صدارتی
انتخابات اور 2027 کے بجٹ سے متعلق سیاسی کشمکش نے بھی عوام اور کاروباری حلقوں میں
غیر یقینی بڑھا دی ہے، مہنگائی، توانائی کی بلند قیمتوں اور بڑھتی ہوئی معاشی بے یقینی
کے باعث فرانس میں صارفین نے اپنے اخراجات محدود کرنا شروع کردیئے، جس سے کاروباری
سرگرمیوں اور ملکی معاشی نمو پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ غیر ملکی خبر
رساں ادارے کے مطابق فرانس کے ریسٹورنٹس
اور دیگر کاروباروں میں صارفین کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھی جارہی ہے۔ بعض گاہک
مکمل کھانا آرڈر کرنے کے بجائے اسٹارٹرز آپس میں تقسیم کررہے ہیں، دو افراد ایک
اسٹیک شیئر کررہے ہیں جبکہ بعض لوگ دوپہر کے کھانے کے ساتھ شراب لینے سے بھی گریز
کررہے ہیں۔ پیرس کے ایک ریسٹورنٹ کے مالک ڈیوڈ زینوڈا کا کہنا ہے کہ صارفین کی
قوتِ خرید انتہائی محدود ہوگئی ہے، جبکہ صرف وہ کیفے زیادہ بھرے نظر آتے ہیں جہاں
بیئر نسبتاً سستی دستیاب ہے۔ فرانس میں صارفین کا خرچ ملکی مجموعی پیداوار (GDP) کا
تقریباً نصف ہے، اس لیے عوامی اخراجات میں کمی معیشت کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔
صارفین کی خریداری سے حاصل ہونے والا ویلیو ایڈڈ ٹیکس بھی حکومت کی آمدنی کا اہم
ذریعہ ہے۔ یہ بھی پڑھیں:فضائی حدود بھی بند،عرب
ممالک میں نیا محاذ کھل گیا ستمبر
میں صارفین کے لیے قرض فراہم کرنے والی کمپنی Cofidis کے
سروے کے مطابق 60 فیصد فرانسیسی شہریوں کا خیال ہے کہ مہنگائی کی رفتار بڑھ رہی
ہے، جبکہ 58 فیصد نے غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور 54 فیصد نے قیمتوں پر زیادہ
توجہ دینے کا بتایا۔ سروے میں نصف سے زائد افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ ایک
سال کے دوران ان کی قوتِ خرید مزید خراب ہوسکتی ہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں ایسے
افراد کی شرح میں 10 فیصد پوائنٹس اضافہ ہوا ہے۔ معاشی ماہرین اور کاروباری
رہنماؤں کے مطابق صارفین کا محتاط رویہ فرانسیسی معیشت کی بحالی کی راہ میں رکاوٹ
بن سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں اور اجرتوں میں کمزور اضافہ بھی شہریوں کی
خرچ کرنے کی صلاحیت کو متاثر کررہا ہے۔ دوسری جانب اگلے سال ہونے والے صدارتی
انتخابات اور 2027 کے بجٹ سے متعلق سیاسی کشمکش نے بھی عوام اور کاروباری حلقوں میں
غیر یقینی بڑھا دی ہے، جبکہ حکومت کو تقسیم شدہ پارلیمان سے بجٹ منظور کرانے کے لیے
پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