امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہی، بل کہ اس کے اثرات امریکی سیاست اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی حکمت عملی پر بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ 3 نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات میں ری پبلکنز کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت کا دفاع کرنا ہے، ایسے میں جنگ کے باعث بڑھتی ایندھن کی قیمتیں، مہنگائی اور عوامی مخالفت ٹرمپ کے لیے ایک مشکل سیاسی امتحان بن سکتی ہے۔
امریکا میں مڈ ٹرم انتخابات ہر دو سال بعد ہونے والے صدارتی انتخاب کے درمیان، یعنی صدر کی چار سالہ مدت کے تقریباً نصف پر منعقد ہوتے ہیں۔ ان انتخابات میں صدر کا انتخاب نہیں ہوتا بل کہ کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان کے تمام 435 ارکان ہر دو سال بعد انتخاب لڑتے ہیں، جب کہ سینیٹ کے 100 ارکان کی مدت چھ سال ہوتی ہے اور ہر دو سال بعد تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخاب ہوتا ہے۔
3 نومبر 2026 کو ہونے والے مڈ ٹرم انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں کے ساتھ سینیٹ کی 35 نشستوں پر بھی انتخاب ہوگا۔ اس وقت سینیٹ میں ری پبلکنز کو 53 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل ہے، جب کہ ڈیموکریٹس کے پاس 45 نشستیں اور دو آزاد ارکان ہیں، جو ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر رائے دیتے ہیں۔ سینیٹ کی موجودہ ترتیب میں ری پبلکن اکثریت برقرار رکھنے کی پوزیشن میں ہیں، تاہم 35 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں کئی مقابلے اس توازن کو بدل سکتے ہیں۔
مڈ ٹرم انتخابات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اگر صدر کی جماعت کانگریس میں اپنی اکثریت کھو دے تو صدر کے لیے قانون سازی اور سرکاری اخراجات کی منظوری حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ کانگریس کو وفاقی اخراجات کی منظوری دینے، قانون سازی کرنے اور انتظامیہ کی نگرانی کا اختیار حاصل ہے، اس لیے ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں مخالف جماعت کی اکثریت صدر کی پالیسیوں پر ایک اہم رکاوٹ بن سکتی ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ مڈ ٹرم انتخابات میں شکست کے بعد صدر اپنے اختیارات کھو دیتا ہے۔ صدر اپنی آئینی انتظامی طاقت، بشمول انتظامی احکامات جاری کرنے کا اختیار، برقرار رکھتا ہے، لیکن ان احکامات کی حدود قانون اور عدالتوں سے متعین ہوتی ہیں اور انہیں کانگریس کے بجٹ، قانون سازی اور نگرانی کے اختیارات کا سامنا رہتا ہے۔
چنانچہ اگر نومبر میں ری پبلکنز کانگریس میں اپنی موجودہ اکثریت برقرار رکھتے ہیں تو ٹرمپ کو قانون سازی، مالی وسائل اور اپنی پالیسیوں کے نفاذ کے لیے نسبتاً مضبوط سیاسی پوزیشن حاصل رہے گی۔ اس کے برعکس اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرلیتے ہیں تو ٹرمپ کو کانگریس میں زیادہ مزاحمت کا سامنا ہوگا اور اپنی ترجیحات آگے بڑھانے کے لیے اسے ڈیموکریٹس کی حمایت یا سیاسی سمجھوتے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کے خلاف فوجی دباؤ کے ساتھ معاشی پابندیاں بھی سخت کردی ہیں۔ اگست میں ایران کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی اور اس سے متعلق تجارت میں معاونت کرنے والے 60 اداروں پر پابندیاں عائد کی گئیں، جب کہ ایران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے دوسرے ملکوں کو بھی ثانوی پابندیوں کی دھمکی دی گئی۔
