتوں کے ساتھ رابطوں کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔ البتہ انتخابی نتائج کی بنیاد پر
پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات میں فوری تبدیلی کی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہوگا۔