کینیڈا میں وفاقی حکومت
کی جانب سے بیرونی ممالک سے بڑے پیمانے پر ہنرمندوں اور نرسوں کو لانے کے بلند و
بانگ دعووں اور ریکارڈ امیگریشن پروگراموں کے باوجود، ملک میں نرسوں کی قلت تاریخ
کی بدترین اور سنگین ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جو کہ ایک دہائی (10 سال) پہلے کے
مقابلے میں پانچ گنا زیادہ سنگین ہے۔ کینیڈا کے قومی ادارہ شماریات (Statistics Canada) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ "Canada’s Health
Workforce" کے
مطابق، سال 2025 میں لائسنس یافتہ عملی نرسوں (LPNs) کی خالی آسامیوں کی شرح 12 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2016 میں یہ
شرح محض 2.5 فیصد تھی۔ اگرچہ یہ شرح 2023 کے تاریخی عروج (19 فیصد) سے کچھ کم ہوئی
ہے، تاہم یہ اب بھی دس سال پہلے کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ ہے، جس سے ظاہر ہوتا
ہے کہ مریضوں کی تعداد اور ہیلتھ کیئر کی طلب کے مقابلے میں نرسوں کی سپلائی
انتہائی نا کافی ہے اور امیگریشن پروگرامز اس بحران کو ٹالنے میں مکمل طور پر
ناکام رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، کینیڈا
نے 2024 میں ریکارڈ 4 لاکھ 83 ہزار سے زائد مستقل رہائشیوں (PR) کو داخلہ دیا، جس کا مقصد ہیلتھ کیئر اور دیگر شعبوں میں افرادی
قوت کی کمی کو دور کرنا تھا، لیکن امیگریشن حکام کی ایک اور رپورٹ "Immigrant
Nurses in Canada" نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2010 سے
2020 کے درمیان کینیڈا آنے والی غیر ملکی نرسوں میں سے صرف 63 فیصد ہی 2021 تک
نرسنگ کے پیشے سے وابستہ ہو سکیں، جبکہ 25 فیصد نرسیں یا تو بیروزگار رہیں یا پھر
ہیلتھ کیئر سے باہر انتہائی کم ہنرمند اور کم اجرت والی عام نوکریاں کرنے پر مجبور
ہوئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں پہلے سے کام کا تجربہ (Canadian work
experience)،
انگریزی زبان پر عبور اور تعلیمی اسناد کی کڑی جانچ پڑتال (credential recognition) ایسے عوامل ہیں جو غیر ملکی نرسوں کو ان کے اصل
پیشے میں داخل ہونے سے روکتے ہیں۔
اس بحران کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ
کینیڈا آنے والی اور نرسنگ کا ارادہ رکھنے والی نرسوں میں سے 84 فیصد کا تعلق
ایشیا (بشمول پاکستان، بھارت اور فلپائن) سے ہے، لیکن ایشیائی نرسوں کو نرسنگ کے
اصل شعبے میں ملازمتیں حاصل کرنے میں دیگر خطوں جیسے یورپ، امریکہ یا کیریبین
ممالک کی نرسوں کے مقابلے میں بہت زیادہ مشکلات اور کم کامیابی کی شرح کا سامنا
ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، سال 2025 میں پورے ہیلتھ کیئر سیکٹر (بشمول ڈاکٹرز،
نرسز اور دیگر عملہ) میں مجموعی طور پر 67,900 آسامیاں خالی رہیں، جو ملکی سطح پر
تمام خالی آسامیوں کا 13 فیصد بنتا ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں نے اس صورتحال پر
گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کینیڈین حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے ہیں کہ
کینیڈا لاکھوں تارکینِ وطن کو بلانے کے باوجود ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے فائدہ
اٹھانے اور ہسپتالوں میں نرسوں کی قلت کو دور کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے، جس
کے لیے امیگریشن کے پیچیدہ قوانین اور اسناد کی تصدیق کے دفتری نظام میں فوری
اصلاحات کی ضرورت ہے