انعام دینے والے ادارے نے جمعرات کو اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز
ان کے جرات مندانہ اور اختراعی تخلیقی کام پر دیا گیا ہے جس میں انہوں نے کلاسیکی
روایت کے ساتھ شوخ و شگفتہ مکالمے کے ذریعے عصری ادب کے لیے نئی اصناف تخلیق کیں۔ یہ انعام سویڈش اکیڈمی کی جانب سے دیا جاتا ہے اور
اس کی مالیت 1 کروڑ 20 لاکھ سویڈش کراؤن (تقریباً 12 لاکھ ڈالر) ہے۔
کینیڈین شاعرہ اور مضمون نگار کارسن Anne
Carson کے کام میں اکثر نظم، نثر، مکالمے اور ترجمے کا ایسا امتزاج نظر آتا
ہے جو کسی ایک صنف کی حدود میں نہیں سماتا۔ وہ
قدیم یونانی ادب کے تراجم کے حوالے سے خاص طور پر مشہور ہیں، جن کا ان کی تخلیقات
پر گہرا اثر ہے۔ ان کے کام کا دائرہ اوپیرا کے مسودوں سے لے کر ادبی تنقید اور
منظوم ناولوں تک پھیلا ہوا ہے، جن میں سنہ 1998 میں شائع ہونے والی ’آٹو
بائیوگرافی آف ریڈ‘ شامل ہے۔
ان کے اسلوب کی بہترین مثال سال 2019 کی تخلیق ’نورما جین بیکر آف
ٹرائے‘ "Norma Jeane Baker of Troy" ہے، جو ایک
پرفارمنس پیس ہے اور جس میں یوریپیڈیز Euripides’ playکے ڈرامے
’ہیلن‘ Helen کی ہیلن آف ٹرائے Helen of Troyاور مارلن
منرو Marilyn Monroe کی کہانیوں کو یکجا کیا گیا ہے۔اس
اعزاز کے ساتھ کارسن الیگزینڈر سولزینتسن Alexander
Solzhenitsyn، ایلس منرو Alice Munro
اور ارنسٹ ہیمنگوے Ernest Hemingway جیسی نامور شخصیات کی صف
میں شامل ہو گئی ہیں۔ یہ انعام کتاب دوستوں کی رائے کو اکثر تقسیم کر دیتا ہے۔ اکیڈمی کو گزشتہ 120 برسوں کے بعض عظیم ادیبوں،
جیسے لیو ٹالسٹائی Leo Tolstoy، ورجینیا وولف Virginia Woolf اور خورخے لوئس بورخیس Jorge Luis Borges، کو نظرانداز کرنے پر شدید تنقید کا سامنا رہا
ہے۔ اسے امریکی ادیبوں کو نظرانداز کرنے پر بھی ہدفِ تنقید بنایا جاتا ہے اگرچہ
سنہ 2016 میں اس نے گلوکار و نغمہ نگار باب ڈیلن Bob Dylan کو یہ انعام دیا تھا۔ اس
پر یہ الزام بھی لگتا رہا ہے کہ اس کے انتخاب ضرورت سے زیادہ مبہم ہوتے ہیں۔ اکیڈمی کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس نے مقبول انتخاب
بھی کیے ہیں جیسے سنہ 1982 میں کولمبیا کے گابریل گارسیا مارکیز Gabriel Garcia Marquez اور سنہ 2007 میں ڈورس
لیسنگ Doris
Lessing ۔ ان کے مطابق اکیڈمی کے کام کا ایک حصہ کم
معروف ادبی روایات کو سامنے لانا اور قارئین کو اپنے افق وسیع کرنے کی ترغیب دینا
بھی ہے۔
سویڈن کے ڈائنامائٹ کے موجد اور کاروباری شخصیت الفریڈ نوبیل Alfred Nobel کی وصیت کے تحت قائم کیے
گئے ادب، سائنس اور امن کے شعبوں کے یہ انعامات 1901 سے دیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ سال یہ انعام ہنگری کے ادیب لازلو
کراسناہورکائی Laszlo Krasznahorkai نے جیتا تھا جنہیں امریکی
نقاد سوزن سونٹاگ Susan Sontag نے ’قیامت کا ماہر‘ قرار دیا تھا۔