آبنائے ہرمز کے گرد امریکی بحری ناکا بندی بھی جاری ہے، جس کا مقصد ایران کی تیل کی برآمدات پر دباؤ بڑھانا ہے۔ تاہم امریکا کی جانب سے ایران پر حملے بھی جاری ہیں اور امریکی قیادت نے مزید فوجی کارروائی کا راستہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اپنے تازہ بیان میں کہا کہ معاشی، فوجی، سفارتی اور خفیہ دباؤ سمیت ہر ممکن راستہ زیرِ غور ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ موجودہ صورتِ حال کو جنگ قرار نہیں دیں گے اور اس وقت کوئی فعال فائرنگ نہیں ہو رہی۔
دوسری جانب ایران جنگ کے اثرات اب امریکی شہریوں کی روزمرہ زندگی میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں۔ جمعے کو امریکا میں ڈیزل کی اوسط قیمت 5.85 ڈالر فی گیلن کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جو جون 2022 کے سابقہ ریکارڈ سے بھی زیادہ ہے۔ عام پٹرول کی قیمت بھی بڑھ کر تقریباً 4.15 ڈالر فی گیلن ہوگئی ہے، جب کہ ایک سال پہلے یہ تقریباً 3.20 ڈالر تھی۔
ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں۔ امریکا میں مال بردار ٹرکوں کے علاوہ زرعی مشینری، ریل اور بحری نقل و حمل میں بھی ڈیزل بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے ایندھن مہنگا ہونے سے سامان کی ترسیل کی لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔
اس اضافی لاگت کا اثر خوراک، گوشت اور روزمرہ استعمال کی دوسری اشیا کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ کھیتوں سے منڈیوں اور دکانوں تک اشیا کی ترسیل کے لیے ٹرکوں اور زرعی مشینری پر بڑھنے والا خرچ بالآخر صارفین تک منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔
یوں ایران جنگ اب امریکی شہریوں کے لیے صرف بیرونِ ملک جاری ایک فوجی تنازع نہیں رہی، بل کہ مہنگے ایندھن اور بڑھتے گھریلو اخراجات کی صورت میں اس کے اثرات ان کی روزمرہ زندگی تک پہنچ رہے ہیں، جو نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات سے پہلے ٹرمپ اور ری پبلکن پارٹی کے لیے ایک اہم سیاسی چیلنج بن سکتے ہیں۔
جنگ ٹرمپ کے لیے انتخابی مسئلہ کیوں بن رہی ہے؟
وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ اگر نومبر سے پہلے ایران جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو جنگ مخالف ووٹرز کے ساتھ ساتھ مہنگائی سے پریشان امریکی شہری بھی ری پبلکنز کے خلاف ووٹ دے سکتے ہیں۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اگست کے آخر میں ’رائٹرز‘ اور ’اِپسوس‘ کی ایک جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ صرف 31 فی صد امریکی ایران جنگ کی حمایت کرتے ہیں، جب کہ 63 فی صد اس کے مخالف ہیں۔ اسی عرصے میں صدر ٹرمپ کی مقبولیت بھی جنگ شروع ہونے سے پہلے کے 40 فی صد سے کم ہوکر 33 فی صد رہ گئی۔
ٹرمپ نے جنگ شروع ہونے کے ابتدائی دنوں میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ صرف چار یا پانچ ہفتے جاری رہے گی، لیکن تنازع چھ ماہ تک پہنچ چکا ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھا اور امریکا میں ایندھن کی قیمتیں بھی بلند ہوئیں۔
یہ صورت حال ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر خاصی مشکل ہے، کیونکہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران توانائی کی قیمتیں نمایاں طور پر کم کرنے اور امریکا کو غیر ضروری جنگوں سے دور رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں۔ ایندھن اور نقل و حمل کی لاگت بڑھنے سے اشیائے خورونوش، تیار شدہ مصنوعات اور روزمرہ استعمال کی دوسری چیزیں بھی مہنگی ہوتی ہیں، جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
