اخبار نیویارک
ٹائمز نے رپورٹ دی کہ امریکی نائب صدر "جے ڈی وینس"، نے گذشتہ مہینوں میں
ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر دنیا کے مختلف علاقوں میں امریکہ کے متعدد سینئر
فوجی کمانڈروں سے براہ راست رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ اور
اس کے جاری رہنے کے امکانات کے بارے میں اپنے صریح اور بلا لحاظ جائزے پیش کریں۔ اس
رپورٹ کے مطابق، وینس ان گفتگوؤں میں سرکاری رپورٹوں اور وائٹ ہاؤس پر چاپلوسی ماحول سے مختلف جائزے حاصل کرنے کا خواہاں تھا
اور اس نے کمانڈروں سے کہا کہ وہ کارروائی جاری رکھنے کی امریکی صلاحیت، امریکی
افواج پر پڑنے والے دباؤ کی سطح اور جنگ میں مقرر کردہ اہداف کے حصول کے امکان کے
بارے میں سیاسی تحفظات کے بغیر بات کریں۔
ان مکالموں سے
باخبر افراد نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ان میں سے بعض جائزوں نے وینس کو ایران
کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی مجموعی حکمت عملی اور اس کی کامیابی کے امکانات کے بارے
میں گہری تشویش میں مبتلا کر دیا۔ یہ انکشافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں کہ حالیہ
دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے معمول کے مطابق دہرائی جانے والی بڑھکیں پھر بھی
دہرائی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ نومبر میں وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ ختم ہو
جائے گی کیونکہ اس کے دعوے کے مطابق "ایرانیوں مزید مزاحمت کی تاب نہیں
ہے"۔
گذشتہ روز بھی
اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا کہ حقیقت ٹرمپ کے الفاظ کے بالکل برعکس ہے اور وائٹ
ہاؤس کے حکام اور ٹرمپ کے مشیروں نے اس کو بتایا ہے کہ ایرانی شدید مزاحمت کر رہے
ہیں اور جنگ ممکنہ طور پر اس کی صدارت کے اختتام یعنی 2029 تک جاری رہ سکتی ہے۔ اس
اخبار نے چند باخبر امریکی حکام کے حوالے سے فاش کیا کہ "جے ڈی وینس اور
مارکو روبیو اور دیگر حکام نے وائٹ ہاؤس میں خفیہ طور پر ٹرمپ کے ساتھ اس بارے میں
بات چیت کی ہے اور کہا ہے کہ تہران پابندیوں، محاصرے اور فوجی حملوں کا مقابلہ کر
سکتا ہے اور جنگ حتیٰ کہ 2029 تک جاری رہ سکتی ہے"۔
نیویارک ٹائمز کی
رپورٹ ایسے وقت میں شائع ہوئی ہے جب اس سے قبل بھی خطے میں انٹرسیپٹر میزائلوں اور
فضائی دفاعی گولہ بارود کے ذخائر کی شدید قلت پر سینئر امریکی کمانڈروں کی تشویش
کے بارے میں رپورٹیں شائع ہو چکی تھیں۔ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے:
کچھ رپورٹوں کے مطابق مغربی ایشیا میں امریکی افواج کے سینئر کمانڈر، "بریڈ
کوپر" Brad Cooper اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ
فضائی حملوں کی صورت حال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب اس کے اثرات بری طرح کم ہم
چکے ہیں اور ایسے قابل ذکر اہداف محدود ہو گئے ہیں جو فضائی حملوں کے ذریعے حاصل
کئے جا سکیں۔
اس اخبار نے مزید
لکھا: اسی دوران، وینس ـ جو جنگ شروع ہونے سے قبل بھی امریکہ کے طویل المدتی فوجی
تنازعات کا ناقد تھا ـ حالیہ ہفتوں میں فوجی اور سفارتی ذرائع کے بیک وقت استعمال
کی ضرورت پر زور دیتا رہا ہے۔ وینس نے آبنائے ہرمز میں تنازعات کے جاری رہنے کے
بارے میں بھی خبردار کیا تھا اور کہا تھا کہ حتیٰ کہ جہازوں پر محدود حملے بھی بعض
کمانڈروں اور جہاز ران کمپنیوں کو اس راستے سے گذرنے سے باز رکھ سکتے ہیں جو امریکہ
نے تجویز کیا ہے۔
اس رپورٹ میں یہ
بھی کہا گیا ہے کہ وینس کے فوجی کمانڈروں کے ساتھ رابطوں کی اہمیت یہ ہے کہ یہ
مکالمے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی تیز رفتار فتح کے بیانئے سے مختلف بیانیہ
پیش کر رہے ہیں ہیں؛ ایسا بیانیہ جس کے مطابق، اگرچہ ایران کی فوجی طاقت کمزور ہو
گئی ہے، لیکن ساتھ ہی واشنگٹن کے گولہ بارود کے ذخائر، فضائی دفاعی صلاحیتیں،
افواج کی تعیناتی اور طویل مدتی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت بھی بالکل محدود ہو چکی
ہے۔