یاسین ملک کی سزائے موت کی درخواست
کشمیری رہنما یاسین ملک نے بھارتی عدالت میں کہا ہے کہ وہ کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے 1990 کے قتل کے مقدمے میں مزید عدالتی کارروائی کا سامنا نہیں کریں گے اور عدالت سے اپنے لیے سزائے موت کی درخواست کی ہے۔
جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) کے چیئرمین یاسین ملک کو بھارتی ریاستی تحقیقاتی ادارے (SIA) نے سرلا بھٹ کے قتل کے مقدمے میں پانچ ملزمان میں شامل کیا ہے۔ بھارتی اور کشمیری میڈیا کے مطابق یاسین ملک نے دہلی کی تہاڑ جیل سے سری نگر کی خصوصی عدالت میں 25 صفحات پر مشتمل حلف نامہ جمع کرایا۔
حلف نامے میں یاسین ملک نے کہا کہ مقدمے کا دفاع نہ کرنے کے فیصلے کو جرم کا اعتراف یا استغاثہ کے الزامات کو تسلیم کرنا نہ سمجھا جائے۔ تاہم انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں سزائے موت دی جائے۔
یاسین ملک نے قتل کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے مبینہ JKLF نوٹ اور سرلا بھٹ کو سکیورٹی فورسز کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں نشانہ بنائے جانے کے دعوے کو بھی مسترد کیا۔
حلف نامے میں یاسین ملک نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق وہ گزشتہ آٹھ برس سے انہیں ٹیلی فون پر بات نہیں کر سکے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ وہ ان کی طویل قید کی وجہ سے اپنی زندگی کو بوجھل نہ بنائیں اور وقار اور امید کے ساتھ زندگی کا نیا باب شروع کریں۔
سرلا بھٹ 27 سالہ اسٹاف نرس تھیں جو سری نگر کے شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (SKIMS) میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔ انہیں اپریل 1990 میں اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تھا، جب جموں و کشمیر میں عسکریت پسندی عروج پر تھی اور وادی سے کشمیری پنڈتوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی بھی ہوئی۔
یاسین ملک کی جانب سے سزائے موت کی درخواست کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں لازماً پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ حتمی فیصلہ عدالت استغاثہ کے شواہد، قانونی مؤقف اور متعلقہ بھارتی قوانین کی بنیاد پر کرے گی۔