کینیڈا نے اعلیٰ تعلیم کے خواہشمند غیر ملکی
طلبا، خصوصاً ماسٹرز اور پی ایچ ڈی امیدواروں کے لیے اسٹڈی پرمٹ کا عمل آسان اور
تیز کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ غیر ملکی خبر رساں
ایجنسی کے مطابق کینیڈین محکمہ امیگریشن کے مطابق پی ایچ ڈی امیدواروں کی اسٹڈی
پرمٹ درخواستوں پر دو ہفتوں کے اندر فیصلہ کیا جائے گا۔ نئی
پالیسی کے تحت یکم جنوری 2026 سے پبلک اداروں میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی پروگرامز
میں داخلہ لینے والے طلبا کو صوبائی یا علاقائی تصدیقی خط کی شرط سے بھی مستثنیٰ
قرار دیا گیا ہے۔ پالیسی کے مطابق
گریجویٹ طلبا اپنے اہلخانہ کو بھی کینیڈا لا سکیں گے، جبکہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد
پوسٹ گریجویشن ورک پرمٹ کے لیے بھی اہل ہوں گے۔
سرکاری اعداد و شمار کے
مطابق 2024 کے مقابلے میں کینیڈا میں بین الاقوامی طلبا کی مجموعی تعداد میں ایک
تہائی کمی ہوئی ہے، تاہم اسی عرصے میں گریجویٹ طلبا کا تناسب 12 فیصد سے بڑھ کر 21
فیصد ہوگیا۔ کینیڈین حکومت کے مطابق
پالیسی میں تبدیلی کا مقصد دنیا بھر سے باصلاحیت طلبا اور بہترین محققین کو کینیڈا
کی جانب راغب کرنا اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے شعبے میں ملک کی کشش برقرار رکھنا
ہے۔
دوسری جانب کینیڈین وزیراعظم کی
جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر امریکا سنجیدہ ہوجائے تو ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی Mark Carney کا کہنا ہے کہ امریکا کو
تجارتی مذاکرات شروع کرنے سے پہلے اپنے مشیروں کے ساتھ سنجیدہ ہونا ہوگا۔ امریکا
سے تجارتی کشیدگی اور ٹیرف عاید کرنے پر کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ امریکا دھمکی
آمیز رویہ ترک کرے تو بات چیت کے ذریعے دوبارہ خوشگوار ماحول پیدا ہوسکتا ہے۔
امریکا کے حالیہ اقدامات کسی طور بھی تعمیری نہیں ہیں۔ نیوز ایجنسیز کے مطابق
انہوں نے کہا کہ کینیڈا باہمی فائدے اور عزت پر مبنی تجارتی معاہدہ کرنے کو تیار
ہے کینیڈا کی اہم صنعتوں کو امریکی کمپنیوں کا ماتحت بنانےکی شرائط قابل قبول نہیں
ہیں۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ کینیڈا نے گزشتہ ماہ سے امریکی مصنوعات پر 50 فیصد
تک جوابی ٹیرف عاید کردیا ہے۔