Environment
کیا ایٹمی ہتھیار زمین کو خطرناک شہابِ ثاقب سے بچا سکتے ہیں؟
زمین کو خلا سے آنے والے کسی بڑے شہابِ ثاقب کے خطرے سے بچانے کے لیے سائنس دانوں نے ایک نیا تجربہ کیا ہے
- Reading time
- 4 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 6 ستمبر، 2026، 8:34 AM

Environment
زمین کو خلا سے آنے والے کسی بڑے شہابِ ثاقب کے خطرے سے بچانے کے لیے سائنس دانوں نے ایک نیا تجربہ کیا ہے

زمین کو خلا سے آنے والے کسی بڑے شہابِ ثاقب کے خطرے سے بچانے کے لیے سائنس دانوں نے ایک نیا تجربہ کیا ہے۔ فٹ بال کے میدان کے برابر ایک بڑا شہابِ ثاقب کسی بڑے شہر کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سائنس دانوں نے طاقتور کمپیوٹر سمولیشنز کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اگر کوئی بڑا سیارچہ زمین سے ٹکرانے کی سمت میں بڑھ رہا ہو تو کیا ایٹمی دھماکے کو آخری دفاعی اقدام کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی ادارے لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری کے سائنس دان آئزیا سینٹی سٹیون اور ان کی ٹیم نے سپر کمپیوٹرز کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر 160 میٹر چوڑی چٹان کے قریب ایک میگا ٹن کا ایٹمی دھماکہ کیا جائے تو اس کے کیا اثرات ہوں گے۔ سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ ایٹمی بم کا چٹان سے براہِ راست ٹکرانا ضروری نہیں۔ سطح سے چند میٹر کے فاصلے پر کیا جانے والا دھماکہ بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ایٹمی دھماکے سے خارج ہونے والی تقریباً 70 سے 80 فیصد توانائی ایکس رے شعاعوں کی شکل میں نکلتی ہے۔ یہ انتہائی گرم شعاعیں چٹان کی سطح کو اس قدر گرم کر دیتی ہیں کہ اس کا کچھ حصہ بھاپ بن کر خلا میں اڑ جاتا ہے۔ جب یہ مادہ تیزی سے باہر نکلتا ہے تو شہابِ ثاقب کی رفتار اور سمت تبدیل ہو سکتی ہے، جبکہ اندر پیدا ہونے والا شدید دباؤ چٹان کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیتا ہے۔
اس عمل کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے سائنس دانوں نے کمپیوٹر پر تین مختلف ماڈل تیار کیے۔ انہوں نے چٹان کی ساخت اور شکل تیار کرنے کے لیے ایک ایسے شہابِ ثاقب کا ڈیٹا استعمال کیا جس کا حال ہی میں ناسا کے ایک مشن نے جائزہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دو حقیقی شہابِ ثاقب کے ٹکڑوں سے حاصل ہونے والی معلومات بھی ان ماڈلز میں شامل کی گئیں۔
پہلے تجربے میں دھماکہ چٹان سے 10 میٹر کے فاصلے پر کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں چٹان کا تقریباً 98 فیصد حصہ شدید متاثر ہوا اور زیادہ تر مادہ الگ ہو کر مختلف سمتوں میں پھیل گیا۔ دوسرے تجربے میں دھماکہ 25 میٹر کے فاصلے پر کیا گیا۔ اگرچہ دھماکہ زیادہ فاصلے پر تھا، لیکن شعاعیں ایک بڑے علاقے میں پھیلیں اور ابتدائی لمحوں میں چٹان کو خاصا نقصان پہنچا۔
تاہم سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کی کچھ حدود بھی ہیں۔ کمپیوٹر سمولیشنز اتنی پیچیدہ تھیں کہ صرف ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے کا جائزہ لینے کے لیے 1,680 کمپیوٹر پروسیسرز کو 59 دن تک مسلسل چلانا پڑا۔ اسی وجہ سے سائنس دان ابھی یہ معلوم نہیں کر سکے کہ طویل مدت میں چٹان کے ٹکڑوں کے ساتھ کیا ہوگا۔
ممکن ہے کہ یہ ٹکڑے خلا میں مختلف سمتوں میں بکھر کر بے ضرر ہو جائیں۔ تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ کششِ ثقل کے باعث کچھ ٹکڑے دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آ جائیں یا کوئی بڑا ٹکڑا پھر بھی زمین کی طرف آ جائے۔
یہ تحقیق سیاروی دفاع کے شعبے میں جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ سائنس دان پہلے ہی ایسے طریقوں پر کام کر رہے ہیں جن کے ذریعے ممکنہ طور پر خطرناک سیارچوں کا راستہ زمین تک پہنچنے سے پہلے تبدیل کیا جا سکے۔ ایٹمی دھماکے کو عام حل کے بجائے ایک انتہائی ہنگامی اور آخری درجے کے آپشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اصل سوال اب بھی یہی ہے کہ اگر کوئی بڑا سیارچہ واقعی زمین کی طرف بڑھ رہا ہو تو اسے روکنے کے لیے ہمارے پاس کتنا وقت ہوگا۔ نئی تحقیق کم از کم سائنس دانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دے رہی ہے کہ انتہائی خطرناک صورتِ حال میں زمین کے دفاع کے لیے کون سے امکانات موجود ہو سکتے ہیں۔