سوڈان کے
دارفور میں شہری تنظیموں نے قحط کی سنگین صورتحال سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ
لاکھوں افراد، خصوصاً خواتین، بچوں اور بزرگوں کی زندگیاں بھوک اور غذائی قلت کے
باعث خطرے میں ہیں۔ دارفور میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم کے مطابق جبل مرہ،
طویلۃ، عین سیرو اور ان سے ملحقہ مہاجر کیمپوں میں صورتحال تباہ کن حد تک پہنچ چکی
ہے، جہاں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے باعث اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ تنظیم
کے مطابق امدادی راستے بند ہونے اور شہریوں تک انسانی امداد کی رسائی متاثر ہونے
سے مہاجر کیمپوں کے مکین شدید غذائی اور طبی بحران کا شکار ہیں۔ کم بارش، فصلوں کی
کاشت متاثر ہونے، متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ، آلودہ پینے کے پانی، طبی مراکز کی کمی
اور ادویات کی قلت نے صورتحال مزید سنگین کردی ہے۔ تنظیم نے دعویٰ کیا کہ بعض
مہاجر کیمپوں میں روزانہ 10 سے 20 افراد بھوک اور غذائی بحران کے باعث جان سے جا
رہے ہیں۔ تنظیم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے
ہوئے کہا ہے کہ انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے بند راستے اور گزرگاہیں
کھولی جائیں اور سوڈانی فوج و ریپڈ سپورٹ فورسز کو انسانی حقوق کی پاسداری پر
مجبور کیا جائے۔