اوٹاوا ، لندن : کینیڈا کی وفاقی حکومت نے 2027
کے اختتام تک مجموعی طور پر 6 لاکھ 22 ہزار غیرملکیوں کو مستقل رہائش (پرمننٹ ریزیڈنسی)
دینے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے میں نئے تارکین وطن کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کے
ساتھ ساتھ پہلے سے کینیڈا میں مقیم عارضی رہائشیوں کو مستقل رہائش فراہم کرنے کے
لیے خصوصی اقدامات بھی شامل ہیں۔ کینیڈین نیوز ایجنسی سی آئی سی کے
مطابق کینیڈین حکام نے 5 نومبر کو 2027 سے 2029 تک کے لیے نئے امیگریشن منصوبے کی
تفصیلات جاری کی ہیں۔ اس کے تحت کینیڈا میں پہلے سے موجود 2 لاکھ عارضی رہائشیوں
کو 2027 کے اختتام تک مستقل رہائش دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ 2027 کے
دوران 4 لاکھ 22 ہزار نئے مستقل رہائشیوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔
کینیڈا کے سرکاری ادارے امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ
سٹیزن شپ کینیڈا کی ویب سائٹ پر جاری معلومات کے مطابق حکومت نے نئے عارضی
رہائشیوں کی آمد کے لیے بھی سالانہ 3 لاکھ 70 ہزار کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس میں ہر
سال 2 لاکھ 20 ہزار غیرملکی کارکنوں اور زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ لاکھ بین الاقوامی
طلبہ کو کینیڈا آنے کی اجازت دینے کا منصوبہ شامل ہے۔ حکومت کے خصوصی پروگرام کے
تحت مستقل رہائش حاصل کرنے والے 2 لاکھ افراد میں سے ایک لاکھ نشستیں ہنرمند
کارکنوں کے لیے مختص کی گئی ہیں۔ ان افراد کا انتخاب صوبائی نامزدگی پروگرام (پی
این پی) کے ذریعے کیا جائے گا، جس میں کینیڈا کی صوبائی اور علاقائی حکومتیں بھی
اپنا کردار ادا کریں گی۔
اس پروگرام کا بنیادی مقصد ملک میں پہلے سے
موجود ایسے عارضی رہائشیوں کو مستقل رہائش کا موقع فراہم کرنا ہے جو کینیڈا کی
معیشت اور افرادی قوت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لیبر مارکیٹ
کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف شعبوں میں ہنرمند افراد کی دستیابی یقینی
بنانے کی کوشش بھی کی جائے گی۔ کینیڈا کی حکومت نے ملک کے فرانسیسی بولنے والے
علاقوں، خصوصاً صوبہ کیوبیک سے باہر فرانسیسی زبان بولنے والے مستقل رہائشیوں کی
تعداد بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ حکومت نے 2025 میں شروع کیے گئے دو خصوصی
پروگراموں کے تحت بھی اہل افراد کو مستقل رہائش دینے کا وعدہ برقرار رکھا ہے۔ ان
پروگراموں کے تحت کینیڈا میں پہلے سے مقیم ایک لاکھ 15 ہزار تک تحفظ کے مستحق
افراد اور 33ہزار کارکنوں کو مستقل رہائش فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔ حکام
کے مطابق ان اقدامات کے ذریعے امیگریشن نظام کو زیادہ منظم بنانے اور مستقل رہائش
کے خواہش مند افراد کے لیے واضح راستے فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب برطانیہ نے مخصوص ممالک سے آنے والے پناہ
گزینوں کے لیے نئے اسپانسر شپ پروگراموں کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت تعلیم اور
ملازمت کے ذریعے بھی آنے کا موقع ہے۔ کمیونٹی
گروپس، جامعات اور ملازمت فراہم کرنے والے اداروں کے ذریعے مخصوص ممالک کے پناہ
گزین برطانیہ آسکیں گے، یو این ایچ سی آر نے اسپانسرشپ کے نام پر رقم مانگنے والوں
کو فراڈ قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق برطانوی
حکومت نے مخصوص ممالک سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کو برطانیہ آنے کا موقع
فراہم کرنے کے لیے اسپانسرشپ کے نئے راستوں کا اعلان کیا ہے۔ ان پروگراموں کے تحت
پناہ گزین کمیونٹی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور ملازمت فراہم کرنے والی کمپنیوں کے
تعاون سے برطانیہ منتقل ہوسکیں گے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) پاکستان
کی جانب سے جاری کردہ اطلاع کے مطابق برطانوی حکومت نے پناہ گزینوں کی آمد کے لیے
تین مختلف اسپانسرشپ پروگرام متعارف کرائے ہیں، جن کا انتظام اور نفاذ خود برطانوی
حکومت کررہی ہے۔ ان میں پہلا پروگرام کمیونٹی اسپانسرشپ ہے، جس کے تحت کمیونٹی
گروپس اور مختلف تنظیمیں پناہ گزینوں کی برطانیہ منتقلی میں معاونت کرسکیں گی۔ دوسرے
پروگرام کو ریفیوجی اسٹڈی روٹ کا نام دیا گیا ہے، جس کے تحت شریک جامعات اور اعلیٰ
تعلیمی اداروں کے ذریعے پناہ گزینوں کو برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم
کیا جائے گا۔
تیسرا پروگرام ریفیوجی ورک روٹ ہے، جس کے تحت ایسے آجر اور کمپنیاں
جو ملازمت کے مواقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں، پناہ گزینوں کی برطانیہ منتقلی
میں اسپانسر کا کردار ادا کرسکیں گی۔ یو این ایچ سی آر نے واضح کیا ہے کہ ان تینوں
پروگراموں کے تحت پناہ گزینوں کی شناخت، انتخاب یا ان کے نام برطانوی حکام کو
بھیجنے کے عمل میں ادارے کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ یہ پروگرام برطانوی حکومت نے
خود تیار کیے ہیں اور ان پر عمل درآمد کی ذمہ داری بھی اسی کی ہے۔ دوسری جانب یو
این ایچ سی آر نے پناہ گزینوں کو خبردار کیا ہے کہ برطانیہ منتقلی یا اسپانسرشپ کا
انتظام کرنے کے دعوے دار کسی بھی شخص کو رقم ادا نہ کریں۔ ادارے کے مطابق ایسے
دعوے دھوکا دہی پر مبنی ہیں اور کسی کو رقم دے کر برطانیہ میں آباد ہونے کی ضمانت
حاصل نہیں کی جاسکتی۔ ادارے نے دھوکا دہی کے ایسے واقعات کی اطلاع دینے کے لیے ای
میل ایڈریس pakisfrd@unhcr.org بھی
جاری کیا ہے۔
یو این ایچ سی آر پاکستان نے تحفظ سے متعلق فوری مدد کے خواہش مند
افراد کے لیے بھی رابطے کی سہولت فراہم کی ہے۔ ایسے افراد ای میل pakisprt@unhcr.org پر
رابطہ کرسکتے ہیں، جبکہ ٹول فری ہیلپ لائن 0800 68877 پر
بھی مدد حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ ہیلپ لائن پیر سے جمعہ صبح 8 بجے سے رات 8 بجے تک،
جبکہ ہفتہ اور اتوار صبح 10 بجے سے شام 5 بجے تک فعال رہتی ہے۔ ادارے نے پناہ
گزینوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسپانسرشپ اور برطانیہ منتقلی سے متعلق معلومات کے لیے
صرف سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں اور کسی بھی غیرمصدقہ دعوے یا مالی مطالبے کا
شکار نہ ہوں۔