بحرالکاہل میں غیر معمولی حد تک بڑھتے ہوئے درجہ
حرارت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مشرقی ایشیا میں طاقتور سمندری طوفانوں کی
شدت اور تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران فلپائن، تائیوان، چین
اور جاپان میں یکے بعد دیگرے آنے والے طوفانوں سے درجنوں افراد ہلاک، ہزاروں بے
گھر اور بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے اور زرعی شعبے کو نقصان پہنچا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اس غیر
معمولی موسمی صورتحال کی بڑی وجہ ال نینو کا موسمیاتی رجحان ہے، جس میں بحرالکاہل
کے مشرقی حصے کا پانی غیر معمولی طور پر گرم ہوجاتا ہے اور ہواؤں کے معمول کے نظام
میں تبدیلی آتی ہے۔ برطانوی محکمہ موسمیات نے رواں سال کے ال نینو کو اپنی یادداشت
کے مضبوط ترین واقعات میں سے ایک قرار دیا ہے، جس کے فروری یا مارچ تک جاری رہنے
کا امکان ہے۔ اکتوبر میں پانچویں درجے کے سمندری طوفان چمپی نے
تائیوان کا رخ کیا۔ اس کی ہواؤں کی رفتار 295 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی، تاہم
طوفان جزیرے سے ٹکرائے بغیر گزر گیا۔ اس کے باوجود ہانگ کانگ، تائیوان اور جاپان
میں سیکڑوں پروازیں منسوخ ہوئیں جبکہ جاپان کے اوکیناوا جزائر میں 15 ہزار گھروں
کی بجلی منقطع ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق اگست میں سپر ٹائیفون ڈولفن 16 روز
تک بحرالکاہل میں سفر کرنے کے بعد مشرقی چین سے ٹکرایا، جس سے شدید سیلاب اور جانی
نقصان ہوا۔ جون میں جاپان کو بیک وقت 2 طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث 10
لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا۔ ماہرین کے مطابق گرم سمندری پانی طوفانوں کو زیادہ توانائی فراہم
کررہا ہے۔ رواں سال جنوب مشرقی اور مشرقی ایشیا میں سمندری طوفانوں کی مجموعی شدت
گزشتہ 30 سال کی اوسط سے تقریباً 2 گنا ہونے کا امکان ہے۔ فلپائن میں موسمیاتی ماہرین کی تحقیق کے مطابق درجہ حرارت بڑھنے سے
طوفانوں کے دوران مجموعی بارش میں 26 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔ جاپان اور چین نے حفاظتی
اقدامات تیز کردیے ہیں جبکہ فلپائن سمیت خطے کے دیگر ممالک نے غذائی اجناس، خصوصاً
چاول کی پیداوار کو ممکنہ نقصان سے بچانے کی تیاری شروع کردی ہے۔