اگست میں پولیٹیکو کے ایک جائزے کے مطابق 61 فی صد امریکیوں کا کہنا تھا کہ ایران جنگ نے ان کے خاندان کے لیے زندگی مزید مہنگی کردی ہے۔ ایک ماہ پہلے ایسے افراد کی شرح 57 فی صد تھی۔
یوں جنگ اب صرف خارجہ پالیسی کا معاملہ نہیں رہی بل کہ امریکی ووٹر کی جیب سے بھی جڑ چکی ہے اور یہی پہلو نومبر کے انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
کیا ٹرمپ نومبر تک جنگ کو محدود رکھ سکتے ہیں؟
موجودہ حالات سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کم از کم نومبر تک جنگ کو مکمل پیمانے پر پھیلنے سے روکنا چاہتی ہے۔
واشنگٹن نے حالیہ ہفتوں میں ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی کوشش تیز کردی ہے، جب کہ آبنائے ہرمز کے گرد فوجی دباؤ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ٹرمپ نے محدود اور وقفے وقفے سے حملوں کا راستہ بھی اختیار کیا ہے تاکہ ایران پر دباؤ برقرار رہے لیکن تنازع دوبارہ مکمل جنگ کی شکل اختیار نہ کرے۔
تاہم تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ حکمت عملی خطرات سے خالی نہیں۔ واشنگٹن میں قائم مرکز برائے بین الاقوامی پالیسی سے وابستہ تجزیہ کار نگار مرتضوی کے مطابق ایران معاشی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالنے والا نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں فریق سمجھتے ہیں کہ وہ کشیدگی کو قابو میں رکھ سکتے ہیں، لیکن ہر نئی جھڑپ خطے میں وسیع جنگ کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
حالیہ امریکی حملوں میں جنوبی ایران کے علاقے کوہستک میں ایک شہری مکان بھی نشانہ بنا، جہاں ایک شادی کی تقریب جاری تھی۔ واقعے میں بچوں سمیت کم از کم چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔
دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے اعلیٰ حکام نے ایک تحریری جائزے میں وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ رفتار سے جنگ جاری رکھنا پائیدار نہیں اور اس سے دنیا کے دوسرے حصوں میں امریکی فوجی تیاری متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
امریکی خارجہ پالیسی کے ماہر تریتا پارسی کے مطابق حالیہ حملوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ واشنگٹن کی جنگی حکمت عملی ابھی تک واضح نہیں۔ ان کے بقول امریکا مسلسل ایک پالیسی سے دوسری پالیسی کی طرف منتقل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، پہلے وسیع معاشی پابندیاں عائد کی گئیں تاکہ مزید فوجی کارروائی کی ضرورت نہ پڑے، لیکن صرف چند دن بعد امریکا نے دوبارہ ایران پر بمباری شروع کردی۔
ایران کے پاس کیا راستے ہیں؟
ایران کے لیے بھی نومبر تک کا عرصہ غیر معمولی اہم ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان حملے جنگ کے ابتدائی ہفتوں کے مقابلے میں نسبتاً محدود رہے ہیں، تاہم کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خطرہ برقرار ہے۔
ایران ماضی میں بڑی فوجی طاقت کے مقابلے میں غیر متناسب جنگی حکمت عملی استعمال کرتا رہا ہے۔ نسبتاً کم لاگت والے ڈرونز کے ذریعے امریکی دفاعی نظاموں کو مہنگے وسائل استعمال کرنے پر مجبور کرنا، خلیج میں امریکی اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
سب سے اہم محاذ آبنائے ہرمز ہے، جہاں ایران نے سمندری آمدورفت میں خلل ڈالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس آبنائے سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے یہاں معمولی خلل بھی عالمی توانائی منڈیوں اور امریکی صارفین پر براہِ راست اثر ڈال سکتا ہے۔
