Politics
27 ستمبر لانگ مارچ: تحریک انصاف اور حکومت دونوں تیار
اب پاکستان کی سیاست میں ایک اہم ٹکراؤ بنتا دکھائی دے رہا ہے
- Reading time
- 2 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 5 ستمبر، 2026، 4:06 PM

Politics
اب پاکستان کی سیاست میں ایک اہم ٹکراؤ بنتا دکھائی دے رہا ہے

27 ستمبر 2026 کا معاملہ اب پاکستان کی سیاست میں ایک اہم ٹکراؤ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال برقرار رکھی ہے۔ پارٹی قیادت نے کارکنوں اور پارلیمانی نمائندوں کو تیاری تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مارچ کا بنیادی مطالبہ عمران خان کی رہائی اور ان سے متعلق دیگر سیاسی و عدالتی مطالبات ہیں۔ تاہم پی ٹی آئی کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں؛ بعض رہنماؤں کو 27 ستمبر کی تاریخ کے اعلان کا پہلے سے علم نہیں تھا، جبکہ خیبرپختونخوا کے کچھ حلقوں نے بھی تحفظات ظاہر کیے۔
دوسری طرف حکومتی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت بھی اس احتجاج کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، جبکہ پی ٹی آئی رہنما سلمان اکرم راجہ کے مطابق فی الحال حکومت سے مذاکرات کے لیے ماحول سازگار نہیں۔ تازہ طور پر لطیف کھوسہ نے بھی کہا ہے کہ 27 ستمبر کو خیبرپختونخوا سے بڑی تعداد میں لوگ اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، تاہم ان کے مطابق اس سے پہلے کوئی سیاسی پیش رفت بھی ممکن ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ 27 ستمبر تک حکومت مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی ہے یا انتظامی اقدامات کے ذریعے مارچ روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر دونوں جانب سخت مؤقف برقرار رہا تو 27 ستمبر ایک بڑا سیاسی اور انتظامی امتحان بن سکتا ہے۔
اگر آپ چاہیں تو میں 27 ستمبر لانگ مارچ کی مکمل حکمتِ عملی—پی ٹی آئی کے ممکنہ روٹ، حکومت کی ممکنہ حکمتِ عملی، اسلام آباد کی صورتحال اور کامیابی/ناکامی کے ممکنہ نتائج بھی تازہ رپورٹس کی بنیاد پر بتا سکتا ہوں۔