امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے صدر ڈونالڈ
ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو بڑا انتخابی جھٹکا دیتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں
اکثریت حاصل کرلی ہے۔3 نومبر
کو ہونے والی ووٹنگ کے بعد سامنے آنے والے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس نے نہ صرف ایوانِ
نمائندگان میں مطلوبہ 218 نشستوں
کا ہندسہ عبور کیا بلکہ سینیٹ میں بھی کئی ایسی ریاستوں میں کامیابی حاصل کی جہاں
طویل عرصے سے ریپبلکن امیدوار کامیاب ہوتے رہے تھے۔ اس طرح ٹرمپ کی دوسری صدارتی
مدت کے بقیہ 2 برس کے لیے امریکی
حکومت میں طاقت کا توازن تبدیل ہوگیا ہے۔
یہ انتخابی نتائج اس لیے بھی اہم ہیں کہ ووٹنگ سے پہلے کانگریس کے
دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل تھی۔ 100 رکنی سینیٹ میں ریپبلکنز کے 53 اور ڈیموکریٹس
اور ان کے اتحادی آزاد ارکان کے مجموعی طور پر ۴۷؍
ارکان تھے، جبکہ 435 رکنی ایوانِ
نمائندگان میں ریپبلکنز کو 219 کے
مقابلے میں ڈیموکریٹس کی 214 نشستیں
حاصل تھیں۔ اس بار سینیٹ کی 35 اور
ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں
پر انتخاب ہوا۔
انتخابات سے قبل رائے عامہ کے جائزوں میں ڈیموکریٹس کو قومی سطح پر
برتری حاصل تھی۔ ریئل کلیئر پولنگ (RealClearPolling) کے
30 اکتوبر تک
کے سروے کے اوسط کے مطابق ایوانِ نمائندگان کے لیے ووٹروں میں ڈیموکریٹک امیدواروں
کی حمایت 52 فیصد اور ریپبلکن
امیدواروں کی حمایت 43.1 فیصد
تھی، یعنی ڈیموکریٹس کو 8.9 پوائنٹس
کی سبقت حاصل تھی۔ این پی آر، پی بی ایس نیوز اور مارسٹ پول کے 19 اور 20 اکتوبر کو
کیے گئے سروے میں بھی ممکنہ ووٹروں کے درمیان ڈیموکریٹس کو 52 فیصد اور ریپبلکنز کو 44 فیصد حمایت حاصل ہوئی تھی۔ تاہم قومی سطح کے یہ اعداد
و شمار ہر حلقے کے نتائج کی ضمانت نہیں تھے، کیونکہ انفرادی نشستوں کا فیصلہ مقامی
امیدواروں اور ریاستی انتخابی حالات پر منحصر تھا۔
سینیٹ کی دوڑ میں بھی ڈیموکریٹس نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کیں۔
ٹیکساس میں جیمز ٹالاریکو نے ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن کو شکست دی۔ یہ ریاست 2024 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ کے حق
میں تقریباً 14پوائنٹس سے گئی تھی، جبکہ 32 برس سے وہاں
کسی ڈیموکریٹ نے ریاست گیر انتخاب نہیں جیتا تھا۔ کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے
ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دی؛ اس ریاست میں ڈیموکریٹس نے آخری مرتبہ 1934 میں سینیٹ کی نشست جیتی تھی۔ آئیووا
میں جوش ٹوریک، جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز اور شمالی کیرولائنا میں رائے
کوپر کی کامیابیوں نے بھی سینیٹ میں ڈیموکریٹس کی پوزیشن مضبوط کی۔
مین میں ڈیموکریٹ ٹرائے جیکسن نے طویل عرصے سے سینیٹ کی نشست رکھنے
والی ریپبلکن سوزن کولنز کو شکست دی، جبکہ اوہائیو میں سابق ڈیموکریٹ سینیٹر شیروڈ
براؤن نے بھی کامیابی حاصل کی۔ مشی گن میں عبدالسید نے ریپبلکن مائیک راجرز کے
مقابلے میں کامیابی کا دعویٰ کیا، تاہم ابتدائی رپورٹنگ کے وقت بعض ریاستوں میں
ووٹوں کی گنتی اور نتائج کی حتمی تصدیق کا عمل جاری تھا۔ انتخابی مہم میں مہنگائی،
روزمرہ اخراجات، ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی اور ایران کے ساتھ جنگ اہم موضوعات رہے۔
ڈیموکریٹس نے الزام عائد کیا کہ درآمدات پر عائد محصولات اور ایران کے خلاف جنگ کے
نتیجے میں ایندھن اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ریپبلکنز
نے ڈیموکریٹک امیدواروں کو انتہا پسند قرار دیتے ہوئے ثقافتی اور سماجی معاملات کو
انتخابی بحث کا حصہ بنایا۔ تاہم رائے عامہ کے جائزوں میں ووٹروں کی بڑی تعداد نے
معیشت اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو اپنی بنیادی تشویش قرار دیا تھا۔
ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ ووٹ
ڈالتے وقت یہ تصور کریں کہ صدر خود امیدواروں کی جگہ بیلٹ پر موجود ہیں۔ نتائج
ریپبلکنز کے خلاف آنے کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ اگر وہ خود بیلٹ پر
ہوتے تو ان کی پارٹی بھاری اکثریت سے جیت جاتی۔ تاہم بعد میں انہوں نے انتخابی
نتائج تسلیم کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کو مبارک باد دی اور کہا کہ وہ امیگریشن سمیت بعض
معاملات پر ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ
اگر ڈیموکریٹس نے غیر معقول قانون سازی کی تو وہ اسے ویٹو کردیں گے۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہونے کے بعد ڈیموکریٹس
کو ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی نگرانی اور تحقیقات کے لیے زیادہ اختیارات مل
جائیں گے۔ سینیٹ میں اکثریت انہیں کابینہ کے ارکان، سفیروں اور وفاقی ججوں سمیت
صدر کی جانب سے نامزد اہم عہدے داروں کی تقرری روکنے کا اختیار بھی دے گی۔
کانگریسی کمیٹیاں سرکاری دستاویزات طلب کرسکتی ہیں، گواہوں کو طلب کرکے ان سے
سوالات کرسکتی ہیں اور انتظامیہ کے مختلف اقدامات کی تحقیقات کرسکتی ہیں۔
ڈیموکریٹک رہنماؤں نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ وہ ان اختیارات کے ذریعے ٹرمپ حکومت
کے فیصلوں کا جائزہ لیں گے۔
تاہم کانگریس میں اکثریت کا مطلب یہ نہیں کہ ڈیموکریٹس اپنی مرضی
کے تمام قوانین نافذ کر سکیں گے۔ کسی قانون کو منظور کرانے کے لیے ایوانِ
نمائندگان اور سینیٹ دونوں کی حمایت ضروری ہے، جبکہ صدر کو منظور شدہ قانون ویٹو
کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ صدارتی ویٹو کو ختم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو
تہائی اکثریت درکار ہوگی، جس کے لیے ڈیموکریٹس کو ریپبلکن ارکان کی حمایت بھی حاصل
کرنا پڑے گی۔ یوں انتخابات نے واشنگٹن میں سیاسی طاقت کا توازن ضرور بدل دیا ہے،
لیکن آئندہ 2برس میں وائٹ ہاؤس اور کانگریس
کے درمیان قانون سازی، نگرانی اور پالیسیوں پر اختلافات بڑھنے کا امکان ہے۔