اگر ایران امریکی یا علاقائی فوجی اڈوں، تجارتی جہازوں یا توانائی کی تنصیبات پر حملے جاری رکھتا ہے تو واشنگٹن پر زیادہ سخت جوابی کارروائی کے لیے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس طرح دونوں ملک ایک ایسے جوابی حملوں کے سلسلے میں داخل ہوسکتے ہیں جسے روکنا مشکل ہوگا اور جو دوبارہ بڑے پیمانے کی جنگ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوشش بھی تہران کو فوجی ردعمل پر آمادہ کرسکتی ہے۔
تریتا پارسی کے مطابق ایرانی حکام کو خدشہ ہوسکتا ہے کہ ٹرمپ انتخابات کے بعد دوبارہ بڑے پیمانے پر جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں اور فی الحال صرف نومبر کے انتخابات تک انتظار کر رہے ہیں۔
اگر تہران واقعی ایسا سمجھتا ہے تو اس کے لیے نومبر سے پہلے کشیدگی بڑھانے کی ایک وجہ پیدا ہوسکتی ہے، کیونکہ انتخابات سے قبل جنگ میں شدت ٹرمپ پر زیادہ سیاسی اور معاشی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
نومبر کے بعد کیا ہوگا؟
نومبر کے انتخابات کے نتائج ایران جنگ کے اگلے مرحلے کے لیے بھی اہم ہوں گے۔
الجزیرہ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام پہلے ہی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ 3 نومبر کے بعد ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں بڑھائی جائیں یا نہیں۔ تاہم مکمل جنگ دوبارہ شروع کرنے کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
اگر وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکنز کامیاب رہتے ہیں تو ٹرمپ کو فوجی کارروائی بڑھانے کے لیے نسبتاً زیادہ سیاسی گنجائش مل سکتی ہے۔ انتظامیہ انتخابی نتیجے کو جنگ کے لیے عوامی حمایت یا کم از کم اس کی مخالفت کی ناکافی شدت کے طور پر بھی دیکھ سکتی ہے۔ لیکن ری پبلکنز ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت کھو دیتے ہیں تو صورتِ حال پیچیدہ ہوجائے گی۔
کانگریس سرکاری اخراجات کی منظوری دیتی ہے، اس لیے ڈیموکریٹس کو کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت ملنے کی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے جنگ کے اخراجات کی منظوری مشکل ہوسکتی ہے۔
ڈیموکریٹس جنگ کے طریقہ کار کی تحقیقات، سماعتوں اور مزید فوجی اخراجات کے مطالبات کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں بھی آسکتے ہیں۔
تاہم ماہرین ایک دوسرے ممکنہ منظرنامے سے بھی خبردار کرتے ہیں۔ اگر ٹرمپ انتخابات میں شکست کھاتے ہیں تو ممکن ہے کہ وہ نومبر کے بعد جنگ محدود رکھنے کے سیاسی دباؤ سے آزاد محسوس کریں۔ اس صورت میں شکست کے بعد ایک کمزور صدر زیادہ محتاط ہونے کے بجائے زیادہ سخت ردعمل کا راستہ بھی اختیار کرسکتا ہے۔
تریتا پارسی کے مطابق ایران کے لیے یہ حساب کتاب الٹا بھی پڑ سکتا ہے۔ اگر انتخابات میں ٹرمپ کو شدید سیاسی شکست ہوتی ہے اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کا غلبہ ہوجاتا ہے تو ٹرمپ ایک ایسے صدر میں تبدیل ہوسکتے ہیں جو خود کو سیاسی طور پر گھرا ہوا محسوس کرتے ہوئے زیادہ بے چین اور غیر متوقع فیصلے کرے۔
یوں 3 نومبر کا امریکی انتخاب محض کانگریس کی نشستوں کا فیصلہ نہیں ہوگا۔ یہ اس بات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ محدود کشیدگی، معاشی دباؤ اور سفارتی راستے میں سے کس سمت آگے بڑھتا ہے۔
اس دوران سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا امریکا اور ایران نومبر تک موجودہ کشیدگی کو قابو میں رکھ سکیں گے، یا آبنائے ہرمز، بڑھتی ہوئی توانائی کی قیمتیں اور مسلسل جوابی حملے دونوں ملکوں کو ایک ایسی جنگ کی طرف دھکیل دیں گے جس کا سیاسی فیصلہ امریکی ووٹر سے پہلے ہی میدانِ جنگ میں ہونے لگے۔